عید اور فطرانہ غریب مستحق اور یتیموں کو مت بھولیں

تحریر: شاہدہ پیرزادہ شھگی

عید کی خوشیاں ہر دروازے پر یکساں دستک نہیں دیتیں کہیں نئے کپڑوں، مزیدار کھانوں اور قہقہوں کی بہار ہوتی ہے، تو کہیں پیوند زدہ لباس، خالی دسترخوان اور اداس آنکھیں عید کا منظر پیش کرتی ہیں۔ مگر کیا واقعی عید کا مطلب صرف اپنی خوشیوں میں مست ہو جانا ہے؟ نہیں، عید کا اصل فلسفہ تو دوسروں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیرنے میں ہے، خاص طور پر ان کے لیے جو سال بھر غربت، تنگ دستی اور بے سہارا پن کے بوجھ تلے دبے رہتے ہیں
اسلام نے ہمیں جو خوبصورت معاشرتی نظام دیا ہے، اس میں فطرانہ ایک ایسی حکمت ہے جو عید سے پہلے ہی غریبوں اور یتیموں کی ضروریات کا خیال رکھنے کا درس دیتی ہے۔ فطرانہ محض ایک مذہبی فریضہ نہیں بلکہ ایک عملی اقدام ہے جس کے ذریعے ہم محروم طبقے کو عید کی خوشیوں میں شامل کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فطرانے کو فرض کر کے یہ پیغام دیا کہ کسی غریب مستحق یا یتیم کو یہ احساس نہ ہو کہ وہ دوسروں سے کمتر ہے، یا عید اس کے لیے ایک نیا بوجھ لے کر آئی ہے
غریب مستحق اور یتیموں کو یاد رکھیں
ہمارے معاشرے میں ایسے لاکھوں غریب مستحق اور یتیم بچے ہیں جو دن رات محنت کرتے ہیں، جن کے چہرے پر وقت سے پہلے جھریاں آ جاتی ہیں، جو دوسروں کے گھروں میں خوشیاں دیکھ کر اپنی آنکھیں جھکا لیتے ہیں، اور جو اپنی چھوٹی چھوٹی خواہشات کو دل میں دفن کر کے جینے کے عادی ہو چکے ہیں۔ کیا ہمارا فرض نہیں بنتا کہ ہم ان کے لیے بھی عید کو خوشیوں کا پیغام بنا دیں؟
یتیم کے سر پر ہاتھ رکھیں بے شمار نیکیاں کمائیں
ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یتیموں سے محبت اور شفقت کا عملی نمونہ پیش کیا۔ حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ جو شخص کسی یتیم کے سر پر شفقت سے ہاتھ رکھے تو اس کے ہاتھ کے نیچے جتنے بال آتے ہیں، اتنی ہی نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔
ذرا سوچیے! اگر ہم کسی یتیم کے آنسو پونچھیں اس کے لیے نئے کپڑے کھلونے یا عیدی کا بندوبست کریں تو اللہ ہمیں کس قدر نوازے گا؟ یہ نیکیاں صرف آخرت میں نہیں بلکہ دنیا میں بھی ہمارے دل کو سکون اور روح کو روشنی عطا کریں گی
عید کی اصل خوشی دینے میں ہے، لینے میں نہیں
عید وہ ہے جہاں کوئی بچہ نیا لباس پہن کر مسجد جائے، کوئی ماں اپنے بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ دیکھ کر خوش ہو، اور کوئی باپ بازار میں یوں نہ کھڑا ہو کہ ہر گزرتا لمحہ اس کے زخموں کو مزید گہرا کر دے۔ جو لوگ اپنی عید پر ہزاروں روپے خرچ کرتے ہیں، اگر وہ اس میں سے کچھ حصہ غریب مستحق اور یتیم بچوں کے لیے نکال دیں تو یقین جانیے، کسی کا دل جیتنے سے بڑی کوئی خوشی نہیں ہو سکتی
فطرانے کا اصل مقصد عید کی خوشیوں کو سب کے لیے برابر کرنا ہے۔ اگر ہم یہ سوچ کر تاخیر کریں کہ عید کے دن دیں گے، تو شاید اس کا فائدہ وہ نہ اٹھا سکے، جسے اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ فطرانہ وقت پر دیا جائے اور اتنا دیا جائے کہ واقعی کسی غریب مستحق یا یتیم کی مدد ہو سکے
اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری عید حقیقت میں مکمل ہو، تو آئیے! اس عید پر اپنے اردگرد ان غریب مستحقین اور یتیموں کو تلاش کریں جو سفید پوشی کا بھرم رکھتے ہیں، جو سوال نہیں کرتے مگر ضرورت مند ہیں، جو اپنی عزت نفس کے باعث ہاتھ پھیلانے کے بجائے چپ چاپ تکلیف سہتے ہیں۔ ہمیں آگے بڑھ کر ان کی مدد کرنی ہوگی، اور یہ مدد صرف فطرانے تک محدود نہیں ہونی چاہیے، بلکہ راشن، کپڑے، عیدی اور دیگر ضروریات کی صورت میں بھی ہو سکتی ہے
عید کا مطلب صرف اپنی ذات کی خوشی نہیں بلکہ دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرنا بھی ہے۔ آئیے اس عید پر اپنے فطرانے اور صدقات کے ذریعے غریب مستحقین اور یتیم بچوں کے چہروں پر مسکراہٹ لائیں، تاکہ عید کا چاند سب کے لیے یکساں روشنی لے کر آئے یہ عید خوشیوں کی عید ہو اور یہ خوشی صرف لینے میں نہیں بلکہ دینے میں ہے