پاک فوج — دورِ جدید کی روشن مثال
قیادت: فیلڈ مارشل عاصم منیر

خصوصی کالم
تحریر: کلب عابد
“ایمان، تقویٰ، نظم و ضبط اور جدیدیت — ایک مضبوط پاکستان کی اساس”
دنیا بدل رہی ہے، جنگوں کا انداز بھی
دنیا تیزی سے بدل رہی ہے۔ آج جنگوں کا انداز، دشمنی کی صورت اور دفاع کی تعریف بدل چکی ہے۔
بندوقوں، توپوں اور ٹینکوں کے ساتھ اب میدانِ جنگ میں سائبر اسپیس، مصنوعی ذہانت (AI)، ہائبرڈ وار فیئر اور انفارمیشن وار فیئر نے بھی اپنی جگہ بنالی ہے۔
ایسے میں وہی قومیں خود کو محفوظ رکھ سکتی ہیں جو اپنے دفاعی اداروں کو وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھال لیں — اور پاکستان کی مسلح افواج نے یہ چیلنج بخوبی قبول کیا ہے “وقت کے بدلتے تقاضوں کے ساتھ چلنا ہی اصل پیشہ ورانہ مہارت ہے — اور یہی پاک فوج کی اصل پہچان ہے۔”
جدیدیت کی جانب قدم
گزشتہ دو دہائیوں میں پاک فوج نے اپنی ساخت، تربیت اور حکمتِ عملی میں نمایاں تبدیلیاں کی ہیں۔
آج کا سپاہی صرف سرحد پر پہرہ دینے والا جوان نہیں، بلکہ جدید ٹیکنالوجی کا ماہر، سائبر خطرات سے آگاہ اور ہائبرڈ جنگ کے رموز سے واقف ایک مکمل پروفیشنل سپاہی ہے۔
ڈرون ٹیکنالوجی کا استعمال
سائبر کمانڈ یونٹس کا قیام
ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹمز
مصنوعی ذہانت پر مبنی دفاعی منصوبہ بندی
یہ سب اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ پاک فوج نے خود کو جدید تقاضوں کے عین مطابق ڈھال لیا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر — وژنری قیادت، شفاف نظام
پاک فوج کی موجودہ قیادت میں فیلڈ مارشل عاصم منیر ایک وژنری لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں۔
ان کی قیادت میں فوج نہ صرف دفاعی لحاظ سے مضبوط ہو رہی ہے بلکہ قومی تعمیر، معیشت کے استحکام اور سماجی خدمت کے میدان میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہے۔
“قوم اور فوج ایک ہیں — یہی پاکستان کی اصل طاقت ہے۔” — فیلڈ مارشل عاصم منیر
ان کا وژن تین اصولوں پر مبنی ہے:

1. ایمان اور تقویٰ: تربیت میں اخلاقی و اسلامی اقدار کی شمولیت
2. شفافیت اور احتساب: میرٹ اور دیانت پر مبنی نظام
3. عوامی خدمت: قومی ترقیاتی منصوبوں میں فوج کا فعال کردار
ان کے دور میں فوج نے:
سائبر و ہائبرڈ وارفیئر یونٹس کو وسعت دی
دفاعی صنعت میں خودکفالت کے منصوبے بڑھائے
اور عوامی فلاحی کاموں کو ترجیح دی
امن، خدمت اور قربانی

پاک فوج کی اصل طاقت اس کے جذبۂ ایمان اور قربانی میں ہے۔
چاہے زلزلہ ہو، سیلاب یا دہشت گردی کے خلاف جنگ — فوج ہمیشہ فرنٹ لائن پر رہی۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کے وژن کے مطابق، فوج نے عوامی خدمت کے میدان میں بھی اپنی مثال قائم کی ہے۔
بلوچستان، گلگت بلتستان، اور قبائلی اضلاع میں اسکول، کالج، سڑکیں، اسپتال، اور سماجی منصوبے فوج کے روشن نقوش ہیں۔
“فوج صرف سرحدوں کی محافظ نہیں، قوم کی خدمت گزار بھی ہے۔”
دفاعی خودکفالت — خودانحصاری کی راہ
حکومت اور فوج کی مشترکہ کاوشوں سے پاکستان نے دفاعی شعبے میں نمایاں کامیابیاں حاصل کیں JF-17 تھنڈر طیارے کی تیاری
فریگیٹس، آبدوزوں، اور جدید اسلحہ جات کی ملکی پیداوار
ڈیجیٹل ڈیفنس انڈسٹری کا قیام
بین الاقوامی دفاعی معاہدے اور تربیتی تعاون
یہ کامیابیاں پاکستان کو خودمختار دفاعی ریاست بنانے میں سنگِ میل ہیں۔
عالمی امن مشنز میں نمایاں کردار
اقوامِ متحدہ کے امن مشنز میں پاکستانی افواج کا کردار مثالی ہے۔
پاکستانی افسران اپنی پیشہ ورانہ مہارت اور امن پسندی کے باعث عالمی سطح پر احترام کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔
یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پاک فوج صرف پاکستان نہیں بلکہ دنیا کے امن کی بھی محافظ ہے۔
عوام اور فوج — ایک مضبوط رشتہ
فوج اور عوام کا تعلق صرف حفاظت کا نہیں، بلکہ اعتماد، محبت اور خدمت کا ہے۔
ہر پاکستانی اپنے فوجی بھائی پر فخر کرتا ہے، اور ہر فوجی اپنے عوام کی خدمت کو عبادت سمجھتا ہے۔
یہی رشتہ پاکستان کی اصل طاقت ہے، یہی اتحاد قوم کو مضبوط رکھتا ہے۔
دورِ حاضر کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی مسلح افواج کی خدمات کو تسلیم کریں، ان پر اعتماد کریں، اور ان کے شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج آج بھی
“ایمان، تقویٰ، نظم و ضبط اور جدید علم و ہنر کی بنیاد پر ایک ایسی ادارتی قوت بن چکی ہے جو نہ صرف سرحدوں کی محافظ ہے بلکہ قوم کے خوابوں، امن اور وقار کی بھی ضامن ہے۔”