سیاسی تجزیہ

عنوان: کابل پر پاکستانی فضائیہ کا حملہ (9 اکتوبر 2025) — سیاسی تجزیہ

تحریر: ڈاکٹر ذوالفقار حسین، صدر، بی بی سی ریکارڈ لندن

9 اکتوبر 2025 کو پاکستان نے مبینہ طور پر کابل اور دیگر افغان شہروں میں فضائی حملے کیے — ایسے اقدامات جنہیں اسلام آباد نے سرحد پار موجود عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں اور پاکستان کی سرزمین پر فوری خطرات کے خلاف “ضروری جوابی کارروائی” قرار دیا۔ ان حملوں کے فوراً بعد خطے میں کشیدگی میں نمایاں اضافہ ہوا اور عالمی برادری کی توجہ اسی سمت مبذول ہوگئی۔

بین الاقوامی ردِعمل متضاد رہا: کچھ ممالک نے پاکستان کے سکیورٹی خدشات اور حقِ دفاع کو تسلیم کیا، جبکہ دیگر نے شہری جانی نقصان اور افغان خودمختاری کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ ان حملوں کے بعد سرحدی جھڑپوں کی اطلاعات آئیں اور چند دنوں بعد سفارتی دباؤ کے نتیجے میں ایک عارضی جنگ بندی کی خبر بھی ملی۔

فوجی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو پاک فوج اور فضائیہ نے تیز رفتار اور مربوط کارروائی کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا، جو ان کی عملی پہنچ اور حکمتِ عملی کی فیصلہ کن قوت کو ظاہر کرتا ہے۔ بعض تجزیہ کاروں کے مطابق یہ حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ پاکستان اب بھی جنوبی ایشیا کی سب سے مؤثر روایتی افواج میں شمار ہوتا ہے۔ تاہم، اگر عسکری کارروائی کے ساتھ ساتھ سیاسی مکالمہ نہ ہو تو یہ کامیابی پائیدار امن کے بجائے ایک نئے تصادم کے دور کا باعث بن سکتی ہے۔

نتائج اور سفارشات:

1. بین الاقوامی توجہ کو سفارتی دباؤ اور موقع میں تبدیل کیا جائے — واضح شواہد پیش کیے جائیں، ثالثی کے ذریعے کشیدگی میں کمی کی جائے، اور افغان فریقین سے براہِ راست رابطہ کیا جائے۔

2. عسکری اقدامات کے ساتھ مستقل سیاسی حکمتِ عملی بھی اپنائی جائے — فوجی کامیابی کو مذاکرات کے ذریعے مستحکم کرنا ضروری ہے تاکہ طویل المدتی عدم استحکام سے بچا جا سکے۔

3. ہدف بندی اور شہریوں کے تحفظ سے متعلق شفافیت کو بہتر بنایا جائے تاکہ عالمی تنقید کم ہو اور بڑے پیمانے پر تنازعے کے امکانات ختم کیے جا سکیں۔