پوری قوم اسرائیلی ریاست کو کسی بھی صورت قبول نہیں کرے گی:ملک محمد عدنان ڈوگر
ملتان : پاکستان تحریک انصاف کے رہنما و ممبر صوبائی اسمبلی پنجاب و چیرمین اسٹینڈنگ کمیٹی پنجاب اسمبلی ملک محمد عدنان ڈوگر نے کہا ہے کہ پوری قوم اسرائیلی ریاست کو کسی بھی صورت قبول نہیں کرے گی اور نہ اس سے کسی قسم کوی تعلق رکھنا برداشت کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ فلسطین کا مسئلہ کسی ایک قوم یا گروہ کا مسئلہ نہیں ‘ یہ مسئلہ سارے عالم اسلام اور انسانیت کا مسئلہ ہے۔ اس مسئلہ کا حل کسی متنازعہ و یکطرفہ معاہدے سے ممکن نہیں بلکہ فلسطینیوں کے حق خودارادیت کو تسلیم کرنے سے یہ مسئلہ حل ہوگا۔ فلوبل صمود فلوٹیلا بحری بیڑے پر حملہ کرکے اسرائیل نے ایک بار پھر سفاکیت کا عملی مظاہرہ کیا ہے۔ جبکہ بحری بیڑہ میں شامل افراد کسی جنگی مہم جوئی پر نہیں جارہے ۔ یہ لوگ انسانی ہمدردی و خلوص نیت سے فلسطینوں کی خوراک ، طبی امداد کے لئے غزہ کی جانب عازم سفر ہیں۔ اسرائیل فلسطین جنگ میں ایک محتاط رپورٹ کے مطابق اب تک 66,148 (بشمول 17,492 بچے) افراد شہید ہوچکے ہیں ۔ 168,716 افراد زخمی ہوئے۔ اس کے علاوہ 1 ہزار سے زائد لوگ بھوک سے فوت ہوئے جس میں 300 سے زائد کم عمر بچے بھی شامل ہیں ۔ اسرائیلی حکام تسلّط برقرار رکھنے کے لیے فلسطینیوں کے خلاف منظّم امتیازی سلوک کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔مقبوضہ علاقوں میں اؚن میں سے کئی مظالم بنیادی حقوق کی پامالیوں اور غیرانسانی افعال سفاکیت کا حصّہ ہیں۔ اسرائیلی حکام نسلی امتیاز اور جبر کی پالیسی اختیار کر کے انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کر رہے ہیں۔ عالمی برادری بالخصوص مسلم امہ بڑی طاقتوں کے زیر اثر رہ کر معاہدہ کی حمایت نہ کرے بلکہ فلسطینیوں کیساتھ عملی اظہار یک جہتی کرتے ہوئے متحد ہو کر اسرائیل اور اسکے ہمنواؤں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرے۔ موجودہ حکومت نے بغیر سوچے سمجھے آنکھیں بند کرتے ہوئے معاہدہ کی حمایت کا اعلان کیا ہے جو کہ پاکستانی قوم کا ترجمان نہیں ۔ قوم اسرائل کو تسلیم نہیں کرتی اور نہ کرنے دے گی ۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار فلسطین کی آزاد ریاست کی حمایت اور اسرائیل کے نام نہاد معاہدے کے خلاف اپنے ایک بیان میں کیا۔ ملک عدنان ڈوگر نے کہا کہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کے ضمن میں بابائے قوم حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کا فرمان ہی کافی ہے کہ اسرائیل امت مسلمہ کے دل میں گھونپا گیا خنجر ہے۔ یہ ایک ناجائز ریاست ہے جسے پاکستان کبھی تسلیم نہیں کرے گا۔ اگر کسی نے بھی اس فرمان کے خلاف سوچنے کی بھی کوشش کی تو اسے عالم اسلام کے خلاف مہم سمجھا جائے گا۔








































Visit Today : 193
Visit Yesterday : 460
This Month : 10076
This Year : 57912
Total Visit : 162900
Hits Today : 1241
Total Hits : 790419
Who's Online : 3






















