ملتان: پنجاب بھر میں بنیادی مراکز صحت اور ہسپتالوں کی نجکاری پہلے سے پریشان حال محنت کشوں کے زخموں پہ نمک چھڑکنے کے مترادف ہے! ۔ ان خیالات کا اظہار ندیم پاشا ایڈووکیٹ ریجنل آرگنائزر پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین ملتان نے اپنے اخباری بیان میں کیا- انھوں نے کہا کہ پہلے سے پریشان حال محنت کش طبقہ کو ملنے والی تھوڑی بہت علاج کی سہولت چھیننا زخموں پہ نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔ پاکستان ان ممالک میں سے جہاں سب سے کم بجٹ صحت اور تعلیم جیسی بنیادی ضرورت کے لئے رکھے جاتے ہیں- پرائیویٹ ہسپتالوں میں تو صرف وہ 2% مراعات یافتہ طبقات ہی علاج کرواسکتے ہیں۔پہلے اس ملک میں 82% لوگ غیر سائنسی علاج کروانے پہ اس لئے مجبور ہیں کہ ان کے پاس اس علاج کو خریدنے کے وہ پیسے ہی نہیں ہیں۔ 1600 افراد کے لئے 1ڈاکٹر،1نرسنگ سٹاف، 1پیرامیڈکل سٹاف اور ایک سینٹری سٹاف میسر ہے جو دنیا بھر شاید سب سے کم تعداد ہے-ان مساعد ترین حالات یہ تھوڑی بہت صحت کی سہولیات کسی نعمت سے کم نہیں۔ ایک طویل عرصے سے تمام حکومتیں عالمی مالیاتی اداروں کی ایما پر خود تمام ذمہ داریوں سے خود لاتعلق کر چکی ہیں۔ ہم پاکستان ٹریڈ یونین ڈیفنس کمپئین کی جانب سے حکومت کو یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ پنجاب حکومت عوام دشمن اقدامات سے باز آجائے۔ پنجاب بھر میں ڈاکٹرز،نرسنگ سٹاف، پیرامیڈیکل سٹاف اور سینٹری ورکر سٹاف اس وحشیانہ اقدامات کے سراپا احتجاج ہیں ہم ان احتجاجی مظاہروں کی حمایت کرتے ہیں اور پورے پاکستان میں اس وحشیانہ اقدام کے خلاف احتجاج بھی کریں گے اور پنجاب بھر میں ہونے والے مظاہروں بھرپور شرکت بھی کریں گے،ان تمام وحشیانہ اقدامات کے خلاف طبقاتی بنیادوں پر متحد ہوکر جدوجہد ہی وہ واحد راستہ ہے جو راہ نجات ہے۔