کائنات کے راز: ثُریّا (Pleiades Star Cluster – Messier 45)

محمد جمیل شاھین راجپوت

تمہید

آسمان کی وسعتیں ہمیشہ سے انسان کے لئے حیرت اور تفکر کا باعث رہی ہیں۔ کچھ جھرمٹ ایسے ہیں جو صدیوں سے انسانی تخیل، داستانوں اور مذاہب کا حصہ رہے ہیں۔ انہی میں سے ایک جھرمٹ ہے Pleiades، جسے عربی میں ثُرَیّا کہا جاتا ہے۔ یہ جھرمٹ صرف سائنسی تحقیق ہی کا نہیں بلکہ ادبی، روحانی اور مذہبی حوالوں کا بھی ایک عظیم خزانہ ہے۔

سائنسی وضاحت

مقام اور فاصلہ

ثریا جھرمٹ Taurus Constellation (برجِ ثور) میں واقع ہے اور زمین سے تقریباً 444 نوری سال کے فاصلے پر ہے۔ کھلی آنکھ سے یہ چھوٹا سا جھرمٹ آسمان پر روشنی کی ایک گتھی کی طرح نظر آتا ہے۔

ستاروں کی تعداد اور عمر

عام آنکھ سے 6 یا 7 روشن ستارے دکھائی دیتے ہیں، لیکن حقیقت میں اس جھرمٹ میں 1,000 سے زیادہ ستارے موجود ہیں۔ ان میں زیادہ تر نیلے، جوان اور تقریباً 10 کروڑ سال پرانے ہیں۔ فلکیاتی لحاظ سے یہ ابھی بالکل “نو عمر” ستارے ہیں۔

نیبولا اور روشنی

ان ستاروں کے گرد موجود Reflection Nebula (عکاسی کرنے والا نیبولا) بین السِتاروی دھول پر مشتمل ہے۔ جب ان روشن ستاروں کی روشنی اس دھول سے ٹکراتی ہے تو وہ نیلا رنگ منعکس کرتی ہے، جس سے ثریا اور زیادہ دلکش اور جادوئی دکھائی دیتی ہے۔

قدیم تہذیبوں میں ثریا

یونانی اساطیر میں اسے سات بہنوں (Seven Sisters) کی علامت کہا گیا۔

جاپان میں اسے Subaru کہا جاتا ہے، جو آج ایک مشہور کار کمپنی کا نام بھی ہے۔

اہلِ عرب قدیم زمانے میں اسے موسموں، بارش اور کھیتی باڑی کے اوقات معلوم کرنے کے لئے دیکھتے تھے۔

اسلامی شاعری و ادب میں “ثریا” ہمیشہ بلندی، عظمت اور رفعت کی علامت رہی۔

اسلامی نقطۂ نظر

قرآنِ مجید میں ستارے بطور نشانی

اگرچہ “ثریا” کا نام براہِ راست قرآن میں مذکور نہیں، لیکن اللہ تعالیٰ نے ستاروں کو اپنی نشانیوں میں شمار کیا:

> “وَالنَّجْمِ إِذَا هَوَىٰ”
(النجم: 1)
— قسم ہے ستارے کی جب وہ ڈوبے۔

> “وَهُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ النُّجُومَ لِتَهْتَدُوا بِهَا فِي ظُلُمَاتِ الْبَرِّ وَالْبَحْرِ”
(الانعام: 97)
اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے ستارے بنائے تاکہ تم ان کے ذریعے خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ پاؤ۔

احادیثِ مبارکہ میں ذکر

1. حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“اگر ایمان ثُریّا (Pleiades) میں بھی ہوتا تو اہلِ فارس میں ایسے لوگ پیدا ہوتے جو اسے پالیتے۔”
(صحیح بخاری، حدیث 4897)

یہاں “ثریا” کو بلندی اور دوری کی مثال کے طور پر بیان کیا گیا۔

2. ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
“جب ثریا طلوع کرے تو تمام بیماریاں اور وبائیں ختم ہوجاتی ہیں۔”
(سنن دارمی)

اس سے پتہ چلتا ہے کہ قدیم دور میں لوگ ثریا کو موسم اور صحت کے اشاریے کے طور پر بھی دیکھتے تھے۔

عربی شاعری میں ثریا

عربی ادب میں “ثریا” کو بلند مقاصد، عزت اور عظمت کی علامت کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔ مثال کے طور پر:

قول شاعر:

> إذا غامرتَ في شرفٍ مرومٍ * فلا تقنعْ بمـا دونَ النجومِ
فطَعنُـةُ حُرٍّ في عِـزٍّ أشهى * من الدنيـا وما فيها ثُريـا

(یعنی اگر عزت و شرف کے راستے پر چلو تو ستاروں سے کم پر قناعت نہ کرو، کیونکہ ثریا بھی دنیا کی سب سے اونچی علامت ہے۔)

اسی طرح بعض شعرا نے محبوب کی رفعت اور اس کی بلندی کو “ثریا” سے تشبیہ دی۔

صوفیاء کی تشریحات

صوفیاء کرام نے “ثریا” کو صرف ایک جھرمٹ کے طور پر نہیں دیکھا بلکہ اسے روحانی بلندی اور معرفت کے کمالات کی علامت قرار دیا۔

حضرت شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ کے نزدیک “ثریا” انسان کی عروجِ روحانی کی علامت ہے، یعنی وہ مقامات جہاں عام عقل نہیں پہنچ سکتی۔

صوفیاء کہتے ہیں کہ جیسے “ثریا” ہزاروں ستاروں پر مشتمل ہے لیکن ہمیں صرف چند ہی نظر آتے ہیں، اسی طرح معرفتِ الٰہی کے سمندر میں بھی ہزاروں راز ہیں لیکن انسان کو صرف چند جلوے دکھائی دیتے ہیں۔

روحانی نقطۂ نظر

قرآن اور احادیث کی روشنی میں “ثریا” ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ کائنات کی وسعتیں صرف دیکھنے کے لئے نہیں بلکہ تفکر اور معرفت کے لئے ہیں۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

> “إِنَّ فِي خَلْقِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَاخْتِلَافِ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ لَآيَاتٍ لِأُولِي الْأَلْبَابِ”
(آل عمران: 190)

یعنی ثریا جیسے جھرمٹ بھی اللہ کی نشانی ہیں جو عقل والوں کے لئے غور و فکر کے دروازے کھولتے ہیں۔

خلاصہ۔

ثریا جھرمٹ صرف ایک فلکیاتی حقیقت نہیں بلکہ انسانی تاریخ، مذہب، ادب اور روحانیت کا مشترکہ استعارہ ہے۔
یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ آسمان پر جو چھوٹے چھوٹے ستارے ہمیں نظر آتے ہیں وہ حقیقت میں ہزاروں سورج جیسے آفتاب ہیں، اور ان کے پیچھے وہ ربّ ہے جس نے پوری کائنات کو ایک توازن اور حسن کے ساتھ تخلیق کیا۔

حوالہ جات

قرآن مجید: سورۃ النجم، الانعام، آل عمران

صحیح بخاری، حدیث 4897

سنن دارمی – کتاب الاستسقاء

NASA – Pleiades Star Cluster Database

یونانی و جاپانی اساطیر: Seven Sisters, Subaru

عربی ادب: دیوان حماسیات

شاہ عبدالعزیز محدث دہلوی – ملفوظات