ملتان:  باکسز آف کائنڈنس کے 9 سال مکمل ہونے پر ایک پروقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں سماجی خدمات اور فلاحی سرگرمیوں کو بھرپور انداز میں سراہا گیا۔ تقریب کا مقصدتنظیم کی فلاحی خدمات کو اجاگر کرنا اور خدمتِ انسانیت کے جذبے کو فروغ دینا تھا۔ باکسز آف کائنڈنس کی چیئرپرسن مسز انیقہ وردہ نے کہا کہ ہماری تنظیم گزشتہ نو برسوں سے خدمتِ انسانیت کے جذبے کے تحت بلا تفریق لوگوں کی مددکر رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ خصوصاً سیلاب زدگان کی امداد میں نمایاں کردار ادا کیا اور مشکل حالات میں متاثرہ خاندانوں تک راشن، کپڑے اور دیگر ضروری اشیاء پہنچائیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری تنظیم صرف انسانوں ہی نہیں بلکہ بے زبان مخلوق کا بھی خیال رکھتی ہے، جس کے تحت پرندوں کے لیے دانہ اور پانی کا باقاعدہ انتظام کیا جاتا ہے۔خاص طور پر گرمیوں کے موسم میں دانہ پانی ملتان شہر اور دیگر شہروں میں بے شمار لوگوں کی چھتوں پر فراہم کیے جاتے ہیں مسز انیقہ وردہ نے مزید کہا کہ یہ تمام سرگرمیاں باکسز آف کائنڈنس ممبران کے تعاون محنت سے ممکن ہوئی ہیں، اور آئندہ بھی اسی جذبے کے ساتھ خدمت کا سلسلہ جاری رکھا جائے گا۔اور شہر کے مخیر حضرات کو چاہیے کہ اس کار خیر کے کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں تاکہ بہتر طریقے سے دکھی انسانیت کی خدمت کر سکے۔ باکسز آف کائنڈنس کے وائس چیئر مین ارسلان انصاری نے کہا ہمارا یہ مشن ہے دکھی انسانیت کی خدمت، سماجی و فلاحی منصوبوں کی تکمیل اورکمیونٹی کوفروغ تعلیم پائیدار صحت سماجی آہنگی غربت اورآلودگی کے خاتمے، شجرکاری مہم، صاف پانی کی فراہمی کے لیے بھر پر اقدامات کے لیے ممبران کے تعاون سے ہر ممکن جدوجہد جاری ر کھیں گے تقریب میں تنظیم کی 9 سالہ کارکردگی پر روشنی ڈالی گئی اور نمایاں خدمات انجام دینے والے ممبران کو خراج تحسین پیش کیا گیا۔تقریب میں پنجاب، سمیت دیگر صوبوں سے آنے والے شرکاء نے کہا کہ باکسز آف کائنڈنس سماجی وفلاح بہبود کے کاموں میں اپنا عملی کردار اداکر رہی ہے۔اور ان کی اپنی مدد آپ کے تحت ان کے فلاحی منصوبے بہتر انداز میں جاری رکھے ہوئے ہیں مستحق اور نادار اور سفید پوش افراد ان منصوبوں کی بدولت خوش حال ہورہے ہیں۔ تقریب سے ڈاکٹر عمیر، ڈاکٹر سلیم، ڈاکٹر ارسلان،طحہ بنیری، عکاس فیروز، فراز انعام، حدیقہ اسلام، ارسلان انصاری، انس انصاری، محمد نعیم، جلالی، شیش، عباد، حسان، طلحہ، فہد، سائم، عبدالہادی، اویس، زوہیب فہیم، شعیب سعید، مہدی رضا، محمد اویس، رمنا بشیر، طلحہ طارق، ارمان علی، طیب عامر، دانیال دانش، بسمہ اسلام، معاوض محفوظ، عبدالرحمن و دیگر نے خطاب کیا۔