ملتان (صفدربخاری سے)  امیر جماعت اسلامی ضلع ملتان صہیب عمار صدیقی نے کہا ہے کہ حکومت آئندہ وفاقی بجٹ میں عوام کی حقیقی ترجیحات کو نظر انداز نہ کرے۔ بجٹ آئی ایم ایف کے دباؤ پر نہیں، بلکہ پاکستان کے کسان، مزدور، تنخواہ دار طبقے اور محروم علاقوں کی ضروریات کو مدِنظر رکھ کر بنایا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی پنجاب ملک کی زرعی ریڑھ کی ہڈی ہے، مگر ہر سال کے بجٹ میں اس خطے کو نظر انداز کیا جاتا ہے۔ اس سال بھی اگر کسانوں کے لیے کھاد، بیج، زرعی مشینری اور پانی کے انتظامات پر خاطر خواہ فنڈز مختص نہ کیے گئے تو یہ ایک ناقابلِ معافی ظلم ہوگا۔ زراعت پر انحصار کرنے والے لاکھوں افراد پہلے ہی موسمیاتی تبدیلی، مہنگائی اور حکومتی بے حسی کا شکار ہیں۔
صہیب عمار صدیقی نے کہا کہ بجٹ سے قبل ہم یہ واضح کرنا چاہتے ہیں کہ
جنوبی پنجاب کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکج دیا جائے
کسانوں کو سبسڈی دی جائے اور زرعی قرضوں پر سود معاف کیا جائے
پانی کی منصفانہ تقسیم اور نہری نظام کی بحالی کو بجٹ کا حصہ بنایا جائے
گندم خریداری میں کسانوں سے زیادتیوں کا ازالہ کیا جائے
انہوں نے مزید کہا کہ ملک کا تنخواہ دار طبقہ مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے۔ پیٹرول، بجلی، گیس اور روزمرہ اشیاء کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے سے مڈل کلاس تباہ حال ہوچکی ہے ۔ ہم مطالبہ ہے کرتے ہیں کہ
ایک لاکھ تنخواہ والے افراد کو ٹیکس میں چھوٹ دی جائے
انکم ٹیکس میں نرمی اور ٹیکس فری حد میں اضافہ کیا جائے
امیر جماعت اسلامی ملتان نے کہا کہ اگر بجٹ عوام دشمن ہوا تو حکومت کو شدید عوامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے ۔ بجٹ عوام کا ہے، اسے اشرافیہ کے مفادات کی دستاویز نہ بنایا جائے۔