ملتان: چیئرمین متحدہ مسلم موومنٹ پاکستان ڈاکٹر محمد اکمل مدنی نے کہا کہ بھارت افغانستان کو پاکستان کے خلاف استعمال کررہا ہے،افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر دہشت گرد حملوں اور افغانوں کے ان حملوں میں ملوث ہونے کے واضح ثبوت موجود ہیں جن کے پیچھے بھارت ہے جو حالیہ جنگ میں اپنی ناکامی کا بدلہ لینے کی کوشش کر رہا ہے،دونوں مسلم برادر ملک ہیں اس طرح کے حملوں کے متحمل نہیں ہوسکتے،پاکستان اور افغانستان کو آپس کے مسائل کے حل کیلئے مذاکرات کرنے چاہیں کیونکہ اس وقت عالم اسلام کا اتحاد موجودہ وقت کی اہم ضرورت ہے،متحدہ مسلم موومنٹ پاکستان کی تمام تر ہمدردیاں افواج پاکستان کے ساتھ ہیں اور فتنہ الخوراج کے خاتمے میں ہر ممکن تعاؤن کی یقین دہانی کرتے ہیں اور افغانستان کی جو بھارت کے ساتھ دفاعی معاہدے کی خبریں گردش کررہی انہیں افغانستان کی عبوری حکومت سے واپس لینے کا بھی مطالبہ کرتے ہیں،پاکستان نے ہر دکھ سکھ میں افغانستان کا ساتھ دے کر بین الاقوامی جارحیتوں کا ناکام بنا کر بڑا بھائی ہونے کا عملی ثبوت پیش کیا اب وہ وقت آن پہنچا ہے کہ افغان حکومت ان احسانات کا بدلہ چکائے۔انہوں نے کہا کہ افغانستان کو فوری طور پر ان عناصر کا سدباب اور ان ٹھکانوں کی سرکوبی کرنی چاہیے جہاں سے پاکستان کیخلاف کارروائیاں ہورہی ہیں۔ایگزیکٹو ممبران ایڈووکیٹ اللہ دتہ کاشف بوسن،ایڈووکیٹ اطہر شاہ بخاری،ایڈووکیٹ وسیم ممتاز،ملک سلطان محمود،بریگیڈئیر(ر) شوکت عثمان،پروفیسر واجد وٹو،ملک عمران یوسف اور حافظ ظفر قریشی نے کہا کہ یہود و نصاری کبھی مسلمانوں کے ہمدرد و خیر خواہ نہیں ہوسکتے تاہم مسلم امہ کو اتحاد و اتفاق کی طاقت سے ان کا مقابلہ کرتے ہوئے اسلام کا بول بالا کرنا ہوگا،افواج پاکستان نے بھارت کے بعد افغانستان کو منہ توڑ جواب دے کر قوم کا سر فخر سے بلند کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اپنے پیاروں کی قربانیاں دینے والے پاکستان کے بہادر عوام حکومت سے سوال کرتے ہیں کہ کب تک افغان پناہ گزینوں کا بوجھ اٹھائیں گے،افغانستان کے حملوں کو پسپا کرنے پر پوری قوم افواج پاکستان کو خراج تحسین پیش کرتی ہے۔