پنجاب پولیس کی کھلی کچہریاں — ریلیف کی بجائے تکلیف کا باعث

✍️ کالم نگار: کلب عابد خان
پنجاب بھر میں پولیس کی جانب سے شہری مسائل کے حل کے لیے لگائی جانے والی کھلی کچہریاں عملی طور پر عوام کے لیے ریلیف کے بجائے تکلیف کا باعث بن چکی ہیں۔ خاص طور پر ملتان میں منعقد ہونے والی ان کچہریوں کا حال یہ ہے کہ شہریوں کو انصاف دینے کے بجائے ان کا قیمتی وقت ضائع کیا جا رہا ہے، اور بیشتر شکایات نظر انداز یا دبائی جا رہی ہیں۔
شکایات آئی جی تک نہیں، صرف فوٹو افسران تک
اکثر یہ مشاہدہ کیا گیا ہے کہ صرف معمولی نوعیت کی تحریری شکایات ہی آئی جی آفس تک پہنچتی ہیں، اور وہ بھی غیر مؤثر کارروائی کے ساتھ۔ سائلین کی سنوائی کے بجائے انہیں عدالتوں کے دروازے کھٹکھٹانے پر مجبور کیا جاتا ہے، جبکہ تھانوں میں موجود افسران ان مسائل پر کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دیتے۔
میرٹ غائب، مرضی کی کارروائیاں
رشوت، سفارش اور ذاتی مفاد کے باعث میرٹ پس پشت ڈال دیا گیا ہے۔ کچہریوں میں شہری انصاف کے متلاشی آتے ہیں، لیکن اکثر ان کی فائلیں کاغذوں میں دب کر رہ جاتی ہیں۔ اس صورتحال نے عوام کے دلوں میں پولیس کے نظام پر اعتماد کو شدید مجروح کیا ہے۔
درخواستوں کا مؤثر نظام ناگزیر
ضرورت اس بات کی ہے کہ سی پی او اور اعلیٰ افسران ان کچہریوں کو محض رسمی کارروائی نہ بنائیں بلکہ ایک مؤثر نظام ترتیب دیں۔ جہاں جہاں سے درخواستیں موصول ہوں، انہیں نمبر الاٹ کیا جائے، اور سائلین کو باقاعدہ ان کھلی کچہریوں میں بلایا جائے تاکہ ان کی سماعت متعلقہ تھانے کے افسران کی موجودگی میں ہو۔ اگر اس طرز پر سماعت کی جائے تو نہ صرف عوامی اعتماد بحال ہو گا بلکہ نظامِ انصاف میں شفافیت بھی پیدا ہوگی۔
تعمیراتی ترجیحات، عوامی مسائل پس منظر میں
ملتان کے کئی افسران اپنی ترجیحات میں تعمیراتی منصوبوں اور فوٹو سیشنز کو فوقیت دیتے ہیں، جبکہ عوامی مسائل، شہری تحفظ، ٹریفک اصلاحات، اور شکایات کے حل پر کوئی توجہ نہیں دی جاتی۔ عدالتوں کے احکامات کو بھی اکثر نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
اچھے افسران موجود، مگر نظام مفلوج
پنجاب پولیس میں آج بھی کئی تجربہ کار، ایماندار اور فرض شناس افسران موجود ہیں، جو سسٹم میں بہتری لا سکتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے کرپشن اور سیاسی اثر و رسوخ پر مبنی موجودہ نظام نے ان افسران کو بھی غیر مؤثر کر دیا ہے۔
تاجروں اور سول سوسائٹی کو نظرانداز کرنا
ایک دور تھا جب پولیس تاجروں، سول سوسائٹی اور شہری نمائندوں سے باقاعدہ مشاورت کرتی تھی۔ مگر اب وہ روایت ختم ہو چکی ہے۔ دکانداروں کو معمولی باتوں پر نشانہ بنایا جا رہا ہے، جبکہ منتخب تاجر صدور اور نمائندے بھی بے اثر ہو گئے ہیں۔ نتیجہ یہ ہے کہ شہر میں انتظامی بدحالی اور عدمِ تحفظ میں اضافہ ہو رہا ہے۔
جدید عمارات، پرانی عادات
پولیس اسٹیشنز کو اگرچہ جدید طرز پر تعمیر کیا جا رہا ہے، مگر بدقسمتی سے اہلکاروں کی عادات وہی پرانی ہیں — چائے پانی، سفارش، رشوت، جھوٹے مقدمات کا اندراج اور من پسند فیصلے۔ یہی پرانی روشیں شہریوں کے لیے ریلیف نہیں، بلکہ تکلیف کا باعث بن رہی ہیں۔
اگر حکومت واقعی عوام کو ریلیف دینا چاہتی ہے تو کھلی کچہریوں کو محض دکھاوا نہیں بلکہ نتیجہ خیز فورم بنایا جائے، جہاں سائل کی سنوائی ہو، شکایت پر کارروائی ہو، اور میرٹ کو اولین ترجیح دی جائے۔ ورنہ عوام کا نظامِ انصاف پر اعتماد مکمل طور پر ختم ہو جائے گا۔