صمود فلوٹیلا سینیٹر مشتاق احمد خان کی گرفتاری اور فلسطین کا لہو

تحریر: ایس پیرزادہ

ظلم کی دیواریں کب تک؟

دنیا کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ ظلم اور جبر کبھی دائمی نہیں ہوتا ہر طاقتور بادشاہت اور ہر ظالم نظام ایک دن زمین بوس ہوا ہے آج فلسطین میں جاری بربریت بھی اسی ظلم کی ایک بھیانک شکل ہے جسے اسرائیل نے اپنی ریاستی طاقت کے ذریعے قائم کیا ہوا ہے بچے معصومیت کے ساتھ قبروں میں اُتار دیے جاتے ہیں مائیں اپنے لختِ جگر کو کفن پہناتی ہیں اور نوجوان اپنے خوابوں کے ساتھ شہید کر دیے جاتے ہیں ایسے ہی حالات میں دنیا بھر کے 44 ممالک سے تعلق رکھنے والے انسانی حقوق کے کارکنان صحافی سیاستدان اور امن کے سفیر Global Sumud Flotillaکے جھنڈے تلے جمع ہوئے یہ فلوٹیلا محض کشتیوں کا قافلہ نہیں بلکہ ایک امید کی کرن ہے جو محصور غزہ کے عوام تک انصاف اور روشنی کا پیغام لے کر جانا چاہتا ہے پاکستان سے جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان اس مشن میں شامل ہوئے انہوں نے نہ صرف فلسطین کے حق میں آواز بلند کی بلکہ خود کشتی پر سوار ہو کر دنیا کو یہ پیغام دیا کہ اصل قیادت وہی ہے جو اپنے الفاظ کے ساتھ ساتھ اپنے عمل سے بھی ظلم کے خلاف کھڑی ہو بدقسمتی سے اسرائیل نے اس عالمی امن قافلے کو روکنے کی کوشش کی اور سینیٹر مشتاق احمد خان سمیت کئی کارکنان کو گرفتار کر لیا۔ مگر سوال یہ ہے کہ کیا گرفتاری کسی کے ضمیر کو قید کر سکتی ہے؟ کیا ہتھکڑیاں کسی کی صدا کو خاموش کر سکتی ہیں؟ سینیٹر مشتاق احمد خان کی شخصیت ہی اس بات کی دلیل ہے کہ ظلم جتنا بھی بڑھ جائے ایمان اور حوصلے کو جھکا نہیں سکتا ان کا یہ قدم اس بات کا اعلان ہے کہ پاکستان کا ہر غیرت مند شہری فلسطین کے ساتھ ہے
فلسطین کے بچے دن رات موت اور بھوک کے سائے میں جی رہے ہیں اسکول ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں ہسپتالوں میں دوائیں ختم ہو چکی ہیں اور معصوم چہروں پر خوف کی لکیریں کھنچ چکی ہیں لیکن دنیا کی بے حسی حیران کن ہے طاقتور ریاستوں کی سیاست انسانی خون سے زیادہ قیمتی لگتی ہے یہی وہ المیہ ہے جس کے خلاف صمود فلوٹیلا جیسے قافلے جنم لیتے ہیں یہ لمحہ ہمیں سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں؟ کیا ہم صرف تماشائی ہیں یا اس جدوجہد کا حصہ؟ اگر ہم میدانِ عمل میں موجود نہیں تو کم از کم اپنی آواز اپنی دعا اور اپنے قلم کے ذریعے اس جدوجہد کو آگے بڑھا سکتے ہیں سینیٹر مشتاق احمد خان کی گرفتاری دراصل ایک صدا ہے کہ پاکستان کا بیٹا بھی فلسطین کے ساتھ ہے اور اس کی جدوجہد کو اپنا خون اور اپنا وقت دینے کے لیے تیار ہےصمود فلوٹیلا کے یہ قافلے محض سمندر کی لہریں نہیں چیرتے بلکہ وہ ظلم کی اندھیری راتوں میں روشنی کی کرن بن کر ابھرتے ہیں سینیٹر مشتاق احمد خان کی گرفتاری تاریخ میں ایک گواہی کے طور پر درج ہوگی کہ ظلم کے سامنے حق کبھی خاموش نہیں رہافلسطین کا خون پکار رہا ہے اور یہ صدا آنے والی نسلوں کے کانوں میں گونجتی رہے گی ہم ظلم کے آگے جھکیں گے نہیں اور فلسطین کے حق کو کبھی مرنے نہیں دیں گے مسلمان ہونے کے ناطے اس آواز کو کسی صورت بند نھیں ہونا چاہیئے
چند اشعار میرے قلم سے
یہ کس جرم کی سزا ہے یہ کون سا قصور ہے؟
لبوں پہ سچ کی صدا تھی دل میں نورِ شعور ہے

صمود فو ٹیلا کی مٹی گواہ آج بھی
مشتاق سا چراغ بجھا نہیں یہ ضرور ہے

ظلم کی زنجیروں سے ایمان کبھی جھکتا نہیں
روشنی کو قید کر کے اندھیرا کبھی جیتا نہیں

فلسطین کے لہو کی خوشبو صدا دے رہی ہے
یروشلم کی دیواریں بھی حق بتا رہی ہیں

یہ جبر یہ زہر یہ قید کی راتیں
کل سورج اُبھارے گا روشنی کی برساتیں

مشتاق کی ہمت چراغِ رہگزر ہے
یہ صدا قید سے نکل کر بھی امر ہے

فلسطین کی ماؤں کی آہیں گواہی دیں گی
شہیدوں کی خوشبو صداقت سنائیں گی

ہم ظلم کے آگے جھکیں گے نہیں
ہم حق کے پرچم کو بجھنے دیں گے نہیں