مظلوم فلسطنیوں کی امنگوں کے برخلاف دو ریاستی حل فلسطینیوں کی آواز نہیں ہے: مرکزی تنظیم تاجران پاکستان
ملتان : مرکزی تنظیم تاجران پاکستان کے مرکزی چیئرمین خواجہ سلیما ن صدیقی، مرکزی سنیئر نائب صدر الحاج بابر علی قریشی، جنوبی پنجاب کے صدر شیخ جاوید اختر، ضلع ملتان کے صدر سید جعفر علی شاہ،ملتان کے صدر خالد محمود قریشی،حسینہ بازار سورج میانی کے صدر ملک مزمل حسین کھاکھی، سورج میانی کے صدر کفایت حسین صدیقی، جعفریہ بازار کے صدر محمد اعجاز صدیقی، مصوم شاہ روڈ کے صدر محمد ذیشان ظفر، غلہ منڈی ملتان ڈوثزن کے صدر شیخ مدثر راجہ قریشی نے کہا کہ مظلوم فلسطنیوں کی امنگوں کے برخلاف دو ریاستی حل فلسطینیوں کی آواز نہیں ہے دو ریاستی حل دراصل اسرائیل کو بالواسطہ تسلیم کرنے کے مترادف ہے جوکہ بانی پاکستان کے اسرائیل کو ناجائز ریاست کہنے کے تاریخی قول کی نفی کرتا ہے ہم فلسطین کے حوالے سے قائد اعظم کے موقف سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے، دو ریاستی حل فلسطینیوں کی آواز نہیں ہے،یہ اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے یہ ٹرمپ کا نہیں قائد اعظم اور علامہ اقبال کا پاکستان ہے،ہم اسرائیل کے مخالف ہیں اور رہیں گے ہم فلسطینیوں کے ساتھ ہیں،ہم ظالم کے ساتھ نہیں مظلوم کے ساتھ ہیں مظلوم فلسطنیوں کی امنگوں کے برخلاف پاکستان حکومت کی جانب سے امریکی غزہ پلان کی حمایت کی شدید مذمت کرتے ہیں اسرائیل ایک غاصب اور ناجائز ریاست ہے جسے کسی صورت تسلیم نہیں کیا جا سکتا۔ امریکہ نہ صرف اسرائیلی جرائم میں برابر کا شریک ہے بلکہ ہر مرتبہ جنگ بندی اور انسانی ہمدردی کی قراردادوں کو ویٹو کر کے مظلوم فلسطینی عوام کے زخموں پر نمک چھڑکتا ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ منصوبہ دراصل بدنام زمانہ ڈیل آف سنچری ہی کی نئی شکل ہے، جسے کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ یہ افسوسناک امر ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے ٹرمپ کا منصوبہ مکمل طور پر پیش ہونے سے پہلے ہی اس کی تائید کر ڈالی اور بانی پاکستان کے اسرائیل کو ناجائز ریاست کہنے کے تاریخی قول کی نفی کر دی، جو دراصل اسرائیل کو بالواسطہ تسلیم کرنے کے مترادف ہے۔ اس طرزِ عمل پر پوری قوم اور اُمت مسلمہ میں شدید غم غصہ پا یا جاتا ہے کیونکہ حکمرانوں کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ انہیں ڈونلڈ ٹرمپ کو نہیں بلکہ خدا کو جوابدہ ہونا ہے،بڑی عجیب بات ہے امن کا پیغام لانے والے امریکہ نے گزشتہ مہینے میں فلسطین کے حوالے سے جنگ بندی کی قرار داد کو اقوام متحدہ میں ویٹو کیا،ہم پاکستانی پاسپورٹ سے اسرائیل کے حوالے سے تحریر کو ختم نہیں ہونے دیں گے، امریکی بیس نکاتی ایجنڈے میں اسرائیلی جارحیت کے حوالے سے ایک لفظ بھی موجود نہیں۔








































Visit Today : 193
Visit Yesterday : 460
This Month : 10076
This Year : 57912
Total Visit : 162900
Hits Today : 1238
Total Hits : 790416
Who's Online : 3






















