تحریر: ایس پیزادہ

دنیا بھر کی طرح آج پاکستان میں بھی ورلڈ کاٹن ڈے نہایت اہمیت کے ساتھ منایا جا رہا ہے یہ دن ہمیں اس فصل کی یاد دلاتا ہے جس نے پاکستان کی معیشت صنعت اور دیہی زندگی کو دہائیوں تک سہارا دیا کپاس نہ صرف ہماری ٹیکسٹائل انڈسٹری کی بنیاد ہے بلکہ لاکھوں خاندانوں کی روزی روٹی کا ذریعہ بھی ہے گزشتہ دنوں لاہور میں پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن کے افس میں چوہدری سعد صاحب اور مختیار اعوان صاحب کی زیر نگرانی ایگریکلچر کے حوالے سے تین روزہ تربیتی سیمینار منعقد ہوا جس میں مجھے شرکت کا موقع ملا۔ یہ سیمینار زرعی ماہرین تنظیموں اور کسانوں کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم ثابت ہوا اس میں ملک کے مختلف حصوں خصوصاً جنوبی پنجاب اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے کسان خواتین کارکنان اور زراعت کے ماہرین نے بھرپور شرکت کی
اس تربیتی اجلاس کے دوران میری ملاقات ان خواتین کپاس چننے والی مزدوروں سے بھی ہوئی جو صبح سویرے کھیتوں میں پسینہ بہا کر اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے سفید سونا اُگاتی ہیں ان کی محنت عظیم ہے مگر معاوضہ آج بھی ان کے کردار کے برابر نہیں ان کے مسائل مالی بھی ہیں سماجی بھی اور صحت کے حوالے سے بھی ہاتھوں کی الرجی دھوپ کی شدت بچوں کی پرورش اور بنیادی سہولیات کی کمی ان کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہے انہی خواتین میں سے ایک حفیظہ بی بی ہیں جو جنوبی پنجاب کے تاریخی شہر ملتان سے تعلق رکھتی ہیں وہ برسوں سے کپاس چننے کا کام کر رہی ہیں ان کے شوہر بھی اسی پیشے سے وابستہ تھے مگر اب دنیا میں نہیں رہے حفیظہ بی بی آج بھی اکیلی اپنے بچوں کا سہارا بنی ہوئی ہیں دھوپ کی تپش ہاتھوں کے چھالے کپاس کے کانٹے سب کچھ برداشت کر کے وہ اپنے بچوں کے پیٹ کی آگ بجھاتی ہیں ان کی کہانی صرف ایک عورت کی نہیں بلکہ ان لاکھوں خواتین کی نمائندگی کرتی ہے جو خاموشی سے اس ملک کی معیشت کو اپنے ہاتھوں کی محنت سے زندہ رکھے ہوئے ہیں
پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن (PUWF) نے حالیہ تربیتی سیمینار میں ان جیسے محنت کش خاندانوں کی کہانیاں نہ صرف سنی بلکہ انہیں دنیا تک پہنچانے کا عزم بھی کیا بہت جلد حفیظہ بی بی اور ان جیسی خواتین پر ایک خصوصی ڈاکیومنٹری ریلیز کی جا رہی ہے جس میں ان کی جدوجہد حوصلہ اور زندگی کی تلخ حقیقتوں کو اجاگر کیا جائے گا اس ڈاکیومنٹری کا مقصد یہ ہے کہ دنیا جانے کہ ہمارے کھیتوں میں اُگنے والا سفید سونا دراصل ان خواتین کے آنسو پسینہ اور قربانیوں سے رنگین ہےکپاس کے عالمی دن کا مقصد صرف فصل کو خراجِ تحسین پیش کرنا نہیں بلکہ ان تمام ہاتھوں کو سلام پیش کرنا ہے جو زمین سے یہ سفید سونا اُگاتے ہیں ہمیں چاہیے کہ ان خواتین کے کردار کو اعداد و شمار میں نہیں بلکہ عزت قانون سازی اور پالیسیوں کی سطح پر تسلیم کیا جائے
پاکستان جیسے زرعی ملک کے لیے کپاس ایک قیمتی سرمایہ ہے اس کے بیج سے لے کر دھاگے تک ایک پوری معیشت قائم ہے مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا اس معیشت کا فائدہ ان لوگوں تک پہنچ رہا ہے جن کے ہاتھوں سے یہ نعمت زمین سے جنم لیتی ہے؟
ورلڈ کاٹن ڈے ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اگر ہم نے زرعی خواتین اور کسانوں کی فلاح کو ترجیح نہ دی تو ہماری زمینیں تو زرخیز رہیں گی مگر دل بنجر ہو جائیں گے