سرائیکی ثقافت کی دھرتی کا سُر اور سسک
سرائیکی ثقافت کی دھرتی کا سُر اور سسک
تحریر: شاہدہ پیرزادہ شھگی
آج کے دن سرائیکی دھرتی کے کھیتوں میں جھمکتی ہوئی چنبیلی کی خوشبو، دریائے سندھ کی لہروں میں گُندھے ہوئے گیت، اور صدیوں کے سفر سے چُور اس خطے کی داستان ہر گلی کوچے میں زندہ ہو جاتی ہے۔ 6 مارچ صرف ایک تقریب نہیں، بلکہ ایک اُس سسک کا نام ہے جو سرائیکی وسیب کے دل میں صدیوں سے دبی ہوئی ہے۔ یہ وہ دن ہے جب ہماری مٹی کے رنگ، ہمارے لہجے کی مٹھاس، اور ہمارے بزرگوں کے نغموں کو دنیا کے سامنے سینہ تان کھڑے ہونے کا موقع ملتا ہے , سرائیکی زبان محض الفاظ کا مجموعہ نہیں، یہ تو ہماری رگوں میں دوڑنے والے لہو کا رنگ ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ جب خواجہ غلام فرید نے “منھݨے دلڑی دا” لکھا تو دراصل اُس دھرتی کو آواز دی جو ہر سرائیکی کے پاؤں تلے سانس لیتی ہے؟ یا جب شاہ حسین نے “رابھا رابھا” کا نعرہ لگایا، تو یہ سرائیکی کے صوفیانہ رقص میں ڈوبا ہوا ایک انقلاب تھا؟ مگر افسوس! آج ہماری نئی نسل انہیں پنجابی کہہ کر پکارتی ہے۔ کیا یہ المیہ نہیں کہ ہماری زبان کو ہماری ہی شناخت سے انکاری بنا دیا گیا؟ 2008ء کی وہ شام کبھی نہیں بھولی جا سکتی جب ملتان کے چوک میں سرائیکی ماء بولی کے پرچم تلے ہزاروں چہرے ایک آواز بن گئے۔ یہ وہ لمحہ تھا جب سرائیکی وسیب نے اپنے وجود کے لیے پہلی بار اکٹھے ہو کر للکارا ساڈا حق، ساڈی پہچان آج کا دن اُسی بغاوت کی یاد دلاتا ہےایک ایسی تحریک جو نہ صرف صوبے کے حق میں ہے، بلکہ اپنے بچوں کو اپنی ثقافت کی چھاؤں میں سانس لینے کا موقع دینے کی جنگ ہے
سرائیکی ثقافت کی رونقیں دیکھنی ہوں تو 6 مارچ کو اندرون ملتان کی قدیم عمارتوں پر جھلملاتے ہوئے چراغوں کے نیچے جھُمّر کی تھاپ پر ناچتے ہوئے لوگوں کو دیکھیں۔ یہ وہ منظر ہے جب سرائیکی ٹوپی اور رومال پہنے بوڑھے جوانوں کی طرح ناچتے ہیں، اور بچے سچل سرمست کے کافیاں گا کر بتاتے ہیں کہ “ساڈی سوچ وی اِنّی پرانی نیں۔” اسکولوں میں سرائیکی کہانیاں سنانے والی استانیاں آنسو بہاتی ہیں، کیونکہ یہ کہانیاں اُن کے آباؤ اجداد کی آواز ہیں جو نصاب کی کتابوں سے غائب ہیں
مگر یاد رکھیں یہ دن محض رقص و سرود کا نہیں۔ یہ اُس دھرتی کا نوحہ بھی ہے جو پانی ہوتے ہوئے بھی پیاسی ہے۔ سرائیکی خطہ پاکستان کا سینہ چیر کر دیکھیں تو ہیرے کی کانوں جیسا ہے، مگر یہاں کے باسیوں کے گھروں میں روشنی تک نہیں۔ کیا یہ سوال نہیں کہ جس خطے کے پاس توبہ تیک سنگھ جیسا ادبی خزانہ ہو، وہاں کے اسکولوں میں سرائیکی کیوں نہیں پڑھائی جاتی؟ جہاں کے کسانوں نے سندھ طاس تہذیب کو سینچا، اُن کی اولادیں آج اپنی مٹی کا نام تک بھول رہی ہیں
6 مارچ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ کیا ہم واقعی اُس قوم کا دعویٰ کر سکتے ہیں جو اپنی جڑوں کو پانی دینے سے انکاری ہو؟ سرائیکی کو نصاب میں شامل کرنا، سرکاری سطح پر اس کی حیثیت تسلیم کرنا، اور اسے میڈیا پر زندہ رکھنا—یہ کوئی احسان نہیں، بلکہ ہماری آنے والی نسلوں کے ساتھ انصاف ہے۔ جب تک ہم اپنی مادری زبان میں سوچنا، محسوس کرنا اور خواب دیکھنا نہیں سیکھیں گے، ہماری شناخت کا بحران ختم نہیں ہوگا
آئیں، آج کے دن یہ عہد کریں کہ ہم سرائیکی کو صرف گیتوں تک محدود نہیں رہنے دیں گے۔ یہ وسیب کی دھرتی ہم سے فریاد کر رہی ہے
میکوں وسا کے ویکھو، میں تہاڈی ماں آں
جیندے پُتر اپنی ماء بولی کوں پچھاݨدے نیں، او ماں مریندی اے
سرائیکی دھرتی دے سُکے سُک ساڈا، اساں اِتھوں دے واسیاں
(ترجمہ: سرائیکی دھرتی کی ہر سسک ہماری اپنی سسک ہے، ہم اِس کے واسی ہیں)







































Visit Today : 162
Visit Yesterday : 581
This Month : 12394
This Year : 60230
Total Visit : 165218
Hits Today : 925
Total Hits : 829722
Who's Online : 5




















