ملتان : ارتقاء آرگنائزیشن پاکستان کے زیر اہتمام ماہانہ تربیتی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے معروف تربیت کار ڈاکٹر ارسلان جاوید نے کہا کہ کامیابی کا تعلق عادات و اطوار سے ہوتا ہے ۔ ہم پرانی اور غلط عادات سے چھٹکارا پانے کی کوشش نہیں کرتے جس کی وجہ سے ہم احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ ہمارا خود پر یقین کم ہو جاتا ہے ۔ ہم نیا سیکھنے کے لئے تیار نہیں ہوتے، ہم خود کو بہتر بنانے کے لیے خود سے نہیں ملتے اور خود شناسی کے عمل سے دور ہو جاتے ہیں ہمارے پاس اپنے لیے وقت نہیں ہوتا اور ہم اپنا احتساب بھی نہیں کرتے ۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کم سیٹ کالج میں ایک بھرپور سیشن سے کیا۔ اس سیشن کی صدارت راحت ثمرین نے کی جبکہ مہمانان گرامی میں خواجہ سہیل طفیل ، محمد سلیم ، مظہر صدیقی ، وقار طیب ، حنا سلمان ، اے ڈی جٹ اور محمد طاہر شامل تھے ۔ سٹیج سیکرٹری عتیق الرحمن تھے اور ارتقاء کے مرکزی عہدے داران فہیم چغتائی اور عمران عزیز خان نے ارتقاء کی نمائندگی کرتے ہوئے اس کے پندرہ پروجیکٹس کی تفصیل بتائی ۔ خواجہ سہیل طفیل اور راحت ثمرین نے موضوع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ہماری عادات ہمارا تعارف اور حوالہ ہوتی ہیں ۔ ہمیں اچھی سیکھنے اور سمجھنے والی عادات کا خُوگر بننا چاہیے ۔ مظہر صدیقی اور وقار طیب نے کہا کہ آج کے دور میں مقابلے کی فضا ہے۔ ڈیجیٹل ورلڈ میں وہی بہتر اور ترقی یافتہ انسان بن سکتا ہے جو زیادہ سے زیادہ مہارتیں سیکھنے کی عادت بنا لے ۔ محمد طاہر اور حنا سلمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم اپنی بہترین عادات سے دنیا بھر میں اونچا مقام حاصل کر سکتے ہیں افسوس کہ ہم ابھی بہت پیچھے ہیں ۔ تقریب کے اختتام پر ارتقاء ٹیم کی طرف سے ڈاکٹر ارسلان جاوید کو یادگار سووینئر اور گل دستہ یش کیا گیا ۔