ملتان (صفدربخاری سے) سابق گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے کہا ہے کہ سول سو سائٹی ہمارے معاشرے کا اہم ستون ہے معاشرتی ترقی و اصلاح کیلیے عملی جدوجہد اور باہمی مشاورت اہم جزو ہیں ملکی ترقی کیلیے مشترکہ جدوجہد وقت کی اہم ضرورت ہےاس میں سول سو سائٹی اور بلدیاتی نمائندوں کا کلیدی کردار ہے  اجتماعی ترقی کیلیے اداروں اور سول سو سائٹی کے مابین روابط کو مضبوط بناکر ایک بہترین اور باشعور معاشرہ تشکیل دیا جاسکتا ہے سماجی تنظیموں اور سول سوسائٹی کارکنوں اور بلدیاتی نمائندوں کا کام انسانی ہمدردی کے ساتھ ساتھ مسائل کے حل اور چیلنجز کا مقابلہ دراصل سماجی جدوجہد کا خاصہ ہے۔ معاشرے کے یہ متحرک نمائندے نہ صرف مسائل حل کرتے ہیں بلکہ معاشرے کو ایک بہتر مستقبل کی طرف لے جاتے ہیں۔ ان کی حمایت کرنا ہر شہری کی ذمہ داری ہے تاکہ ایک منصفانہ اور ترقی یافتہ پاکستان بن سکے۔پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں سماجی مسائل کی شدت اور وسائل کی کمی کی وجہ سے سرکاری اداروں کی صلاحیتوں میں کئی حدود ہیں۔ ایسے میں سماجی تنظیموں اور کارکنوں کا کردار نہ صرف معاون بلکہ انقلابی ثابت ہوتا ہے۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار گذشتہ شب سابق صوبائی وزیر پنجاب چوہدری عبدالوحید آرائیں کی جانب سے سول سوسائٹی فورم ملتان کے رہنماوں ، سماجی کارکنوں اور بلدیاتی نمائندوں کے اعزاز میں منعقدہ تقریب پزیرائی ۔ عشائیہ کے موقع پر (سول سو سائٹی اکٹھ ) کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ اس موقع پر اظہار خیال کرتے ہوئے میزبان چوہدری وحید آرائیں نے کہا کہ سول سو سائٹی اراکین اور سماجی کارکن معاشرے کی ریڑھ کی ہڈی ہیں۔ یہ وہ افراد ہیں جو گلی کوچوں تک پہنچ کر لوگوں کی آواز بنتے ہیں۔ پاکستان میں سول سو سائٹی نمائندگان معاشرتی شعور و آگاہی ۔ اصلاح ، تعلیم، صحت اور حقوق کی ترویج کرتے ہیں، لیکن انہیں خطرات کا سامنا بھی ہے۔ تاہم، سول سو سائٹی اراکین گراس روٹ سطح پر لوگوں کو متحرک کرتے ہیں۔ جس سے عام آدمی میں بھی خدمت کا جذبہ پروان چڑھتا ہے انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ پنجاب جلد بلدیاتی نظام رائج کریں تاکہ عوام کے مسائل کا حل انکی اپنی دہلیز پر ممکن ہوسکے ۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئےرکن قومی اسمبلی ملک عامر ڈوگر اور سابق وائس چانسلر جامعہ زکریا پروفیسر ڈاکٹر طارق محمود انصاری ۔ مخدوم سید یزدانی گیلانی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سول سو سائٹی سے وابستہ سماجی تنظیموں نے پاکستان کی سماجی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کے ذریعے لاکھوں بچوں کو تعلیم، غریبوں کو صحت سہولیات اور متاثرین کو امداد ملی ہے۔لیکن بدقسمتی سے معاشرتی و قومی سطح پر سماجی تنظیموں و ان کے کارکنان کو وہ مقام میسر نہیں جو فلاحی مملکت میں ہوتا ہے۔ سماجی کام کرنا ایک مشکل اور کٹھن عمل ہے۔ جس کے دوران درپیش مشکلات سے حوصلے متاثر ہوتے ہیں لیکن ان کارکنوں کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جو ہر طرح کے حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے انسانی خدمت کی مثالیں قائم کرتے ہیں۔ معروف سیاسی رہنما ملک محمد انور۔ صدر csf ڈاکٹر عرفان احمد پراچہ چیف کوارڈینیٹر شاہد محمود انصاری ۔ کنوئینیر سول سو سائٹی ڈاکٹر ہمایوں شہزاد خواجہ ضیا ءصدیقی۔ احسان خان سدوزئ ۔ میاں نعیم ارشد ۔ چوہدری منصور احمد ۔ ملک امیر نواز۔ زمان اکبر نے اس موقع پر الگ الگ اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آج کی تقریب سول سو سائٹی نمائندگان کے لئے ایک خوشگوار ہوا کا جھونکا ہے۔ پاکستان ایک ایسا ملک ہے جہاں قدرتی آفات، غربت، اور انسانی بحرانوں کی وجہ سے انسانی خدمات کی ضرورت ہمیشہ موجود رہتی ہے۔ یہاں بہت سے بے لوث کارکنان اور تنظیمیں کام کر رہی ہیں جو صحت، تعلیم، امداد، اور حقوق کی حفاظت میں مصروف ہیں۔ یہ لوگ اور تنظیمیں سیلاب، زلزلوں، اور مہاجرین کی مدد سے لے کر یتیم بچوں اور غریبوں کی دیکھ بھال تک مختلف شعبوں میں خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ سول سو سائٹی کارکنان اور سماجی تنظیمیں اور بلدیاتی نمائندے پاکستان کی انسانی خدمت کی ستون ہیں۔ اس موقع پر سابق میئر ملتان چوہدری نوید الحق ارائیں ۔ سی ای او ایجوکشن ڈاکٹر صفدر حسین واہگہ۔ تاجر رہنما خواجہ سلیمان صدیقی۔ سابق جج ڈرگ جورٹ سید خالد جاوید بخاری۔ ملک انور علی۔ سابق مشیر وزیر اعلیٰ چوہدری ارشد سعید ارائیں مہمانان تھے جبکہ سول سوسائٹی کوارڈینیٹر شاہد محمود انصاری۔ صدر ڈاکٹر عرفان احمد پراچہ فوکل پرسن سی ایم مانیٹرنگ سیل عمر فاروق بھٹی۔ ڈاکٹر ہمایوں شہزاد۔ معروف براڈ کاسٹر ڈاکٹر خالد اقبال ۔ اورنگزیب خان بلوچ۔ خواجہ ضیا صدیقی۔ احسان خان سدوزئ۔ سابق چیرمین شیخ محمد رفیق۔ چوہدری منصور احمد۔ ملک امیر نواز۔ زمان اکبر ۔ سابق بلدیاتی چیرمینز ملک لطیف میتلا۔ اختر عالم قریشی ۔ اسلم ہمایوں ۔ میاں عبدالواحد ۔ چوہدری حامد ارائیں ۔ چوہدری ستار۔اسحاق سرور انصاری ۔ چوہدری مقبول۔ چوہدری نیاز ۔ اقبال بلوچ۔ عادل محمود عابدہ حسین بخاری۔ ظل فاطمہ ایڈووکیٹ۔ گل نسرین ۔ شاہدہ شھگی پیرزادہ۔ پرویز اقبال انصاری خطاب کر رہے ہیں جبکہ سینیئر صحافی شوکت اشفاق بھٹی۔ سید سجاد بخاری۔ ملک اکمل وینس۔ اشفاق احمد خاں۔ نعمان خان بابر ۔مہمانان اعزاز تھے اور نور الامین خاکوانی۔ سیدمطلوب بخاری۔ مرزا مدثر بیگ۔ سید افتخار بخاری۔ امیر اللہ شیخ۔ اشرف قریشی۔ قمر ہاشمی ۔ خالد چھٹہ۔ ڈاکٹر عامر بشیر۔ ڈاکٹر قیصر اقبال ۔ ساجد سندیلہ شریک تھے.