10 اکتوبر قوم کے ایٹمی معمار محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی برسی وہ روشنی جو بجھی نھیں

تحریر:ایس پیر زادہ

قومیں اُن شخصیات کو ہمیشہ زندہ رکھتی ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ اپنے وطن کے تحفظ استحکام اور سربلندی کے لیے وقف کر دیا ڈاکٹر عبدالقدیر خان وہ عظیم محسنِ پاکستان ہیں جنہوں نے ناممکن کو ممکن بنا کر پوری دنیا کو حیران کر دیا پاکستان کو ایٹمی طاقت اور قوت بنانے کا سہرا انہی کے سر جاتا ہے
ان کی محنت عزم علم اور ایمان نے پاکستان کو ان ممالک کی صف میں کھڑا کر دیا جو آج ناقابلِ تسخیر اور مضبوط ہیں
ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی لازوال قربانیاں اور بے مثال خدمات تاریخِ پاکستان کا روشن باب ہیں انہوں نے قوم کی عزت و وقار کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا اور ہر مشکل گھڑی میں وطن کے مفاد کو ترجیح دی جب دنیا نے ہمیں کمزور سمجھا اُس وقت ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے اپنی بصیرت تحقیق اور خلوصِ نیت سے یہ ثابت کر دیا کہ پاکستانی قوم کسی سے کم نہیں
انہوں نے دشمنوں کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا کر ملک کو ایسا دفاعی حصار دیا جو آج تک قائم و دائم ہےڈاکٹر عبدالقدیر خان کا نام صرف ایک سائنسدان کا نہیں بلکہ ایک عہد ایک نظریے اور ایک یقین کا نام ہےانہوں نے اپنی ذات کی آرام و آسائش کو پسِ پشت ڈال کر وہ کارنامہ انجام دیا جس پر آنے والی نسلیں فخر کرتی رہیں گی ان کی سوچ میں وطن سے محبت خدمت اور تحفظ کا وہ جذبہ تھا جو صرف محسنوں کے حصے میں آتا ہے پاکستان آج جو مضبوط باوقار اور خودمختار ہے اُس میں ان کا کردار بنیاد کی اینٹ کی مانند ہےان کی وفات کے بعد بھی اُن کی خدمات اور قربانیاں ہماری قومی شناخت کا حصہ ہیں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے جو خواب دیکھا وہ حقیقت بن کر قوم کے سر کو فخر سے بلند کر گیا ایسے لوگ جسمانی طور پر رخصت ضرور ہو جاتے ہیں مگر ان کی روشنی صدیوں تک دلوں کو منور کرتی رہتی ہےآج ان کی برسی کے موقع پر پوری قوم دعاگو ہے کہ
اللّٰہ تعالیٰ اس مردِ مجاہد کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے
ان کے درجات بلند کرے اور ان کے مشنِ وطن دوستی کو ہم سب کے دلوں میں زندہ رکھے
آمین یا ربّ العالمین
نذرانۂ عقیدت
وہ خوابوں کا محافظ تھا دعاؤں کا امین
وہ خاک سے اٹھا بنا پاکستان کا نگین
وہ مردِ مومن وہ درویشِ فن
جس نے وطن کو بخشا وقار کا بدن
وہ حرفِ وفا وہ چراغِ یقین
جس نے اندھیروں میں جلا دی جبین
قوم کی سانسوں میں ہے اس کا نام
دلوں میں بسا ہے اس کا احترام
اے قدیرِ وطن تیری محنت رہے گی زباں زباں
تیرا کارنامہ رہے گا جاوداں جاوداں
اللّٰہ تجھے جنت کے باغوں میں جگہ دے
تیرے خوابوں کو پاکستان کی تقدیر بنا دے
میری طرف سے
سلام اُن جذبوں کو
جو پاکستان کے لیے دھڑکتے رہے