ضرب سے شہادت تک عدل کی آخری ساعتیں

تحریر: شاہدہ پیر زادہ شھگی

رمضان المبارک کا مہینہ روحانی برکتوں، رحمتوں اور عبادت کا مہینہ ہے، مگر یہی مہینہ اسلامی تاریخ کے سب سے دردناک سانحے کا بھی گواہ ہے۔ 19 رمضان 40 ہجری کو وہ لمحہ آیا جب مسجدِ کوفہ میں فجر کی نماز کے دوران امیر المؤمنین، خلیفۂ چہارم، بابِ مدینۃ العلم، حضرت علی ابن ابی طالبؑ پر ابنِ ملجم نامی خارجی نے زہر آلود تلوار سے حملہ کیا۔ محراب میں سجدے کی حالت میں اللہ کے سب سے بڑے عادل بندے پر وار کیا گیا، اور یوں عدل پر ظلم کی ضرب لگی۔ جب تلوار کی چمک ختم ہوئی تو ایک صدا گونجی فُزْتُ وَرَبِّ الْكَعْبَةِ ربِ کعبہ کی قسم! میں کامیاب ہو گیا یہ الفاظ گواہ ہیں کہ علیؑ کے لیے دنیاوی زخم کوئی نقصان نہ تھا بلکہ اللہ کی رضا میں سرخروئی تھی
یہ سانحہ صرف ایک شخصیت پر حملہ نہیں تھا، بلکہ حق، انصاف اور دیانت پر ایک کاری ضرب تھی۔ حضرت علیؑ، جنہوں نے ہمیشہ ظالم کے خلاف آواز بلند کی، مظلوموں کو حق دلایا، اور ایک ایسی حکومت کی بنیاد رکھی جو عدل پر مبنی تھی، انہیں ہی ناانصافی اور سازش کا نشانہ بنایا گیا۔ زہر آلود تلوار کا زخم شدید تھا مگر علیؑ نے صبر، حکمت اور تقویٰ کا دامن نہ چھوڑا۔ وہ دو دن تک بسترِ شہادت پر رہے اور آخرکار 21 رمضان کو وہ لمحہ آیا جب دنیا نے عدل کا سورج غروب ہوتے دیکھا
آپؑ نے اپنی اولاد اور پیروکاروں کو وصیت کی کہ ہمیشہ حق کے ساتھ رہنا، یتیموں اور کمزوروں کا سہارا بننا، اور ظالم کے خلاف ڈٹ جانا 21 رمضان کی صبح جب زمین اور آسمان سوگوار تھے، جب تاریخ خون کے آنسو رو رہی تھی تب حضرت علیؑ نے اپنے رب کی بارگاہ میں حاضری دی اور یوں عدل و انصاف کا چراغ ظاہری طور پر بجھ گیا مگر اس کی روشنی قیامت تک چمکتی رہے گی
یہ دو دن19 رمضان سے 21 رمضان اسلامی تاریخ کے وہ دن ہیں جن میں سچائی اور عدل کا لہو بہایا گیا، مگر وہ لہو ضائع نہیں گیا۔ آج بھی، جب بھی کوئی مظلوم حق کے لیے آواز بلند کرتا ہے، جب بھی کوئی ظالم کے خلاف کھڑا ہوتا ہے، جب بھی کوئی یتیم کی پرورش کرتا ہے، تو علیؑ کی تعلیمات زندہ ہو جاتی ہیں
یہ دن ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ اگرچہ باطل وقتی طور پر جیت سکتا ہے، مگر اصل کامیابی ہمیشہ حق اور سچائی کی ہوتی ہے۔ علیؑ کی ضربت سے لے کر شہادت تک کا یہ سفر ہمیں بتاتا ہے کہ جو اللہ کے لیے جیتا ہے، وہ کبھی مرتا نہیں وہ تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہتا ہے