بزنس کمیونٹی معیشت کو ٹھوس اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے کوشاں ہے : میاں راشد اقبال
ملتان : سابق صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری میاں راشد اقبال نے کہا کہ بزنس کمیونٹی معیشت کو ٹھوس اور پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کیلئے کوشاں ہے مگرمتعلقہ اداروں کوبھی معاشی استحکام کیلئے باہمی مشاورت سے طویل المدتی پالیسیاں تشکیل دینے کے ساتھ ساتھ سازگار ماحول مہیا کرنے کیلئے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے پاکستانی معیشت میں غیر معمولی اتار چڑھاؤ کا ذکر کیا اور کہا کہ ایک بار پھر ہماری برآمدات میں کمی آرہی ہے جوباعث تشویش ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت برآمدات کو سو بلین ڈالر تک بڑھانے کا ارادہ رکھتی ہے لیکن اس ہدف کے حصول کیلئے توانائی کے نرخ اورپالیسی ریٹ کو علاقائی تجارتی ممالک کے برابرکرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ اگر بجلی کے فی یونٹ نرخ 9سینٹ اور پالیسی ریٹ سنگل ڈیجٹ میں آجائے توہماری مصنوعات عالمی منڈیوں میں مسابقت کی پوزیشن میں آسکتی ہیں۔ میاں راشد اقبال کا مزید کہنا تھا کہ معاشی پالیسیاں کم از کم دس سال کی مدت کیلئے ہونی چاہئیں تاکہ برآمد کنندگان اور سرمایہ کار پوری یکسوئی سے صنعتی پیداوار اور برآمدات بڑھانے کیلئے کام کر سکیں۔ اسی طرح پالیسیوں میں تسلسل کو برقرار رکھنے کیلئے بھی اقدامات اٹھانے چاہئیں تاکہ ان سے بہتر نتائج حاصل کئے جا سکیں۔ انہوں نے نئی منڈیوں کی تلاش اور غیر روایتی مصنوعات کی برآمدات پر بھی زور دیا اور کہا کہ ہمیں صرف ٹیکسٹائل پر توجہ دینے کی بجائے اس میں تنوع کیلئے کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے تجویز دی کہ حکومت تاجر برادری اور صنعتکاروں کے ساتھ ہنگامی مشاورت کر کے ایسی حکمت عملی تیار کرے جو معیشت کو مستحکم کرنے میں مددگار ثابت ہو۔ میاں راشد اقبال نے مزید کہا کہ تجارتی خسارہ اب ایک قومی مسئلہ بن چکا ہے اور اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ ملکی مالی استحکام کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ برآمدات کے فروغ کیلئے ٹھوس اقدامات وقت کی اہم ضرورت ہیں۔










































Visit Today : 146
Visit Yesterday : 460
This Month : 10029
This Year : 57865
Total Visit : 162853
Hits Today : 823
Total Hits : 790001
Who's Online : 3






















