ملتان میں ای-چالان اور وارڈنز کی ظالمانہ پریکٹس بند کی جائے: تاجرانِ پاکستان کا مطالبہ
ملتان: مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے مرکز چیئرمین خواجہ سلیمان صدیقی،مرکزی سنیئر نائب صدر حاجی بابر علی قریشی، پنجاب کے نائب صدرملک عمران قیوم بھٹہ، ملتان کے نائب صدررانا محمد اویس علی،گلشن مارکیٹ کے صدر راؤ لیاقت علی، ملتان کے نائب صدر چوہدری عبدالمنان گوندل،ضلع ملتان کے نائب صدر شیخ فیصل محمود،پیپرمارکیٹ بوہرگیٹ کے صدر چوہدری عبدالحمید جٹ،ملتان کے نائب صدر محمد ندیم شیخ،گلگشت کے رہنماں شیخ تنویر اشرف قریشی، نے کہا ہے کہ پنجاب بھر کی طرح ملتان کے شہریوں کو بھی جس طرح سے ٹریفک وارڈن نے یرغمال بنایا ہوا ہے اس کی تاریخ نہیں ملتی ٹریفک حکام نے جو کیمروں کے ذریعے ای چالان کا سلسلہ شروع کیا ہوا ہے وہ انتہائی غلط اور ظالمانہ طریقہ کار ہے کیونکہ اکثر شہری اپنی ضروری کام کے لیے اور اکثر مریضوں کو ہسپتال لے جانے کے لیے گاڑی مانگ کر گزارا کرتے ہیں لیکن ای چالان کے ذریعے جرمانہ گاڑی کے اس مالک کو جاتا ہے جس کے نام پر گاڑی ہوتی ہے جو کہ انتہائی ظالمانہ اقدام ہے محسوس یوں ہوتا ہے کہ ٹریفک افس نے ٹریفک وارڈن کوٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے نہیں بلکہ ریوینو اکٹھا کرنے کے لیے بھرتی کیا ہے اس وقت ٹریفک وارڈن صرف سرکاری خزانہ بھرنے کے لیے شہریوں سے بے بنیاد طریقے سے ریونیو اکٹھا کر رہے ہیں جبکہ شہر میں ٹریفک کا نظام دھرم بھرم ہے ملتان شہر کے تقریبا ن ہر چوک پر کئی کئی گھنٹے ٹریفک بلاک رہتی ہے ٹریفک وارڈن ٹریفک کنٹرول کرتے نظر نہیں آتے ملتان میں 600 ٹریفک وارڈن ہیں جو ٹریفک نظام کو تو بہتر نہیں کر سکتے مگر ریوینو اچھا اکٹھا کرتے ہیں انہوں نے ملتان کے لاکھوں شہریوں کو یرغمال بنا رکھا ہے صبح سویرے اکثر ٹریفک وارڈن سکول،کالج،یونیورسٹی کے گیٹوں پر ناکہ لگا کر بچوں کو تعلیمی اداروں میں چھوڑنے کے لیے آنے والوں کی گاڑیوں کو پکڑ لیتے ہیں اسی طرح ٹریفک وارڈن کے کچھ گروپ سرکاری اداروں پرائیویٹ ہسپتالوں مارکیٹوں کے گیٹوں پر ناکہ لگا کر صرف اور صرف چالان کی مد میں پیسہ وصول کر تے ہیں اکثر جگہ پر یہ بھی دیکھنے میں آیا کہ ٹریفک وارڈن موجود ہے وہ صرف اور صرف چالان کے پیسے وصول کرنے میں لگے رہتے ہیں ٹریفک کو چلانے میں کوئی کردار ادا نہیں کرتے اور ان کی موجودگی میں کئی گھنٹے ٹریفک جام رہتی ہے جو کہ بہت بڑا ظلم ہے جبکہ وزیراعلی پنجاب مریم نواز اپنے جلسوں میں اعلان کرتی ہیں کہ وہ عوام کو سہولیات مہیا کریں گی لیکن افسوس ہے کہ سہولیات مہیا کرنے کی بجائے سرعام چالانوں کی مدمیں عوام کے کپڑے اتارے جا رہے ہیں انہوں نے مزید کہا کہ پہلے موٹر سائیکل کا چالان حد 300 روپے ہوا کرتا تھا لیکن اس وقت کم سے کم پانچ ہزار روپے سے کم وصولی نہیں کی جا رہی موقع پر موجود ٹریفک وارڈن سے بات کرو تووہ ایک ہی بات کرتا ہے کہ وزیراعلی پنجاب کا حکم ہے ہم وزیراعلی پنجاب آئی جی ٹریفک پنجاب اور سی ٹی او اور دیگر سے مطالبہ کرتے ہیں کہ فوری طور پر عوام پرای چالان اور دیگر چالانوں کی مد میں عوام پر ہونے والا ظلم بند کیا جائے اور سرکاری سکولوں کالجوں ہسپتالوں مارکیٹوں کے گیٹوں سے ٹریفک وارڈن کو ہٹایا جائے اور ای چالان کی مد میں جو وصولیاں کی جا رہی ہیں وہ ختم کی جائیں اگر حکومت پنجاب نے فوری طور پر ٹریفک وارڈن کی طرف سے یہ ہونے والا ظلم نہ روکا تو تاجر برادر ی عوام کے ساتھ مل کر سڑکوں پر آجائے گی اور اس وقت تک سڑکوں پر رہے گی جب تک یہ ظلم ختم نہیں ہو جائے گا۔









































Visit Today : 171
Visit Yesterday : 460
This Month : 10054
This Year : 57890
Total Visit : 162878
Hits Today : 1066
Total Hits : 790244
Who's Online : 5






















