ملتان (صفدربخاری سے)چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری ملتان کے سابق صدر میاں راشد اقبال نے کہا کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر سے اپیل کی ہے کہ وہ آئندہ مانیٹری پالیسی میں شرح سود کو 5فیصد تک کم کریں۔ انہوں نے کہا کہ یہ نہ صرف حقیقی شرح سود کو پائیدار سطح تک لائے گا بلکہ کاروباری افراد اور صنعتکاروں کے لیے قرضوں کو بھی قابل رسائی بنائے گا۔میاں راشد اقبال نے کہا کہ حکومت نے افراط زر کی شرح میں کمی کو تسلیم کیا ہے، ایسی صورتحال میں یہ ضروری ہے کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی)، جو کہ آئندہ ہونے والے اجلاس میں موجود ہوگی، شرح سود کو 5فیصد تک کم کرنے کا فیصلہ کرے۔ اس کمی سے صنعتی شعبے میں نئی سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگی اور پاکستان کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔میاں راشد اقبال نے مزید کہا کہ زیادہ شرح سود نے پاکستان کے داخلی قرضوں کی خدمت کے اخراجات کو ناقابل برداشت بنا دیا ہے پاکستان میں اب بھی پالیسی کی شرح ریجن میں سب سے زیادہ ہے، اس سے قومی بجٹ پر اضافی دباؤ پڑا ہے اور مالیاتی عدم توازن مزید بڑھا ہے، شرح سود میں کمی اقتصادی سرگرمیوں کے لیے محرک کا کام کرتی ہے، جس سے ترقی کی رفتار تیز ہوتی ہے، مسابقت میں اضافہ ہوتا ہے اور کاروباری ماحول میں بہتری آتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے لیے حکومت کو اہم اقدامات اٹھانے ہوں گے، خاص طور پر سرمایہ کاروں اور صنعتکاروں کے مسائل کو حل کرنے کی ضرورت ہے تاکہ نئی سرمایہ کاری کے لیے سازگار ماحول پیدا کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب مانیٹری پالیسی کمیٹی اپنی10مارچ کے اجلاس میں شرح سود کو 5فیصدتک کم کرے۔