ملتان : آل پاکستان پیرا میڈیکل سٹاف فیڈریشن کے زیر اہتمام بنیادی ہیلتھ مراکز کو پرائیویٹ کیے جانے سمیت ڈاکٹرز و دیگر عملہ کو فارغ کیے جانے کے ممکنہ فیصلے کے خلاف محکمہ صحت ملتان کے دفتر سے کچہری چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی جس کی قیادت ال پاکستان پیرا میڈیکل سٹاف فیڈریشن کے صوبائی جنرل سیکریٹری چوہدری مقبول احمد گجر،نائب صدر خلیل احمد،وائی پی اے پنجاب صدر میڈم بشری خانم سمیت دیگر رہنماؤں ڈاکٹر عبدالعلیم، ڈاکٹر بختاور فاطمہ،شگفتہ نسرین،نایاب بتول،ڈاکٹر محمد زبیر،ڈاکٹر پرویز اختر،ارشد شہزاد ہاشمی،ملک ریاض احمد،محمد شفیق،شفیق جعفری،عمران جاوید،عبدالقدیر،شاہدہ پروین،ثناء تبسم،محمد اقبال،عمران کریم بھٹہ نے کی اس موقع پر رہنماؤں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ائی ایم ایف کے دباؤ پر اب تک 982 سے زائد بی ایچ یو لیے جا چکے ہیں جو کہ غریب محنت کش طبقہ کے ساتھ سراسر ظلم و زیادتی ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے وہ کم ہے بی ایچ یو میں بی ایچ یو میں ڈاکٹرز و دیگر عملہ 30 سال سے زائد عرصہ تک ملازمت کر چکا ہے اور دور دراز سے انے والے مریضوں کے علاج معالجے میں بی ایچ یو حقیقی معنوں میں مسیحائی کا کردار ادا کر رہے ہیں لیکن افسوس ناک صورتحال یہ ہے کہ اب بی ایچ یو ڈاکٹرز اور عملہ کو فارغ کر کے پرائیویٹ کیے جا رہے ہیں اور چار سے پانچ افراد تک عملہ رکھا جا رہا ہے جس کی وجہ سے بے روزگاری میں اضافہ ہوگا اور لاکھوں خاندانوں کا معاشی قتل ہوگا اگر صوبائی حکومت پنجاب نے فیصلہ واپس نہ لیا تو صوبہ بھر کے پیرا میڈیکل سٹاف،ڈاکٹرز سروں پر کفن باندھ کر باہر نکلیں گے اور ابتدائی مرحلے میں وزیراعلی پنجاب سیکریٹریٹ کے سامنے غیر معینہ مدت کے لیے احتجاجی دھرنا دیا جائے گا اور پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے بھی احتجاجی دھرنا دینے سے گریز نہیں کریں گے اس لیے اب بھی وقت ہے کہ غریب قوم کی خدمت کے دعویدار حکمران طبقہ اپنا فیصلہ واپس لیں اور ہمیں سڑکوں پر نکلنے پر مجبور نہ کریں جبکہ احتجاجی دھرنے کے موقع پر اے سی سی ٹی ملتان پہنچ گئے اور انہوں نے مظاہرین کو یقین دہانی کرائی کہ ان کے مطالبات تسلیم کرنے کے لیے وہ بھرپور کردار ادا کریں گئے۔