ملتان (صفدر بخاری سے)  آل پاکستان واپڈا ہائیڈرو الیکٹرک ورکرز یونین کے زیر اہتمام ملک بھر کی طرح میپکو ریجن ملتان میں بھی ڈسٹری بیوشن کمپنیوں کی مجوزہ نجکاری کے خلاف بھرپور احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ احتجاجی ریلی میں چیف آفس، آپریشن، جی ایس سی، کنسٹرکشن، فنانس، آڈٹ، ایم اینڈ ٹی، ٹریننگ سینٹر، کمرشل آفس سمیت تمام ونگز کے افسران و ملازمین نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ ریجنل چیئرمین میپکو چوہدری غلام رسول گجر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بجلی کے لاکھوں صارفین تک سپلائی بحال رکھنے کے لیے محنت کش ملازمین اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں، متعدد ملازمین حادثات کے باعث شہید یا ہمیشہ کے لیے معذور ہو چکے ہیں۔ ریجنل سیکرٹری رانا محمد انور نے کہا کہ بجلی قومی اثاثہ اور محنت کشوں کی انتھک محنت کا ثمر ہے، اسے فروخت کرنا عوام اور ملازمین دونوں کے ساتھ ناانصافی ہوگی۔ ریونیو چیئرمین شکیل بلوچ نے کہا کہ نجکاری سے بجلی مزید مہنگی ہو گی اور حساس قومی ادارے کو فروخت کرنا ملکی وحدت کے خلاف سازش کے مترادف ہے۔ چوہدری محمود امجد نے کہا کہ میپکو، فیسکو اور گیپکو جیسی کمپنیاں اربوں روپے منافع دے رہی ہیں، ان کی کارکردگی بہتر بنانے کے لیے صرف جدید آلات اور تربیت یافتہ افرادی قوت کی ضرورت ہے۔ رانا مظہر لطیف نے کہا کہ ہائیڈرو یونین نے ہمیشہ بجلی چوری کے خلاف مہم کو کامیاب بنایا اور چھٹی والے دن بھی فرائض منصبی میں غفلت نہیں برتی۔ رانا زاہد جاوید نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ آٹھ برس سے جاری بھرتی پر پابندی ختم کی جائے کیونکہ تجربہ کار ملازمین کی ریٹائرمنٹ سے لائن اسٹاف پر بوجھ بڑھ رہا ہے۔ چوہدری محمد خالد نے کہا کہ وزارت توانائی کو آئی ایم ایف کے دباؤ میں آنے کے بجائے ملکی مفاد کو ترجیح دینی چاہیے۔  نے اعلان کیا کہ یونین میپکو کی نجکاری کے خلاف بھرپور مہم جاری رکھے گی اور حکومت سے مطالبہ کیا کہ محنت کش نمائندوں سے مذاکرات کیے جائیں۔ الیاس جٹ اور طارق صدیقی نے لائن اسٹاف کے لیے بکٹ فِٹڈ گاڑیوں کی فراہمی کا مطالبہ کیا تاکہ صارفین کی شکایات بروقت حل کی جا سکیں۔ ندیم رؤف اور رانا خضر نے کہا کہ کمپنیوں کی فروخت کے بجائے گفت و شنید کا راستہ اختیار کیا جائے تاکہ ملازمین میں پھیلی بے چینی ختم ہو۔ احتجاج میں شریک کارکنان نے پاکستانی جھنڈے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر نجکاری کے خلاف نعرے درج تھے۔ احتجاجی مظاہرے میں راؤ عامر جمیل، رانا اسلم غفار، الطاف مہار، عمران بشیر، چوہدری زاہد، رانا امجد، اکرم غوری، حافظ شاہد اقبال، ذیشان پیرزادہ، شیخ شہباز علی، احمد جوئیہ، فیاض راں، خالد نعیم، شوکت بلوچ سمیت درجنوں عہدیداران و کارکنان نے شرکت کی۔