11 مارچ جب دنیا نے کرونا کو وباءتسلیم کیا۔۔۔ رمضان، احتیاط اور عالمی حالات
11 مارچ جب دنیا نے کرونا کو وباءتسلیم کیا۔۔۔ رمضان، احتیاط اور عالمی حالات
تحریر: شاہدہ پیرزادہ شہگی
گیارہ مارچ 2020 وہ دن تھا جب عالمی ادارۂ صحت
(WHO) نے COVID-19 کو ایک عالمی وبا قرار دیا۔ یہ اعلان ایک ایسے بحران کا آغاز تھا، جس نے دنیا کے ہر ملک، ہر معیشت، اور ہر فرد کو متاثر کیا۔ آج پانچ سال بعد، جب دنیا کسی حد تک اس وبا کے اثرات سے نکل چکی ہے، ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم نے اس آزمائش سے کچھ سیکھا؟ اور کیا ہم مستقبل کے چیلنجز کے لیے تیار ہیں؟
کرونا وائرس نے دنیا کو جس طرح بدلا، وہ ایک ناقابلِ یقین حقیقت ہے۔ لاک ڈاؤن، سماجی فاصلے، ماسک، سینیٹائزر، آن لائن تعلیم، اور معاشی بحرانیہ سب کچھ اچانک ہماری زندگی کا حصہ بن گیا۔ خاص طور پر رمضان جیسے مقدس مہینے میں عبادات، اجتماعات اور افطار کی روایات شدید متاثر ہوئیں۔ مساجد بند ہوئیں، اعتکاف محدود ہو گیا، اور عمرہ پر جانے والوں کے لیے دروازے بند ہو گئے
رمضان المبارک قربانی، ایثار، صبر اور اتحاد کا مہینہ ہے۔ کرونا کے دوران ہمیں یہ سبق بھی ملا کہ اپنی اور دوسروں کی صحت کی حفاظت بھی عبادت کا حصہ ہے۔ اس وبا کے دوران احتیاطی تدابیر کو اپنانا، غیر ضروری اجتماعات سے گریز کرنا، اور مستحقین کی مدد کرنا ہمارا مذہبی و اخلاقی فرض بن گیا۔
آج جب ہم 2025 کے رمضان میں داخل ہو گئے ہیں، تو ہمیں پھر سے احتیاط کی ضرورت ہے۔ دنیا میں نئی وبائیں جنم لے سکتی ہیں، اور ہمیں صحت و صفائی کے اصولوں کو اپنانا ہوگا۔ ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ روزہ صرف بھوک پیاس کا نام نہیں بلکہ جسمانی اور روحانی پاکیزگی کا درس دیتا ہے۔
کرونا کے بعد، دنیا نے ایک اور بھیانک بحران کا سامنا کیاغزہ میں ہونے والی انسانی تباہی۔ لاکھوں بے گناہ فلسطینی، خاص طور پر خواتین اور بچے، بدترین ظلم و ستم کا شکار ہوئے۔ جہاں ایک طرف کرونا نے ہمیں انسانیت کی قدر سکھائی، وہیں دوسری طرف غزہ میں ہونے والے مظالم نے یہ ثابت کیا کہ دنیا اب بھی طاقتور اور کمزور کے فرق میں بٹی ہوئی ہے۔
یہ المیہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا واقعی ہم نے کرونا جیسی عالمی وبا سے کچھ سیکھا؟ جب دنیا ایک وائرس کے خلاف متحد ہو سکتی ہے تو پھر انسانیت کے تحفظ کے لیے کیوں نہیں؟ غزہ کے مظلومین کو انصاف کب ملے گا؟ کیا رمضان کا مقدس مہینہ ہمیں ان کے حق میں آواز بلند کرنے کا موقع دے گا؟
کرونا نے ہمیں یہ سکھایا کہ ہم کسی بھی آزمائش کے لیے تب ہی تیار ہو سکتے ہیں جب ہم سائنسی ترقی، احتیاط، اور انسانی یکجہتی کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں۔ رمضان ہمیں یہی درس دیتا ہے کہ ہم اپنی ذات سے باہر نکل کر دوسروں کے لیے جئیں، محتاجوں کا سہارا بنیں، اور ظلم کے خلاف کھڑے ہوں
گیارہ مارچ 2020 کو دنیا نے ایک ایسی حقیقت کو تسلیم کیا جو صدیوں تک یاد رکھی جائے گی۔ اس وبا نے جہاں تباہی مچائی، وہیں ہمیں ایک بہتر اور باشعور انسان بننے کا موقع بھی دیا۔ آج، جب ہم رمضان میں داخل ہو رہے ہیں اور دنیا میں غزہ جیسے انسانی المیے دیکھ رہے ہیں، تو ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ کیا ہم سچ میں بدل چکے ہیں؟ کیا ہم نے کرونا سے سیکھا کہ انسانیت سب سے بڑی طاقت ہے؟ اور کیا ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے ایک بہتر اور محفوظ دنیا چھوڑنے کے لیے تیار ہیں؟
یہ وقت محض یادیں تازہ کرنے کا نہیں بلکہ عمل کرنے کا ہے
احتیاط، مدد، انصاف اور انسانیت کے ساتھ!
اللہ پاک ہم سب کو ہر قسم کی بیماریوں، آزمائشوں اور مشکلات سے محفوظ رکھے۔ ہم سب پر اپنی رحمت نازل فرمائے اور ہمیں صبر، استقامت اور شکر گزاری کی توفیق عطا کرے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے پیارے ملک پاکستان کی حفاظت فرمائے، اسے ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن کرے، اور ہمیں باہمی اتحاد و اتفاق عطا کرے۔ پاک فوج اور تمام محافظینِ وطن جو ملک کی سلامتی کے لیے دن رات محنت کر رہے ہیں، اللہ انہیں سلامت رکھے اور کامیابیاں عطا کرے۔
پاکستان زندہ باد۔۔۔پاک فوج زندہ باد







































Visit Today : 162
Visit Yesterday : 581
This Month : 12394
This Year : 60230
Total Visit : 165218
Hits Today : 952
Total Hits : 829749
Who's Online : 3




















