دو جون 1818ء یوم سقوط مُلتان،، سرائیکی خطہ کے لئے ایک سیاہ ترین دن تھا: پروفیسر ڈاکٹر طارق محمود انصاری
ملتان (صفدربخاری سے) سابق وائس چانسلر بہاوّالدین زکریا یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر طارق محمود انصاری نے کہا ہے کہ دو جون 1818ء یوم سقوط مُلتان، سرائیکی خطہ کے لئے ایک سیاہ ترین دن تھا۔ رنجیت سنگھ نے ظلم و بربادی کی ایک نئی تاریخ مُلتان میں لکھی، جب شہریوں کا قتل عام ہوا۔ نواب مظفر خان سدوزئی کی حکومت کا خاتمہ کرکے رنجیت سنگھ نے سلطنت ملتان پر قبضہ کیا۔ نواب مظفر خان خالص ملتانی تھا۔ اس نے سودے بازی و بھاری مراعات کو جوتے کی نوک پر رکھتے ہوئے اپنے اہل و عیال کیساتھ قربانی دے کر خود کو اس دھرتی کا بیٹا ثابت کیا۔ بدقسمتی نے ملتان کی تاریخ کو بری طرح مسخ کیا گیا جس کی وجہ سے لوگ نواب مظفر خان سدوزئی شہید کی طرز حکمرانی و کارناموں سے ناآشنا ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا ظہار گذشتہ روز نواب مظفر خان سدوزئی شہید فاوّنڈیشن کے زیر اہتمام روہی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن، شعور ترقیاتی تنظیم اور سول سوسائٹی فورم ملتان کے مشترکہ اشتراک سے ”یوم سقوط ملتان“ کے ضمن میں منعقدہ سالانہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر الگ الگ گفتگو کرتے ہوئے ممبر صوبائی اسمبلی مقصودہ انصاری، سابق صدر ایوان و صنعت و تجارت نواب محمد خان سدوزئی، سیاسی و سماجی رہنما بیرسٹر ملک محمد عثمان ڈوگر اور چئیرمین ڈرگ کورٹ خالد جاوید بخاری،چئیرمین روہی ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن میجر R مجیب احمد خان نے کہا کہ سابق حاکم مُلتان نواب مظفر خان سدوزئی شہید نے ظلم کے خلاف اپنی اور اپنے خاندان والوں کی جان اللہ کی راہ میں قربان کر کے عملی ثابت کیا ہے کہ حق اور نا انصافی کی جنگ میں حق کا ساتھ دیتے ہوئے سر جھکایا نہیں جاتا بلکہ سینہ تان کر دشمن کا مقابلہ کیا جاتا ہے۔تقریب سے اپنے الگ الگ خطاب میں ایم احسان خان سدوزئی، ڈاکٹر فاروق لنگاہ، شاہد محمود انصاری، جواد امین قریشی،پروفیسر عنایت علی قریشی، قمر ہاشمی، ممتاز سومرو، چوہدری منصور احمد، اسحاق خان سدوزئی اور عامر شہزاد صدیقی نے کہا کہ مقررین نے کہا کہ تاریخ سے نا آشنائی ہمیں جہالت اور لا علمی کے زمانے میں لے جارہی ہے۔ ٹیکنالوجی جس تیزی سے آگے کی جانب سفر کررہی ہے، ہم اس سے کہیں تیز رفتاری سے تنزلی کی جانب بڑھ رہے ہیں۔ جنوبی پنجاب و سرائیکی خطہ آج بھی رنجیت سنگھ صفت حکمرانوں کے قبضہ میں ہے۔207سال قبل کی رنجیت سنگھ کی ظالمانہ و وحشیانہ سوچ اور قبضہ آج بھی موجود ہے جس کی وجہ سے یہاں کے آباد لوگ آج بھی بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں۔ تخت لاہو رنے اسی خطے کے غداروں کی مدد سے سرائیکی عوام کو غلام سمجھ کر اپنے اپنے مفادات کو تحفظ دیا اور ظالم و جابر رنجیت سنگھ کی پالیسیوں پر تسلسل کے ساتھ عملدرآمد آج بھی جاری ہے۔شرکائے تقریب نے ارباب اختیارات سے متفقہ مطالبات پیش کرتے ہوئے کہا کہ سابق حاکم مُلتان نواب مظفر خان سدوزئی شہید کا حضرت بہاؤالدین زکریاؒ کی درگاہ میں واقع مزار اور شجاع آباد اور مظفر گڑھ میں واقع ان کے خستہ حال محلات اور قلعوں کو محفوظ بنایا جائے۔ سابق حاکم مُلتان نواب مظفر خان سدوزئی شہید کو تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے اور شہر کے کسی ایک بڑے چوراہے کو سابق حاکم مُلتان نواب مظفر خان سدوزئی شہیدکے نام سے منسوب کرتے ہوئے وہاں ان کی یاد گار بنائی جائے۔ تقریب میں نورالامین خاکوانی، یحییٰ بھٹی، فرحان حقانی ، امیر نواز، محمد علی رضوی، قاری محمد اقبال، ڈاکٹر اعجاز رسول، میاں ماجد ،نواب سکندر خان سدوزئی، یاسمین خاکوانی، نواب زوال خان سدوزئی، نواب ایوب خان سدوزئی سمیت شہریوں کی بڑی تعداد شریک ہوئی۔۔۔







































Visit Today : 198
Visit Yesterday : 581
This Month : 12430
This Year : 60266
Total Visit : 165254
Hits Today : 1368
Total Hits : 830165
Who's Online : 5




















