حضرت سلطان الذاکرینؒ کے 32ویں سالانہ عرس مبارک کی اختتامی تقریب باوقار انداز میں منعقد،،قوم کو ذکرِ الٰہی، عشقِ رسول ﷺ، اور وحدتِ امت کا پیغام
لاہور،اسلام آ باد،ملتان،فیصل آباد: سلسلہ نقشبندیہ مجددیہ کے عظیم روحانی پیشوا، داعیِ عشقِ مصطفی ﷺ، اور مجددِ وقت حضرت خواجہ الطاف حسین نقشبندی مجددی المعروف سلطان الذاکرینؒ کے 32ویں سالانہ عرس مبارک کی اختتامی تقریب دربار عالیہ مرشد آباد شریف، لاہور میں روحانی فضا اور عقیدت و احترام کے ماحول میں منعقد ہوئی۔مرکزی و اختتامی نشست کی صدارت سجادہ نشین دربار عالیہ و سربراہ بزم المعصوم پاکستان الحاج پیر خواجہ محمد خالد محمود احمد نقشبندی مجددی نے کی۔ اس موقع پر ملک بھر سے جید علمائے کرام، مشائخِ عظام، سجادگان، اور ہزاروں عقیدت مند شریک ہوئے۔درگاہ عالیہ چورہ شریف کے سجادہ نشین پیر سید افضال حسین شاہ گیلانی میمان خصوصی تھے،جبکہ پیر صاحبزادہ سعید خالد الطافی،پیر صوفی صفدر منصور معصومی،علامہ صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی،علامہ حسنات احمد چشتی،پیر ڈاکٹر طاہر مسعود معصومی،صوفی شاہد دود معصومی،صوفی ریاض خان الطافی،صوفی عمر الطافی،صوفی کاشف فرحاج،صوفی اشرف معصومی،صوفی شمس معصومی،صوفی سید اسلم شاہ،پیر صوفی بشارت علی بھٹی معصومی،صوفی زبیر لیاقت معصومی،صوفی رانا اقبال الطافی،صوفی مرزا افضال حسین الطافی،صوفی نجیف اکبر،صوفی علی گوہر معصومی،صوفی زاہد معصومی و دیگر ممتاز دینی و روحانی شخصیات نے خصوصی شرکت کی۔صدارتی خطاب میں سجادہ نشین پیر خواجہ محمد خالد محمود احمد نقشبندی مجددی نے کہا کہ“ہمارے تمام معاشرتی، روحانی اور قومی مسائل کا واحد حل نظام مصطفی ﷺ کے عملی نفاذ میں پوشیدہ ہے۔ امت کو چاہیے کہ وہ تعلیماتِ نبوی ﷺ، سیرتِ اولیاء اور وحدتِ امت کو اپنا شعار بنائے۔ عالمِ اسلام اس وقت تک کفری طاقتوں کا مؤثر جواب نہیں دے سکتا جب تک وہ متحد اور منظم نہ ہو۔ جماعت اہل سنت پاکستا ن صوبہ پنجاب کے ترجمان پیرطریقت صاحبزادہ ذیشان کلیم معصومی،علامہ حسنات احمد چشتی و دیگر مقررین نے کہا کہذکرِ الٰہی، عشقِ رسول ﷺ، اور اولیاء اللہ کی تعلیمات انسانیت، محبت، اخلاص اور یگانگت کا پیغام ہیں۔اولیاء کرام کے آستانے آج بھی پرفتن دور میں روحانی رہنمائی، اصلاحِ باطن اور قربِ الٰہی کا ذریعہ ہیں۔ان کا پیغام نفرتوں کے خاتمے اور محبتوں کے فروغ کا پیغام ہے۔ شرکاء نے زور دیا کہ اولیائے کرام کی تعلیمات کو تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے تاکہ نئی نسل کو اپنے روحانی ورثے سے روشناس کرایا جا سکے۔عرس کی تقریب میں اس بات پر بھی شدید تشویش کا اظہار کیا گیا کہ“سوشل میڈیا پر آئے روز اہلِ بیتؑ، صحابہ کرامؓ، اولیائے کرام اور مقدساتِ اسلام کے خلاف گستاخانہ مواد، توہین اور تضحیک پھیلائی جا رہی ہے، جس سے کروڑوں مسلمانوں کے جذبات مجروح ہو رہے ہیں۔”تمام شرکاء نے حکومت پاکستان اور قانون ساز اداروں سے مطالبہ کیا کہ:“ایسے عناصر کے خلاف مؤثر قانون سازی کی جائے جو آزادی اظہار رائے کے نام پر اسلامی شعائر، صوفیائے کرام اور دینی شخصیات کی توہین کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ ناقابلِ برداشت ہے اور اس کا فوری تدارک ناگزیر ہے۔ اختتامی نشست میں کشمیر، فلسطین، غزہ، افواجِ پاکستان، سیلاب زدگان اور عالمِ اسلام کی سلامتی و خوشحالی کے لیے خصوصی اجتماعی دعا کی گئی۔ اس موقع پر دودھ کی سبیلیں، لنگرِ عام اور روحانی محافل کا بھی خصوصی انتظام کیا گیا جس سے ہزاروں زائرین نے استفادہ کیا،اور”حضرت سلطان الذاکرینؒ سمیت تمام اولیائے کرام کا پیغام انسانیت، محبت، یگانگت، اخوت، امن، اور قربِ الٰہی کا پیغام ہے۔ ان کے آستانے آج بھی دلوں کو جوڑنے، نفرتوں کو مٹانے اور انسان کو رب سے ملانے کا ذریعہ ہیں۔ یہی پیغام آج کے دور میں سب سے زیادہ قابلِ عمل ہے۔








































Visit Today : 313
Visit Yesterday : 608
This Month : 9736
This Year : 57572
Total Visit : 162560
Hits Today : 13364
Total Hits : 786520
Who's Online : 4






















