سلطان الزاکرینؒ حضرت خواجہ صوفی محمد الطاف حسین نقشبندی مجددی— ایک ذاکرِ کامل کی سوانح، ایک روحانی عہد کی داستان
تحریر!صاحب زادہ ذیشان کلیم معصومی
جب دل کی زمین بنجر ہو جائے، آنکھیں بصیرت سے خالی ہوں، زبانیں ذکر سے محروم ہوں اور روحیں
خاک میں اٹکی ہوں ۔
تب اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو بھیجتا ہے، جو فقط چراغ نہیں ہوتے بلکہ روشنی کے سمندر ہوتے ہیں۔حضرت خواجہ محمد الطاف حسین نقشبندی مجددیؒ، جنہیں عشاقِ حق ”سلطان الزاکرینؒ” کے لقب سے یاد کرتے ہیں، ایسی ہی ایک ہستی تھے
جن کی زندگی ذکر میں ڈوبی ہوئی، عبادت میں رچی ہوئی، خدمت میں بسی ہوئی اور روحانیت میں فنا شدہ تھی۔
21 مئی 1929ء، گورداسپور کے ایک چھوٹے سے گاؤں بھانبڑی میں سردار محمد کے آنگن میں ایک ایسا نور پیدا ہوا جس نے بعد ازاں برصغیر کی روحانی فضاؤں کو جگمگایا۔بچپن سے ہی خاموش مزاج، باحیا، عبادت گزار اور ادب و سکون کا پیکر۔ جہاں دوسرے بچے کھیل کود میں مگن ہوتے، وہاں یہ کمسن ذکر کی لذت میں کھوئے رہتے۔ مسجد کی اذان جیسے اُن کے دل کا ساز بن جاتی۔ابتدائی تعلیم گاوں میں، پھر میٹرک، بی اے، ایل ایل بی تک تعلیم حاصل کی۔ بظاہر دنیا کی روشن راہوں پر قدم رکھا، مگر اندر کی دنیا ہمیشہ ذکر و فکر کی طرف مائل رہی۔ریلوے میں ملازمت کے دوران بھی روحانی تلاش جاری رہی، حتیٰ کہ وہ لمحہ آیا جب آپ نے درِ مرشد پر دستک دی۔
حضرت سلطان الاولیاء خواجہ صوفی نواب الدینؒ کے قدموں میں بیٹھے اور اپنی شرائط پیش کیں جو پوری ہونے کے بعد آپ نے مرشد سے عرض کیا”اب میں لوہے کی لٹھ ہوں، جیسا آپ کا مرید بنوں ٖگا۔ مجھے مرید بنائیں۔”
مرشد کامل نے ان کی طلب، استقامت اور اخلاص کو دیکھ کر خلافت و اجازت عطا فرمائی اور فرمایا:
”جو کچھ میرے پاس ہے، وہ سب تمہیں عطا کیا۔”
یعنی اب یہ نہ صرف مرید تھے، بلکہ وہ آئینہ بن چکے تھے جس میں مرشد کی مکمل جھلک دکھائی دیتی
محفل میں جب وہ آتے، ایسا محسوس ہوتا جیسے خود حضرت خواجہ معصومؒ رونق افروز ہو گئے ہوں۔ وہ فنا فی الشیخ کی وہ بلندی تھے جہاں سے روحانیت کا فیضان جاری ہوتا ہے، جو آگے چل کر فنا فی الرسول اور فنا فی اللہ کی منازل تک جا پہنچا۔
ان کی راتیں نیند سے خالی اور ذکر سے لبریز ہوتیں۔ تہجد، اشراق، چاشت، اوابین—یہ سب ان کے روحانی معمولات تھے۔ سجدوں میں آنکھوں سے آنسوؤں کے دریا بہتے، پاؤں سوج جاتے، مگر ذکر کی لذت میں کمی نہ آتی۔
ہر نماز سے پہلے تازہ وضو فرماتے، بغیر وضو کسی مرید سے ملاقات نہ کرتے۔ ذکرِ الٰہی کی محفل میں اُن کا چہرہ ایسا چمکتا جیسے کوئی آسمانی ستارہ زمین پر اتر آیا ہو۔
آپ کی زندگی روزانہ میلاد شریف کی محفلوں سے عبارت تھی۔ جب نعت پڑھی جاتی، آپ کی آنکھیں بھیگ جاتیں، دل پگھل جاتا، اور زبان درود کے موتی بکھیرتی۔ان کا رومال، جو ان اشکوں سے تر ہوتا، مریدین کے لیے سب سے قیمتی یادگار بن جاتا۔غریبوں، یتیموں، بیواؤں کی کفالت، شادیوں کے اخراجات، بیماریوں کی دوائیں —سب ان کی جیب سے، خاموشی سے، بغیر احسان کے ادا ہوتے۔
وہ خود زمین پر اینٹ کا تکیہ رکھ کر سوتے، لیکن دوسروں کے لیے عالی شان مہربانیوں کی چادر بچھا دیتے۔لاہور کا مشہور ”فردوس سنیما” اپنی ذات میں گناہوں کی ایک تاریخ تھا۔ حضرت نے ذاتی خرچ سے یہ سینما خریدا اور اسے ”جامع مسجد المعصوم” بنا دیا۔یہ صرف ایک عمارت کی تبدیلی نہیں تھی، یہ نفس کی بغاوت سے، روح کی پاکیزگی کی طرف واپسی کا اعلان تھا۔
وہ کبھی ریاکاری کے قریب نہ گئے۔ ان کا چہرہ جاذبِ نظر، لمبا قد، سفید ریش، کندھوں پر رومال اور چہار نکری ٹوپی ان کی روحانی شان کو نمایاں کرتی۔
امامِ مسجد آپ کے تقویٰ و تواضع کے باعث امامت چھوڑ دیتے۔ ان کی محفل میں ”ادب! ادب!” کی صدا گویا دل کے پردوں پر لرزہ طاری کر دیتی۔سرزمین مدینتہ الاولیاء ملتان میں قیام کے دوران اپ نے اپنے وقت کے کاملین اولیاء کرام جن میں حضرت غزالی زماں رازی دوراں سیداحمدسعیدکاظمی شاہ،پیر ولی محمد المعروف چادروالی سرکار،بے تاج بادشاہ ملتان پیرطریقت مولانا حامدعلی خان نقشبندی ،مفتی ہدایت اللہ پسروری،مولانا فیض رسول نظامی،پیرفتح دین چشتی،علامہ فاروق خان سعیدی،علامہ عبدالوحید ربانی،علامہ سعیداحمدفاروقی،قاری عبدالغفار نقشبندی ودیگر علماء ومشائخ اہلسنت سے اپکا بے حد پیار اور مرکز اہل سنت جامع انوارالعلوم کے اپ مستقل سرپرست رہے چادر والی سرکار اپکے لیے خود اپنے دست مبارک سے چاۓ اور مٹھائی لیکر آتے غزالی زماں نے اپکو ایک ملاقات کے دوران جامعہ انوارالعلوم میں اپنی مسندعلم و عرفان پر بیٹھایا اور ملتان کے بے تاج بادشاہ مولانا حامد علی خاں نقشبندی اپکے سلسلہ طریقت سے وابستہ خاندان نقشبند کے عظیم ولی کامل تھے انکی بھی اپ سے محبتیں اک الگ باب ہے۔
راقم السطور کو محض دس سال کی عمر میں آپ کے دستِ مبارک پر بیعت کی سعادت نصیب ہوئی۔اس کمسنی میں بھی آپ کی شفقت، ذکر کی محفلوں میں شمولیت، اور قربت کی برکت نے دل کو ایسا چمکایا کہ آج تک اُس روشنی سے دل منور ہے۔ایک دن آپ نے خود بلایا، اپنی زندگی، اسفار، مجاہدات، اور روحانی رازوں پر طویل انٹرویو میں آگاہی عطا فرمائی۔ اور اسی نشست میں آپ کے دسترخوان سے کھانے کا شرف بھی ملا، جو روح کی غذا سے کم نہ تھا۔
19 اکتوبر 2000ء کو آپ نے ذکر کرتے کرتے اپنی جان خالق کے سپرد کر دی۔20 اکتوبر بروز جمعہ، حضرت داتا گنج بخشؒ کے احاطے میں لاکھوں عقیدت مندوں، علماء و مشائخ کی موجودگی میں آپ کا جنازہ ہوا۔مرشدآباد شریف میں واقع آپ کا مزار اقدس، آج بھی مخلوق خدا کا قبلہ ہے۔ وہاں ”اللہ ھو” کی ضرب آج بھی دلوں کا زنگ اتارتی ہے۔
آج کے اس پر فتن دور میں نام نہاد جعلی پیروں، عاملوں اور فتنہ پردازوں نے عوام الناس کو اصل اولیاء سے متنفر کر دیا ہے۔تصوف کو جادو، کرامت کو تماشہ، اور ولایت کو کاروبار بنا دیا گیا ہے۔ ایسے افراد کا نہ اہلِ سنت سے کوئی تعلق ہے، نہ اُن کا اسلام کے اصل پیغام سے کوئی واسطہ۔یاد رکھو!اللہ کے ولی ہر دور، ہر زمین، ہر قوم، اور ہر نسل میں ہوتے آئے ہیں، اور قیامت تک رہیں گے۔
ان کا کام فقط اللہ کا ذکر کروانا ہے۔گمراہ دلوں کو خدا کی طرف لانا، یادِ نبی ﷺ سے دلوں کو جوڑنا، اور شریعت کے دائرے میں رہ کر روحانیت کا پیغام دینا—یہی ان کا مشن ہے، یہی مشنِ نبوی ہے۔
وہ جو شریعت کو چھوڑ کر، طریقت کے دعوے کرتے ہیں —ان کا اسلام سے دُور دُور تک کوئی تعلق نہیں۔سلطان الزاکرینؒ کی زندگی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ…
”وہی دل زندہ ہے جو ذکر کرتا ہے، وہی زبان بابرکت ہے جو درود پڑھتی ہے، اور وہی انسان ولی کا مرید ہے جو بندگانِ خدا کی خدمت کرتا ہے۔”
18 و 19 اکتوبر 2025ء، دربارِ عالیہ مرشدآباد شریف لاہور میں ان کا سالانہ عرسِ مبارک منعقد ہو رہا ہے۔
آئیے! ان کے فیضانِ ذکر سے اپنے دلوں کو منور کریں، اور عہد کریں کہ
ہم بھی ان کے نقشِ قدم پر چلیں گے۔








































Visit Today : 384
Visit Yesterday : 608
This Month : 9807
This Year : 57643
Total Visit : 162631
Hits Today : 15174
Total Hits : 788330
Who's Online : 2






















