پاکستانی خواتین جہدوجہد میں سب سے آگے
پاکستانی خواتین جہدوجہد میں سب سے آگے
8مارچ خواتین کا عالمی دن
تحریر: شاہدہ پیر زادہ شہگی
اسلام نے چودہ سو سال پہلے وہ حقوق دیے جن کے لیے آج بھی دنیا بھر میں خواتین کی جدوجہد جاری ہے۔ قرآن کریم میں خواتین کے حقوق اور ان کی عزت و تکریم پر خاص زور دیا گیا ہے۔
اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساء میں ارشاد فرمایا:
اور عورتوں کے ساتھ بھلائی سے پیش آؤ” (النساء: 19)
یہ حکم ہمیں یاد دلاتا ہے کہ خواتین کے ساتھ حسنِ سلوک، ان کے حقوق کی ادائیگی، اور ان کی عزت و تکریم ہر مسلمان مرد کی ذمہ داری ہے۔ نبی کریم ﷺ نے اپنے خطبہ حجۃ الوداع میں بھی فرمایا:
عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، کیونکہ تم نے انہیں اللہ کے عہد پر حاصل کیا ہے” (صحیح مسلم)
یہ الفاظ ہمیں یہ درس دیتے ہیں کہ عورت کوئی بوجھ یا کمزور ہستی نہیں بلکہ اللہ کی ایک تخلیق ہے، جس کے حقوق کی پاسداری کرنا ہر فرد کا دینی اور اخلاقی فرض ہے
8
مارچ دنیا بھر میں خواتین کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن ان خواتین کی جدوجہد، قربانیوں اور کامیابیوں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے منایا جاتا ہے، جو زندگی کے مختلف شعبوں میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ خاص طور پر مزدور طبقے کی خواتین کو بے شمار چیلنجز کا سامنا ہے، لیکن وہ اپنی ہمت اور استقلال سے نہ صرف اپنی زندگی بہتر بنا رہی ہیں بلکہ دیگر خواتین کے لیے بھی امید اور حوصلے کی کرن بن رہی ہیں۔
پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن (PUWF) کے پلیٹ فارم سے کام کرنے والی خواتین مزدور رہنماؤں نے ان چیلنجز کے خلاف جدوجہد کا علم بلند کیا ہے۔ وہ نہ صرف خود اپنے حقوق کے لیے کھڑی ہیں، بلکہ ہزاروں دیگر محنت کش خواتین کو بھی ایک منظم اور مضبوط آواز فراہم کر رہی ہیں۔
کلثوم حیء ڈائریکٹر جنرل، پنجاب لیبر ویلفیئر ڈیپارٹمنٹ
کلثوم حیء صاحبہ پاکستان میں ڈومیسٹک ورکرز اور ہوم بیسڈ ورکرز کے حقوق کے لیے غیر معمولی خدمات سرانجام دے رہی ہیں۔ وہ ان مزدور خواتین کی رجسٹریشن کے عمل کو یقینی بنا رہی ہیں، تاکہ انہیں سوشل سیکیورٹی، میڈیکل سہولیات، اور دیگر فلاحی حقوق حاصل ہو سکیں۔ یہ ایک انقلابی اقدام ہے جو لاکھوں محنت کش خواتین کو سرکاری سطح پر تسلیم شدہ حقوق فراہم کرے گا
صبیحہ اشرف وائس پریزیڈنٹ، پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن اور ویمن کمیٹی چیئرپرسن، غازی یونین واسا
صبیحہ آشرف ایک بہادر اور متحرک مزدور رہنما ہیں جو ورک پلیس پر خواتین کے مسائل، ہراسمنٹ، کم اجرت، اور ملازمت کے تحفظ کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہی ہیں۔ واسا میں خواتین مزدوروں کو درپیش چیلنجز کے خلاف ان کی مزاحمت ایک مثالی تحریک بن چکی ہے، جس نے دیگر اداروں میں بھی خواتین کے حقوق کے حوالے سے شعور پیدا کیا ہے۔
تبسم روحی صدر، ڈومیسٹک ورکرز یونین (بہاولپور ڈویژن)
تبسم روحی کا تعلق گھریلو مزدور خواتین کے اس طبقے سے ہے جو سب سے زیادہ استحصال کا شکار ہوتا ہے۔ ڈومیسٹک ورکرز یونین بہاولپور ڈویژن کی صدر کی حیثیت سے، وہ پانچ سو سے زائد گھریلو خواتین مزدوروں کے حقوق کے لیے سرگرم عمل ہیں۔ ان کی کوششوں کے باعث، یہ خواتین اپنی شناخت، بہتر اجرت، اور قانونی تحفظ کے لیے آواز بلند کرنے کے قابل ہو چکی ہیں۔
ارم عتیق صدر، ایگریکلچر ورکرز یونین بہاولپور
ارم عتیق پاکستان میں زرعی مزدور خواتین کی رہنما ہیں، جو کھیتوں میں کام کرنے والے مزدوروں کے لیے اجرت میں اضافے، بہتر کام کے حالات، اور مستقل روزگار کے مواقع کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ ان کی قیادت میں زرعی مزدوروں نے اپنی یونین کے ذریعے حکومت اور متعلقہ اداروں سے اپنے حقوق کے حصول کے لیے مؤثر مذاکرات شروع کر دیے ہیں۔
شاہدہ پیر زادہ وائس چیئرپرسن، پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن (ملتان) اور براڈکاسٹر، پی ٹی وی
شاہدہ پیر زادہ نہ صرف ایک متحرک سماجی کارکن اور مزدور رہنما ہیں بلکہ پاکستان ٹیلی ویژن (PTV) سے بھی وابستہ ہیں۔ وہ ورک پلیس ہراسمنٹ، خواتین کے قانونی حقوق، اور لیبر قوانین میں اصلاحات کے لیے مسلسل کام کر رہی ہیں۔ انہیں اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں بھی ہراسمنٹ کا سامنا کرنا پڑا ہے، لیکن انہوں نے ہمت نہ ہارتے ہوئے نہ صرف اپنے حق کے لیے بلکہ تمام خواتین کے لیے آواز بلند کی ہے۔ ان کی صحافتی اور سماجی خدمات نے انہیں ایک مضبوط اور بااثر شخصیت بنا دیا ہے، جو خواتین کے حقوق کے لیے ہر پلیٹ فارم پر آواز بلند کر رہی ہیں۔
مختیار اعوان جنرل سیکرٹری، پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن
مختیار اعوان ایک متحرک مزدور رہنما ہیں، جو پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن (PUWF) کے جنرل سیکرٹری اور مرکزی ڈپٹی سیکرٹری کی حیثیت سے مزدوروں کے حقوق، خاص طور پر خواتین ورکرز کے مسائل کے لیے سرگرم ہیں۔ وہ خواتین ورکرز کو قانونی تحفظ، محفوظ ورکنگ ماحول، اور مساوی اجرت دلانے کے لیے حکومتی اداروں اور نجی شعبے میں مزدور قوانین کے نفاذ پر زور دے رہے ہیں
خواتین مزدوروں کے مسائل اور حل
پاکستان میں محنت کش خواتین کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے، جن میں شامل ہیں
کم اجرت اور غیر مساوی تنخواہ
کام کے دوران غیر محفوظ حالات اور ہراسمنٹ
لیبر قوانین پر عملدرآمد کی کمی
سوشل سیکیورٹی، میٹرنٹی لیو، اور دیگر سہولیات کا فقدان
لیکن خوش آئند بات یہ ہے کہ پاکستان یونائیٹڈ ورکرز فیڈریشن (PUWF) کے پلیٹ فارم سے ان مسائل کو اجاگر کرنے اور ان کے حل کے لیے مؤثر جدوجہد کی جا رہی ہے
8 مارچ نہ صرف خواتین کی جدوجہد کو تسلیم کرنے کا دن ہے، بلکہ یہ دن ہمیں اس عزم کی تجدید کا موقع بھی فراہم کرتا ہے کہ ہم ایک ایسے معاشرے کے لیے کام کریں جہاں محنت کش خواتین کو ان کے حقوق، عزت، اور مساوی مواقع حاصل ہوں۔
یہ وقت ہے کہ ہم ان بہادر خواتین کے ساتھ کھڑے ہوں، ان کی جدوجہد کو سپورٹ کریں، اور ایک ایسا پاکستان بنانے میں اپنا کردار ادا کریں جہاں ہر مزدور، خاص طور پر ہر محنت کش خاتون، محفوظ اور باوقار زندگی گزار سکے۔
دنیا ہر سال 8 مارچ کو خواتین کا عالمی دن مناتی ہے۔ تقاریب، ریلیاں، سیمینار اور تجزیے ہوتے ہیں، نعرے گونجتے ہیں، مساوات اور حقوق کی بات کی جاتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا ہم واقعی اس دن کو محض ایک رسمی تہوار سمجھ کر منا رہے ہیں، یا پھر اس کا اصل مقصد سمجھنے اور اسے عملی جامہ پہنانے کی کوشش بھی کر رہے ہیں؟
خواتین کے حقوق کے نعرے صدیوں سے بلند ہو رہے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ آج بھی ایک بڑی تعداد کو اپنے بنیادی حقوق کے لیے لڑنا پڑ رہا ہے۔ ترقی یافتہ ممالک میں بھی اور ترقی پذیر ممالک میں بھی، خواتین اب بھی مساوی مواقع کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں۔ لیکن کیا ہم صرف حقوق اور مساوات کی بحث تک محدود رہیں گے؟
خواتین نے ہر دور میں اپنے کردار سے دنیا کو حیران کیا ہے، چاہے وہ میدانِ جنگ ہو، سائنس و ٹیکنالوجی ہو، سیاست ہو یا معیشت ہر عورت اپنی الگ پہچان رکھتی ہے، ہر ایک نے دنیا کو ایک نئی سوچ دی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ وہ عام خواتین بھی قابلِ ذکر ہیں جو روزانہ زندگی کے محاذ پر لڑ رہی ہیں، جو اپنے بچوں کی بہتر زندگی کے لیے جدوجہد کر رہی ہیں، جو گھروں میں، دفاتر میں، کھیتوں میں، فیکٹریوں میں، ہر جگہ اپنی محنت سے دنیا کا پہیہ چلا رہی ہیں۔
ہم ہمیشہ خواتین کے مسائل کو صرف حقوق کی بحث میں لپیٹ دیتے ہیں، مگر اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا خواتین کو وہ پہچان اور عزت مل رہی ہے جس کی وہ حقدار ہیں؟ کیا ہم ان کی کامیابیوں کو اسی طرح سراہتے ہیں جیسے مردوں کی کامیابیوں کو؟ ایک مرد اگر محنت کر کے کامیاب ہوتا ہے تو اسے باوقار” اور “عظیم کہا جاتا ہے، لیکن ایک عورت اگر محنت کر کے آگے بڑھتی ہے تو اکثر اسے طرح طرح کی باتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
خودمختاری کا مطلب بغاوت نہیں
اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ عورت کی خودمختاری کا مطلب اس کی روایات سے بغاوت ہے، حالانکہ ایسا نہیں۔ ایک خودمختار عورت اپنی اقدار کے ساتھ جینے کا حق رکھتی ہے، وہ اپنے فیصلے خود کر سکتی ہے، وہ اپنے لیے بہتر راستہ چن سکتی ہے۔ خودمختاری کا مطلب اپنی شناخت بنانا ہے، اپنی قدر پہچاننا ہے، اور سب سے بڑھ کر، اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کی طاقت حاصل کرنا ہے
خواتین کے عالمی دن پر صرف تقاریر اور وعدے کافی نہیں، عملی اقدامات ضروری ہیں
ہر لڑکی کو معیاری تعلیم دینا سب سے بنیادی اور ضروری قدم ہے۔
خواتین کے لیے کاروبار اور ملازمتوں میں مواقع پیدا کرنا اور انہیں مالی طور پر خودمختار بنانا وقت کی ضرورت ہے۔
خواتین کو ہر سطح پر ہراسانی اور تشدد سے بچانے کے لیے مضبوط قوانین اور ان پر عمل درآمد ضروری ہے
خواتین کی کہانیاں عام کریں ہمیں ان خواتین کی کہانیاں سامنے لانی ہوں گی جو مشکلات کے باوجود کامیاب ہوئیں تاکہ وہ دوسروں کے لیے مشعلِ راہ بن سکیں
یہ وقت صرف نعرے لگانے کا نہیں، بلکہ حقیقی تبدیلی کا ہے۔ خواتین کو کسی سہارے کی نہیں، موقع کی ضرورت ہے۔ جب انہیں مساوی مواقع ملیں گے، تو وہ اپنی صلاحیتوں سے ایک نئی دنیا تخلیق کر سکتی ہیں۔ خواتین کا عالمی دن ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ معاشرہ صرف اسی وقت ترقی کرے گا جب عورت اور مرد دونوں برابر کے شراکت دار بنیں گے، جب عورت کو اس کی مکمل عزت، پہچان اور خودمختاری دی جائے گی
اب وقت ہے کہ ہم صرف 8 مارچ کو نہیں، بلکہ ہر دن خواتین کی کامیابیوں کو تسلیم کریں، انہیں وہ مقام دیں جس کی وہ حقدار ہیں، اور ایک ایسا معاشرہ بنائیں جہاں عورت کی پہچان اس کی طاقت، عزت اور قابلیت سے ہو، نہ کہ روایتی حد بندیوں سے






































Visit Today : 159
Visit Yesterday : 581
This Month : 12391
This Year : 60227
Total Visit : 165215
Hits Today : 900
Total Hits : 829697
Who's Online : 2




















