ملتان : سرکاری اداروں سے کرپشن ،بدعنوانیوں رشوت ، غیر حاضری پر کنٹرول کر کے اصلاح کی بجائے ہزاروں آسامیاں ختم کر کے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والی نوجوان نئی نسل کو نہ صرف بے روزگاری کا شکار بلکہ مایوسی کی طرف دھکیلنا ہے وفاقی وصوبائی حکومتوں سے پرزور اپیل ہے کہ وہ آسامیاں ختم کرنے کی بجائے نئے ادارے قائم کر کے نوجوان نسل کے ٹیلنٹ سے ملکی ترقی کے لئے کام لیں ان خیالات کا اظہار عوامی احتساب سیل و نیشنل لیبر الائنس کے مرکزی چیئرمین غازی احمد حسن کھوکھر نے حکومت کی طرف سے مختلف سرکاری محکموں سے ہزاروں آسامیوں کو ختم کرنے پر شدید دکھ کا اظہار کیا غازی احمد حسن کھوکھر نے کہا کہ وزیر اعظم میاں شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب محترمہ مریم نواز شریف صاحبہ اور دیگر وزراء اعلیٰ خالی آسامیوں کو ختم کرنے کی بجائے سکیل 1 تا 16 تک سرکاری ملازمین کی ریٹائرمنٹ کی عمر ،55 سال مقرر کر دی جائے اور کلرک کے عہدہ کے لئے 60 فیصد کوٹہ خواتین کے لیے مقرر کر دیا جائے انھوں نے کہا کہ گھوسٹ ملازمین جس ادارے میں ثابت ہوں ان ملازمین کو برطرف کیا جائے نہ پوسٹیں ہی ختم کر دی جائیں غازی احمد حسن کھوکھر نے کہا ملک بھر میں مزدوروں اور ملازمین کی حقیقی تنظیم کوئی نہیں ہے چھوٹی و سطحی سوچ کے حامل اپنے اپنے امیجیٹ افسران سے مرعوب ذدل قسم کے لوگوں نے ملازمین کو بہت نقصان پہنچایا ہے انھوں نے کہا کہ لیبر عدالتیں ، قومی صنعتی تعلقات کمیشن NiRC سروسز ٹربیونل میں نئے قوانین کی وجہ سے ملازمین کے سینکڑوں کیس خارج ہو رہے ہیں انھوں نے حکومت سے اپیل کی کہ مزدوروں اور نچلے درجے کے ملازمین پر رحم کیا جائے