ورلڈ میٹرولوجیکل ڈے موسمیاتی سائنس ماحولیاتی چیلنجز اور شجرکاری کی اہمیت

تحریر: شا ہدہ پیر زادہ شھگی

دنیا بھر میں ہر سال 23 مارچ کو ورلڈ میٹرولوجیکل ڈے منایا جاتا ہے جس کا مقصد موسمیاتی سائنس کی اہمیت کو اجاگر کرنا بدلتے موسموں کے اثرات پر روشنی ڈالنا اور عوام کو موسمیاتی تبدیلیوں سے آگاہ کرنا ہے۔ یہ دن اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ میٹرولوجیکل آرگنائزیشن (WMO) کے زیرِ اہتمام منایا جاتا ہے، جو 1950 میں قائم ہوا اور دنیا بھر میں موسم، پانی اور ماحولیاتی سائنس کے حوالے سے تحقیق و ترقی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے
موجودہ دور میں موسمیاتی تبدیلی ایک سنگین حقیقت بن چکی ہے۔ گلوبل وارمنگ، شدید موسمی حالات، غیر متوقع بارشیں، طوفان، گرمی کی لہریں، سیلاب اور خشک سالی جیسے مسائل دنیا کے بیشتر خطوں کو متاثر کر رہے ہیں۔ اقوامِ متحدہ کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق، اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آئندہ چند دہائیوں میں درجہ حرارت میں 1.5 ڈگری سینٹی گریڈ تک اضافہ ہو سکتا ہے، جو نہ صرف ماحول بلکہ انسانوں، زراعت، معیشت اور پانی کے ذخائر پر بھی تباہ کن اثرات مرتب کرے گا
پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک موسمیاتی تبدیلیوں کے براہِ راست نشانے پر ہیں۔ 2022 کے تباہ کن سیلاب نے ثابت کر دیا کہ اگر ہم نے بروقت اقدامات نہ کیے تو مستقبل میں مزید تباہ کن آفات سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ شدید گرمی کی لہریں، پانی کی قلت اور گلیشیئرز کا تیزی سے پگھلنا ہمارے لیے خطرے کی گھنٹی ہے
پاکستان میں محکمہ موسمیات (PMD) موسم کی نگرانی اور پیشگوئی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے جدید ٹیکنالوجی، سیٹلائٹ ڈیٹا اور ریڈار سسٹمز کی مدد سے محکمہ موسمیات موسمیاتی تبدیلیوں، مون سون بارشوں، سمندری طوفانوں اور دیگر قدرتی آفات کی پیشگوئی کر رہا ہے۔ تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمیں مزید ریسرچ سنٹرز، جدید انفراسٹرکچر اور عوامی شعور بیدار کرنے کی ضرورت ہے تاکہ ہم ممکنہ تباہی سے بچ سکیں
موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے شجرکاری مہم انتہائی ضروری ہے۔ درخت زمین کے درجہ حرارت کو متوازن رکھنے، ہوا کو صاف کرنے اور قدرتی آفات کے اثرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ پاکستان میں حالیہ برسوں میں مختلف سطحوں پر شجرکاری مہم چلائی گئی ہے، جن میں “ٹین بلین ٹری سونامی” جیسے منصوبے شامل ہیں۔ ماحولیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہر فرد سال میں کم از کم ایک درخت لگائے اور اس کی پرورش کرے، تو ہم موسمیاتی تبدیلیوں کے منفی اثرات کو بڑی حد تک کم کر سکتے ہیں
درخت فضا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرکے آکسیجن فراہم کرتے ہیں، جو گلوبل وارمنگ کے اثرات کم کرنے میں مدد دیتا ہے
زیادہ درخت لگانے سے گرمی کی شدت میں کمی آتی ہے اور شہر زیادہ پُرسکون اور ٹھنڈے ہو جاتے ہیں
زمینی کٹاؤ اور سیلاب سے تحفظ: درختوں کی جڑیں زمین کو مضبوط کرتی ہیں اور پانی کو جذب کرنے میں مدد دیتی ہیں، جس سے سیلاب کے خطرات کم ہوتے ہیں درختوں کی موجودگی مختلف پرندوں، جانوروں اور حشرات کے لیے محفوظ مسکن فراہم کرتی ہے درخت لکڑی، پھل اور جڑی بوٹیاں فراہم کرتے ہیں، جو معیشت کو فائدہ پہنچاتے ہیں
موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کو کم کرنے کے لیے درج ذیل اقدامات ناگزیر ہیں
شجرکاری مہم کو مزید فروغ دینا اور عوامی شعور بیدار کرنا کاربن کے اخراج میں کمی کے لیے قابل تجدید توانائی (سولر، ونڈ اور ہائیڈرو پاور) پر زیادہ انحصار کرنا ماحولیاتی قوانین پر سختی سے عملدرآمد تاکہ صنعتوں اور گاڑیوں سے خارج ہونے والی آلودگی کو روکا جا سکےپانی کے وسائل کا مؤثر انتظام تاکہ خشک سالی اور پانی کی قلت سے بچا جا سکےجدید موسمیاتی ٹیکنالوجی کا استعمال تاکہ موسمیاتی آفات کی بروقت پیشگوئی کی جا سکے
ورلڈ میٹرولوجیکل ڈے ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ قدرتی آفات اور موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے بچنے کے لیے اجتماعی اقدامات ناگزیر ہیں۔ موسمیاتی سائنس جدید تحقیق، شجرکاری مہم اور پائیدار ترقی کی حکمت عملی اپنا کر ہم زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کو کم کر سکتے ہیں۔ ہمیں زمین کی بقا کے لیے قدرتی وسائل کے تحفظ، ماحول دوست طرزِ زندگی اپنانے اور آئندہ نسلوں کے لیے ایک محفوظ مستقبل کی بنیاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے آج اقدام نہ کیا تو کل بہت دیر ہو چکی ہوگی