گوجرانوالہ :  پاکستان سنی تحریک کے سربراہ مولانا محمد شاداب رضا نقشبندی نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ غزہ میں جنگ بندی دراصل دھوکہ اور فریب کا دوسرا نام ہے،اسرائیل غزہ میں نہتے مظلوم فلسطینیوں کو ایک بار پھر جمع کر کے نسل کشی کرنا چاہتا ہے،جنگ بندی میں مقرر کیے گئے ثالث مسلمان ریاستوں کو ایک دھوکے سے ثالث مقرر کیا گیا ہے جس کا مقصد مسلمانوں کو آپس میں لڑانا اور امتِ مسلمہ میں مزید انتشار پیدا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے مقابلے میں جنگ بندی کے ثالث اسلامی ممالک کمزور ثابت ہو رہے ہیں، جبکہ مسئلہ فلسطین پردو ریاستی منصوبہ کسی صورت قابلِ عمل نہیں۔ پاکستان سنی تحریک ابراہم اکارد کو مکمل طور پر مسترد کرتی ہے۔مولانا محمد شاداب رضا نقشبندی نے کہا کہ اسلام کی بنیاد توحید باری تعالیٰ اور حضور اکرم ﷺ کی ذاتِ اقدس ہیں، جنہیں کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ میں ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف عوامی احتجاج اس کی غیرمنصفانہ پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا میں تھانے داری کا خواب دیکھنا چھوڑ دے امریکی صدر کو اپنے ہی عوام نے یکسر مسترد کر دیا ہے، اہلِ مغرب اسلام کے خلاف نفرت انگیز پروپیگنڈا کرکے اسلام کی حقانیت کو جھٹلا نہیں سکتے۔ انہوں نے کہا کہ اہلِ غزہ اور فلسطینیوں کی قربانیاں امتِ مسلمہ کے ایمان کا حصہ ہیں، مگر مکار صیہونی اور اس کے اتحادی ایک نئی جنگ کا بہانہ تراش رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ، سلامتی کونسل، او آئی سی اور انسانی حقوق کی نام نہاد عالمی تنظیمیں محض ربڑ اسٹیمپ ادارے بن چکی ہیں۔ غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی جا رہی ہے جبکہ اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزیاں ثالثین کے کردار پر سوالیہ نشان ہیں۔ سربراہ پاکستان سنی تحریک نے کہا کہ پاکستان میں بیٹھے کچھ نام نہاد فلاسفر دانشور اسرائیل، امریکہ اور ان کے حواریوں کے مؤقف کی تائید کر رہے ہیں، جو افسوسناک ہے۔ دو ریاستی منصوبے کو تسلیم کرنے کا دوسرا مطلب مقبوضہ کشمیر پر بھارتی تسلط کو تسلیم کرنا ہے، جو کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ مولانا محمد شاداب رضا نقشبندی نے افغان حکومت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکمران بلاجواز پاکستان کے خلاف جارحیت سے باز رہیں۔ افغانستان کے ناعاقبت اندیش حکمران امریکہ، بھارت اور اسرائیل کے اشاروں پر پاکستان میں بدامنی پھیلانے کی کوششیں کر رہے ہیں، جو خطرناک رجحان ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان ایک خودمختار، آزاد اور پرامن ایٹمی قوت ہے، اور پاکستان کی سالمیت و خودمختاری پر کسی بھی قسم کا حملہ ناقابلِ برداشت ہوگا۔ افغان حکومت کو چاہیے کہ وہ دائمی امن کی پالیسی پر قائم رہے تاکہ خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔