یومِ پاکستان 23 مارچ کی تاریخ ساز اہمیت
یومِ پاکستان 23 مارچ کی تاریخ ساز اہمیت
تحریر: شاہدہ پیرزادہ شھگی
23
مارچ پاکستانی تاریخ کا ایک ایسا سنہری دن ہے جو برصغیر کے مسلمانوں کے سیاسی شعور، یکجہتی اور عزمِ صمیم کا مظہر ہے۔ یہ وہ دن ہے جب 1940ء کو لاہور کے تاریخی منٹو پارک (موجودہ اقبال پارک) میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں قراردادِ پاکستان منظور کی گئی۔ اس قرارداد نے برصغیر کے مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کے قیام کی راہ ہموار کی، جہاں وہ آزادی، مساوات اور اسلامی اقدار کے مطابق زندگی بسر کر سکی
یہ تاریخی قرارداد قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت میں منظور کی گئی، جس میں پہلی بار واضح طور پر یہ مطالبہ کیا گیا کہ برصغیر کے مسلمانوں کو ایک علیحدہ ریاست دی جائے۔ اس قرارداد نے نہ صرف تحریکِ آزادی کو ایک نئی سمت دی بلکہ مسلمانوں کو ایک مشترکہ مقصد کے تحت متحد کر دیا
23 مارچ 1940ء سے قبل مسلمان صرف اپنے حقوق کے تحفظ کی بات کر رہے تھے، لیکن اس قرارداد کے بعد وہ ایک آزاد ریاست کے قیام کے لیے منظم ہو گئے۔ صرف سات سال کی مختصر مدت میں 14 اگست 1947ء کو پاکستان ایک حقیقت بن کر دنیا کے نقشے پر ابھرا۔ یہ اس عزم، قربانیوں اور قیادت کی دانشمندی کا نتیجہ تھا جس کا آغاز 23 مارچ 1940ء کو ہوا تھا
یہ دن ہمیں ہماری تاریخ، ہماری قربانیوں اور ہمارے قومی مقاصد کی یاد دلاتا ہے۔ یہ دن صرف ماضی کی یاد نہیں بلکہ ہمارے لیے ایک عہد ہے کہ ہم اپنے ملک کی ترقی، استحکام اور خوشحالی کے لیے کام کریں گے۔ پاکستان کو درپیش چیلنجز کے باوجود ہمیں اسی عزم اور یکجہتی کی ضرورت ہے جو 23 مارچ 1940ء کو ہمارے بزرگوں نے دکھائی تھی
یومِ پاکستان ہمیں اتحاد، قربانی اور جدوجہد کا سبق دیتا ہے۔ اگر ہم اپنے ملک کو ایک ترقی یافتہ اور خوشحال ریاست بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اسی جذبے کے ساتھ کام کرنا ہوگا جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو قیامِ پاکستان کی منزل تک پہنچایا تھا۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اس دن کو صرف تقریبات تک محدود نہ رکھیں بلکہ عملی طور پر پاکستان کے استحکام اور بہتری کے لیے اپنا کردار ادا کریں






































Visit Today : 6
Visit Yesterday : 581
This Month : 12238
This Year : 60074
Total Visit : 165062
Hits Today : 142
Total Hits : 828939
Who's Online : 3




















