چینی کی بڑھتی قیمتیں: ناقص پالیسیوں کا نتیجہ یا انتظامی ناکامی؟،،،چینی کی قیمت میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے شدید مالی بوجھ کا باعث بن رہا ہے: چوہدری ذوالفقار علی انجم چیرمین ایس ایم گروپ
ملتان ۔۔۔۔۔۔۔ چینی کی قیمت میں مسلسل اضافہ عوام کے لیے شدید مالی بوجھ کا باعث بن رہا ہے، جبکہ ناقص پالیسیوں کے باعث قومی خزانے کو بھی بھاری نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔ چیرمین ایس ایم گروپ آف انڈسٹریز، ممبر نیشنل ایکسپورٹ ڈویلپمنٹ بورڈ اور ممبر بورڈ آف انوسٹمنٹ چوہدری ذوالفقار علی انجم نے چینی کے بڑھتے نرخوں پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کریانہ مرچنٹ ایسوسی ایشن کے مطابق، چینی کی قیمت میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
ذوالفقار علی انجم کا کہنا تھا کہ اس وقت ہول سیل مارکیٹ میں 50 کلو چینی کا تھیلا 8,300 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، جس کا مطلب ہے کہ فی کلو چینی 166 روپے میں دستیاب ہے، جبکہ اوپن مارکیٹ میں اس کی قیمت 170 روپے سے تجاوز کر چکی ہے۔ عام شہری، جو پہلے ہی
مہنگائی کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، اس اضافے سے شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
گزشتہ برس حکومت نے تقریباً ڈیڑھ کروڑ بیگ چینی برآمد کر دی، جبکہ شوگر انڈسٹری نے یقین دہانی کرائی تھی کہ اس اقدام سے چینی کی قلت یا قیمتوں میں اضافہ نہیں ہوگا۔ تاہم، یہ یقین دہانی بے سود ثابت ہوئی، اور اب وہی چینی دوگنی قیمت پر درآمد کرنا پڑ رہی ہے۔ یہ پالیسی نہ صرف عوام پر بوجھ ڈال رہی ہے بلکہ ملکی معیشت کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہو رہی ہے۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت براون شوگر منگوارہی ہے، جس سے شکر کی درآمد سے مستقبل میں چینی کی پیداوار کو بڑھانے میں مدد ملے گی، کیونکہ درآمد شدہ شکر کو مقامی سطح پر ریفائن کرکے چینی میں تبدیل کیا جائے گا۔ لیکن معروف صنعت کاروں کے مطابق، بیرون ملک سے شکر یا براون شوگر منگوا کر چینی تیار کرنا ایک پیچیدہ اور مہنگا عمل ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ اگر چینی کی قلت کا سامنا ہے تو براہ راست چینی ہی درآمد کی جانی چاہیے۔
یہ پہلا موقع نہیں جب حکومت نے ایک بنیادی ضرورت کی چیز برآمد کرکے بعد میں مہنگی درآمد کی ہو۔ اسی طرح چند سال قبل گندم کے ساتھ بھی یہی کیا گیا تھا، جس کے بعد ملک کو مہنگی گندم درآمد کرنی پڑی۔ یہ سوال اہم ہے کہ اگر کسی شے کی مقامی سطح پر محدود مقدار میں موجودگی ہے تو اسے بیرون ملک کیوں بھیجا جاتا ہے؟
ملک کے معروف صنعت کار نے تجویز دی ہے کہ حکومت کو فوری مداخلت کرتے ہوئے چینی کی برآمد و درآمد کے فیصلے زیادہ دانشمندانہ انداز میں کرنے ہوں گے۔ ذخائر کی سخت نگرانی، غیر ضروری برآمدات پر پابندی، اور منافع خوروں کے خلاف سخت کارروائی جیسے اقدامات سے اس بحران پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ بصورت دیگر، چینی کی مہنگائی کی یہ لہر دیگر اشیائے ضروریہ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے سکتی ہے، جس سے عام آدمی کے مسائل مزید بڑھ جائیں گے۔







































Visit Today : 162
Visit Yesterday : 581
This Month : 12394
This Year : 60230
Total Visit : 165218
Hits Today : 943
Total Hits : 829740
Who's Online : 4




















