ملتان: وکیل تحریک انصاف بیرسٹر ملک تیمور الطاف مہے نے کہا کہ پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کی تین زیر التواء ضمانتوں کی سماعت  اے ٹی سی لاہور میں ہوگی۔ یہ ضمانتیں لاہور میں 9 مئی کے تین مقدمات سے متعلق ہیں اور ان ہی مقدمات میں بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان اور دیگر کئی رہنما اور کارکنان کی ضمانتیں ہو چکی ہیں ہم امید کرتے ہیں کہ مزید تاخیری حربے نہیں ہوں گے اور عدالت کل ہمارے دلائل سنے گی اور بالآخر ان ضمانتوں کا فیصلہ کرے گی۔شاہ محمود قریشی گزشتہ چند ماہ میں اسی طرح کے چار مقدمات میں پہلے ہی بری ہو چکے ہیں اور انہیں مزید قید رکھنے کی کوئی قانونی بنیاد نہیں ہے۔ یہ تینوں ضمانتیں ہر روز کے نئے بہانوں سے ایک سال سے زائد عرصے سے التوا کا شکار ہیں اور پچھلی چند سماعتوں میں ضمانتوں سے متعلق سماعتوں میں بھی ریکارڈ کمی واقع ہوئی، بہت سی سماعتوں کوپراسیکیوٹر کی عدم موجودگی اور آخرکار جج کے چھٹی پر ہونے کی وجہ سے ملتوی کر دی گئیں۔ ان تینوں مقدمات میں ضمانت ملنے کے بعد لاہور میں اے ٹی سی جج کے سامنے ان کی صرف ایک ضمانت کی سماعت باقی رہ جائے گی۔ یاد رہے کہ شاہ محمود قریشی کو 9 مئی کے مقدمات میں تب گرفتار کیا گیا جب گزشتہ سال سائفر کیس میں ان کی بریت قریب آ گئی تھی ان کے خلاف 9 مئی کے تمام معلوم مقدمات میں ضمانتیں ہو چکی تھیں اور یہ پہلے دن سے ہی ریکارڈ پر ہے کہ وہ 9 مئی 2023 کو آغا خان ہسپتال میں اپنی بیمار اہلیہ کے ساتھ کراچی میں تھے اور اس کے باوجود سائفر کیس میں بری ہونے کے بعد بھی ان مقدمات کو مخدوم شاہ محمود قریشی کو سلاخوں کے پیچھے رکھنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے۔