رمضان کا تیسرا عشرہ، طاق راتوں کی فضیلت اور لیلۃ القدر کی برکتیں
رمضان کا تیسرا عشرہ، طاق راتوں کی فضیلت اور لیلۃ القدر کی برکتیں
تحریر: شاہدہ پیر زادہ شھگی
رمضان المبارک کا تیسرا عشرہ سب سے زیادہ اہم برکتوں اور رحمتوں سے بھرپور ہوتا ہے۔ اس عشرے میں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو جہنم سے آزادی عطا فرماتا ہے اور بے شمار رحمتیں نازل فرماتا ہے اس عشرے کی خاص راتیں جنہیں طاق راتیں کہا جاتا ہے، اور ان میں سے ایک عظیم رات لیلۃ القدر کی صورت میں مسلمانوں کے لیے سب سے بڑی سعادت اور بخشش کا ذریعہ ہیں
رمضان المبارک تین عشروں میں تقسیم ہے
پہلا عشرہ رحمت کا ہے
دوسرا عشرہ مغفرت کا ہے
تیسرا عشرہ جہنم سے نجات کا ہے
تیسرے عشرے کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ یہ اللہ کی بے پایاں رحمت، مغفرت اور جہنم سے آزادی کا عشرہ ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا
رمضان کا پہلا حصہ رحمت، درمیانی حصہ مغفرت، اور آخری حصہ جہنم سے آزادی کے لیے ہے۔
(بیہقی، شعب الایمان)
اعتکاف کی فضیلت
رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کی خاص اہمیت ہے۔ نبی کریم ﷺ ہمیشہ رمضان کے آخری دس دنوں میں اعتکاف فرماتے اور عبادت میں مشغول رہتے۔ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں
نبی کریم ﷺ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی۔ پھر آپ کے بعد آپ کی ازواجِ مطہرات اعتکاف کرتی رہیں۔
(بخاری، مسلم)
اعتکاف کا مقصد دنیاوی مشاغل سے کٹ کر مکمل طور پر اللہ کی عبادت، ذکر، تلاوتِ قرآن اور دعا میں مشغول ہونا ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے اور اپنی اصلاح کا بہترین موقع ہے
رمضان کے آخری عشرے میں پانچ طاق راتیں (21، 23، 25، 27، 29) ہوتی ہیں، جن میں سے کسی ایک رات میں لیلۃ القدر واقع ہوتی ہے۔ ان راتوں میں عبادت کی خاص تاکید کی گئی ہے، کیونکہ ان میں اللہ کی رحمت بے حساب نازل ہوتی ہے
حضرت عائشہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا
لیلۃ القدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔
(بخاری، مسلم)
لیلۃ القدر رمضان المبارک کی سب سے بابرکت اور عظیم رات ہے، جس کا ذکر اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم میں سورۃ القدر میں کیا ہے
إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ۔ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ۔ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ۔
(سورۃ القدر: 1-3)
ترجمہ: بے شک ہم نے اس (قرآن) کو شبِ قدر میں نازل کیا۔ اور تمہیں کیا معلوم کہ شبِ قدر کیا ہے؟ شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے
لیلۃ القدر کی عبادات اور اعمال
نماز تہجد اور نوافل اس رات میں زیادہ سے زیادہ نوافل اور تہجد کی نماز ادا کرنی چاہیے یہ رات قرآن کے نزول کی رات ہے، اس لیے قرآن کی تلاوت سے زیادہ برکت حاصل ہوگی حضرت عائشہؓ نے نبی کریم ﷺ سے پوچھا کہ اگر لیلۃ القدر مل جائے تو کون سی دعا پڑھنی چاہیے؟
نبی کریم ﷺ نے فرمایا
اللّٰهُمَّ إِنَّكَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّي
(اے اللہ! بے شک تو معاف کرنے والا ہے، اور معافی کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما)۔ (ترمذی)
استغفراللہ ربی من کل ذنب و اتوب الیہ اور دیگر اذکار کا ورد کرنا چاہیے
صدقہ و خیرات غریبوں اور مستحقین کی مدد کرنا اس رات کی برکتوں کو مزید بڑھا دیتا ہے
احادیث میں لیلۃ القدر کی چند نشانیاں بیان کی گئی ہیں
یہ رات پرسکون اور نورانی ہوتی ہے
اس رات کا درجہ حرارت نہ زیادہ گرم ہوتا ہے اور نہ زیادہ سرد
صبح کے وقت سورج بغیر شعاعوں کے طلوع ہوتا ہے
رمضان المبارک کا آخری عشرہ اللہ کی خاص رحمتوں اور مغفرت کا عشرہ ہے۔ اس عشرے میں ہر مسلمان کو کوشش کرنی چاہیے کہ وہ زیادہ سے زیادہ عبادت کرے، اعتکاف میں شامل ہو، اور لیلۃ القدر کو پانے کی سعی کرے۔ جو شخص اس مبارک عشرے میں عبادت، دعا اور استغفار میں مصروف رہتا ہے، وہ اللہ کی بے پایاں نعمتوں کا حقدار بن جاتا ہے
اللہ تعالیٰ ہمیں رمضان المبارک کے آخری عشرے کی برکتیں نصیب فرمائے اور لیلۃ القدر کو پانے کی توفیق عطا کرے
آمین ثمہ آمین







































Visit Today : 81
Visit Yesterday : 581
This Month : 12313
This Year : 60149
Total Visit : 165137
Hits Today : 500
Total Hits : 829297
Who's Online : 6




















