عوام کو صحت کارڈ کی بجائے، ایجوکیشن کارڈ دیا جائے

تحریر: زین العابدین عابد

ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب کے ہر شہری کو سال2022ء علاج معالجہ کے ہے دس لاکھ روپے کی سہولت میسر آئے گی۔یہ سہولت سرکاری اور منتخب پرائیویٹ ہسپتالوں میں میسر آئے گی۔یہ ہم تسلیم کرتے ہیں کہ صحت کی بہترین سہولیات کا فراہم کرنا ہر حکومت وقت کی ذمہ داری ہے۔حکومت پنجاب نے عوام کو صحت کی بنیادی سہولت فراہم کرنے کے لیے یہ احسن اقدم اٹھایا ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی حکومت میں اس سے قبل صوبہ خیبرپختونخوا کے شہریوں کو صحت کار ڈ کی سہولت فراہم کی گئی تھی۔ پاکستان میں ڈاکٹر میں موجود صلاحیتوں اور قابلیت کے بجائے اس کے تجربے کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔اس غیر منصفانہ ماحول اور اسٹاف کی کمی کے باعث مریض کو بہتر طبی سہولیات مہیا نہیں ہوپاتیں۔ پاکستان میں مروج میڈیکل کی تعلیم کا معیار بھی دیگر ترقی یافتہ ممالک جیسا نہیں ہے۔ہیلتھ کارڈ کا اجراء صحیح سمت میں قدم ہے جس سے تمام شہریوں کو نجی ہسپتالوں تک رسائی حاصل کرنے کا موقع ملے گا، مگر حکومت کو اصل مسائل حل کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو ملک میں مریضوں کی حالت بہتر نہیں ہو سکے گی۔ہمارے رائے میں نظامِ صحت کی حالتِ زار کو کارڈ سے نہیں بلکہ ہسپتالوں میں بہتر سہولیات کی فراہمی، نئے ہسپتالوں کی تعمیر، تربیت یافتہ ڈاکٹروں کی موجودگی اور بروقت علاج سے ممکن بنایا جا سکتا ہے.”اِس نام نہاد صحت انصاف کارڈ کا ایک اور پہلو پہلے سے موجود نجی ہسپتالوں کی تجوریاں بھرنا بھی ہے“۔ کیونکہ بعض مستند اخباری رپورٹوں کے مطابق جہاں یہ کارڈ جاری کیے گئے ہیں وہاں 60 فیصد ادائیگیاں نجی شعبے کو کی جا رہی ہیں۔ یوں بہرصورت معاملہ یہ ہے کہ صحت کا بجٹ بڑھانے‘ نئے سرکاری ہسپتال بنانے اور پہلے سے موجود ہسپتالوں کی حالت زار کو بہتر بنانے کی بجائے لوگوں کو اِس کارڈ کی بتی کے پیچھے لگا کر نجی شعبے کی طرف ہانکا جا رہا ہے۔ یہ کونسی دانشمندی ہے علاوہ ازیں کارڈ حاصل کرلینے والوں کے لئے بھی علاج کی فراہمی کی کوئی ضمانت نہیں ہو گی۔ یہ سارا نظام اتنا پیچیدہ ہے کہ اکثر صورتوں میں انہیں ایک دفتر سے دوسرے دفتر، ایک قطار سے دوسری قطار اور ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال بھیجا جاتا رہے گا۔ نجی ہسپتال چند گھونٹ میں ہی کارڈ میں موجود ساری رقم پی جائیں گے جس کے بعد لوگوں کی جیب سے پیسے نکلوائے جائیں گے۔ اس وقت وزیر اعلیٰ پنجاب کو صحت کے شعبہ سے زیادہ تعلیم پر توجہ دینے کی ضرورت تھی۔کیونکہ پنجاب کے 36اضلاع میں ہر غریب اور سفید پوش کے بچے سکول یاکالجز کی تعلیم پا رہے ہیں،اس کے برعکس یہ ضروری نہیں کہ ہر گھر کا فرد بیمار بھی ہو۔قومیں اور با شعور افراد ہمیشہ تعلیم پر سرمایہ کاری کرتی ہیں۔ہمارا شعبہ تعلیم سے 25سال تعلق رہا ہے ہر حکومت نے عوام کے ساتھ مفت اور لازمی تعلیمی سہولیات فراہم کرنے کے وعدے کئے مگر کسی حکومت نے بھی تعلیم کو اہمیت نہ دی۔ماہ اگست 2021میں صوبہ پنجاب میں یکساں تعلیمی نصاب نافذ العمل کیا۔ صوبے کے تمام سرکاری اور غیر سرکاری سکول آج سے وہی سلیبس پڑھائیں گے جو حکومت سے منظور شدہ ہے۔ یکساں نصاب پہلی سے پانچویں جماعت تک ہو گا جس کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔مگر اس پر عمل درآمد نہیں ہورہا، ہر پرائیویٹ سکول کی اپنی کتابیں اور خلاصے،گائیڈیں ہیں، اور حکومت وقت جعلی،نقلی، گائیڈیں اور خلاصوں پر پابندی لگانے میں ناکام ہو چکی ہے۔جس سے عام شہری کے بچوں کے لیے تعلیم مہنگی اور ان کی پہنچ سے دورتر ہوچکی ہے،ہمیں اچھی طرح یار ہے کہ تحریک انصاف کے چیرمین،موجودہ وزیراعظم عمران خان نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ حکومت میں آکر پورے ملک میں معیاری وانصاف پر مبنی مفت تعلیم فراہم کریں گے۔ انہوں نے کہا تھا کہ مرکزی وسرکاری حکومت کی ذمہ داری ہوگی کہ وہ 6 سے 14 سال کے بچوں کی مکمل تعلیمی کفالت کریگی اورانہیں معیاری تعلیم فراہم کریں گے۔ حکومت میں آنے کے بعدپی ٹی آئی نے شعبہ تعلیم کو نظر انداز کر دیا، وزیراعظم پاکستان کے ماضی میں کئے گئے وعدے ہر پاکستانی بچہ کو یہ حق فراہم کرتا ہے کہ اسے قریبی اسکول میں داخلہ دیا جائے، اسے مفت تعلیم دی جائے، اس کی حاضری کو یقینی بنایا جائے، اس سے کسی بھی قسم کی فیس نہ لی جائے، اگرکوئی بچہ صحیح وقت پر داخلہ نہیں لے پایا ہے تو اسے اس کی عمر کے حساب سے مناسب کلاس میں داخلہ دیا جائے، کلاس میں استاداور بچے کا مناسب تناسب رہے، شہروں اور دیہاتوں میں ہرجگہ اس تناسب کو بہتر سے بہتر رکھنے کو یقینی بنایا جائے اور بچوں کو ایسی معیاری تعلیم دی جائے کہ وہ ٹیوشن کا محتاج نہ ہو۔یہ سب کچھ اس وقت ممکن ہو سکتا ہے،جب تحریک انصاف کی حکومت صوبہ پنجاب کے پسماندہ اواقتصادی طور پر کمزور طبقات کے بچوں کو صحت کارڈ کی بجائے ”ایجوکیشن کارڈ“فراہم کرے تاکہ غریب والدین کے بچے زیور تعلیم سے آراستہ ہوسکیں۔
صحت کارڈ کی افادیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا مگر ہر گھر کا فرد بھی بیمار نہیں پڑتا،اس کے برعکس تعلیم ہر گھر کا بچہ حاصل کر رہا ہے اسے تعلیمی امور میں روزانہ کی بنیادوں پر مدد کی ضرورت ہے، اس تناظر میں ایجوکیشن کارڈ صحت کارڈ سے زیا دہ اہمیت کا حامل ہے۔کیونکہ صحت کارڈ بنیادی طور پر ہیلتھ انشورنس کارڈ ہے۔ انشورنس کمپنی سٹیٹ لائف ہے جو غریب گھرانوں کی ہیلتھ انشورنس کرے گی اور اس کمپنی کو انشورنس کی رقم حکومت ادا کرے گی۔ ضرورت پڑنے پر سٹیٹ لائف نجی یا سرکاری ہسپتالوں کو علاج کا معاوضہ ادا کرے گی۔ تھوڑا سا غور کیا جائے تو یہ سارا گورکھ دھندا علا ج کے کاروبار کو سرکاری آشیر باد دینے کے لئے ہے۔ دوسرے الفاظ میں یہ انتہائی عیاری سے بڑے پیمانے پر شعبہ صحت کی نجکاری کے مترادف ہے۔