ملتان (صفدربخاری سے) ڈاکٹر انوار احمد نے کہا ہے کہ رضوانہ تبسم دررانی کی سرائیکی زبان سے محبت ہے کہ ایک سال میں تین کتابیں اور اب تک ان کی نو کتابیں سرائیکی زبان میں منظرِ عام پر آ چکی ہیں جو کہ سرائیکی زبان کی بہترین ترجمانی کرتی ہیں ان خیالات کا اظہار انہوں نے سویل ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن،دانشور فورم ملتان آرٹس کونسل کے اشتراک سے معروف سرائیکی شاعرہ براڈ کاسٹر،سوشل ورکر رضوانہ تبسم درانی کی حال ہی میں آنے والی تین نئی کتب کی تقریب رونمائی و پزیرائی کی تقریب سے خطاب کرتے ہو ئے کہا۔اُنھوں نے مزید کہا کتاب منبع علم اور مصدر علم ہے۔ کتاب غور و فکر کو پروان چڑھاتی ہے۔ غور و فکر انسان کو حکمت و دانائی اور معرفت کی طرف لے جاتا ہے۔ کتاب انسان کو طمانیت،شعور آگہی اور وجدان کے خزینے عطا کرتی ہے۔ کتاب آنے والی نسلوں کے لئے ہوتی ہے۔اس موقع پر مہانان خصوصی وپروفیسر عامر فہیم،شاکر حسین شاکر،آصف کیتھران،پروفیسر شاہدہ رسول، رضی الدین رضی،زہرہ سجاد زیدی،ظہور دھریجہ،اظہر مجوکہ مہمانان اعزاز نے کہا کہ رضوانہ تبسم دور حاضر میں سرائیکو کی خالق ہیں اور خاتون گیت نگاری میں ان کا شمار صف اول میں ہوتا ہے انہوں نے براڈ کاسٹنگ،تحریر و تقریر کی دنیا میں یکساں مقبولیت حاصل کی اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے میزبان مجلس عامر شہزاد صدیقی،یاسمین خاکوانی نے کہا کہ کتاب انسانی سوچوں کو گہرائی اور وسعت سے نوازتی ہے۔ کتاب کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ قرآن نے ابتدا میں ہی اپنا تعارف ”الکتاب“ کے طور پر کروایا۔ انہوں نے صاحبہ شام کی کاوشوں کو سراہا۔اس موقع پر رضوانہ تبسم درانی نے کہا کہ میں نے ہمیشہ معاشرتی مسائل پہ قلم اٹھایا ہے اور سچ کو قلم بند کیا ہے اور کرتی رہوں گیں سوشل ورک میرا ایمان ہے انسانی خدمت سے سکون ملتا ہے۔دیگر خطاب کرنے والوں میں ڈاکٹر ہارون پاشا،ڈاکٹر راشدہ بھٹہ،صائمہ علی،ڈاکٹر شفیق صابر، سلیم قیصر،ڈاکٹر امتیاز بلوچ، سابق جی ایم یونس چشتی، شاہدہ پیرزادہ شہگی،ڈاکٹر آمنہ شامل تھے۔شرکت کرنے والوں میں تاج ایم تان،نورالامین خاکوانی،زیب رسول،منصور اعوان،ثوبیہ ملک،ملک سجاد،اکرم میرانی،قادر خان،علی رضا خان،روبینہ بخاری،پروفیسر مظفر دوسرے مہمان شامل تھے تقریب کے اخر میں یادگاری شیلڈ دی گئی۔