میر طارق بگٹی پر اعتماد پاکستان ہاکی کے روشن مستقبل کی ضمانت
میر طارق بگٹی پر اعتماد پاکستان ہاکی کے روشن مستقبل کی ضمانت
تحریر :اظہار علی عباسی
پاکستان ہاکی فیڈریشن کے صدر میر طارق حسین بگٹی کی تقرری کو درست اور قانونی قرار
دینے کے بعد کھیلوں کی دنیا میں ایک مثبت اور حوصلہ افزا پیغام سامنے آیا ہے۔ اس فیصلے نے نہ صرف پاکستان ہاکی کے مستقبل کو نئی راہیں دکھائی ہیں بلکہ اس امر کی بھی تصدیق کر دی ہے کہ حق اور شفافیت کے راستے پر چلنے والے افراد بالآخر کامیاب ہوتے ہیں۔
یہ حقیقت ہے کہ میر طارق بگٹی کی قیادت اور انتظامی صلاحیتوں سے نہ صرف کھلاڑیوں بلکہ ہاکی کے شائقین کو بھی بڑی توقعات وابستہ ہیں۔ ان کی جدوجہد ہمیشہ قومی کھیل کو دوبارہ عروج دلانے، کھلاڑیوں کو سہولیات فراہم کرنے اور عالمی سطح پر پاکستان کا وقار بحال کرنے پر مرکوز رہی ہے۔ ان کی قانونی حیثیت کی توثیق اس بات کا ثبوت ہے کہ ہاکی فیڈریشن کے معاملات کو شفاف، اصولی اور آئینی دائرے میں چلایا جا رہا ہے۔ میر طارق بگٹی نے جب سے ہاکی کی بھاگ دوڑ سنبھالی ہے قوم کو ہاکی کی طرف سے خوشخبریاں کی ملی ہیں سینئر قومی ٹیم. جونیئر قومی ٹیم اور انڈر 18ہاکی ٹیم کی وکٹری اسٹینڈ پرفارمنس کسی اچنبھے سے کم نہیں صدر پاکستان ہاکی فیڈریشن میر طارق حسین بگٹی کے آنے سے قبل قومی ٹیم کی ورلڈ رینکنگ 18تھی جو اب 12 پر آ گئی ہے ایف آئی ایچ پرولیگ میں شرکت پاکستان ہاکی ٹیم کے لیے ایک خواب تھا جہاں دنیائے ہاکی کی ٹاپ ٹین ٹیموں مدمقابل ہوتی ہیں پاکستان ہاکی ٹیم اس سال ایف آئی ایچ پرو لیگ میں پہلی بار شرکت کرے گی جس سے کھلاڑیوں کی کارکردگی میں مزید بہتری آئے گی اور جدید ہاکی سیکھنے کو ملے گی اس سے علاوہ 21سال کے بعد جرمن ہاکی ٹیم پاکستان میں سیریز کھیلنے آئی اس کے علاوہ عمان کی ہاکی ٹیم نے پاکستان کا دورہ کیا حکومت نے فیڈریشن کو 12 کروڑ فنڈز دیئے جس سے تین ٹورز ممکن تھے لیکن میر طارق حسین بگٹی کے عزم کی بدولت پاکستانی ہاکی ٹیم نے 8دورے کیے ہاکی کی بہتری اور ترقی کیلئے فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر اور وزیر اعلی بلوچستان سرفراز بگٹی کی کاوشیں بھی قابل ستائش ہیں
اس موقع پر سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ مخالفین کی جانب سے رکاوٹیں کھڑی کرنے اور بے بنیاد سازشوں کے جال بچھانے کی تمام کوششیں ناکام ہوگئیں۔ جو لوگ ذاتی مفادات کے حصول کے لیے فیڈریشن کے نظام کو متنازع بنانے کی کوششوں میں مصروف تھے، ان کے تمام حربے بے اثر ثابت ہوئے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان ہاکی کو آگے بڑھانے کے لیے انتشار اور اختلاف کی نہیں بلکہ اتحاد اور عزم کی ضرورت ہے، اور میر طارق بگٹی کی کامیابی اسی اتحاد کی علامت ہے۔
انہوں نے ہمیشہ یہ عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود، کھیل کے ڈھانچے کی مضبوطی اور نوجوان ٹیلنٹ کو آگے لانے کے لیے عملی اقدامات کریں گے۔ ان کی قیادت میں ہاکی کے فروغ کے لیے نئے منصوبے اور جدید حکمت عملیاں سامنے آنے کی توقع ہے۔
یہ وقت پاکستان ہاکی کے تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے بھی پیغام ہے کہ وہ ذاتی مفادات کو پس پشت ڈال کر قومی کھیل کے استحکام اور ترقی کے لیے متحد ہوں۔ میر طارق بگٹی پر اعتماد کا اظہار دراصل پاکستان ہاکی کے روشن مستقبل پر اعتماد ہے۔
آخر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ میر طارق حسین بگٹی کی تقرری کی توثیق صرف ایک قانونی فیصلہ نہیں بلکہ پاکستان ہاکی کے لیے ایک نئے دور کا آغاز ہے، اور یہ اس بات کی علامت ہے کہ سازشیں وقتی ہوتی ہیں لیکن سچائی اور اصول پر مبنی جدوجہد ہمیشہ کامیاب ہوتی ہے۔








































Visit Today : 193
Visit Yesterday : 460
This Month : 10076
This Year : 57912
Total Visit : 162900
Hits Today : 1239
Total Hits : 790417
Who's Online : 3






















