اسلام آباد: حکومت ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کیلیے360 ارب روپے کا منی بجٹ وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے منظوری کے بعدآج قومی اسمبلی میں پیش کرے گی۔ وزیراعظم نے منی بجٹ کی منظوری کیلیے کابینہ کا اجلاس آج دوپہر طلب کیا ہے۔ وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق یہ 144 اشیا یا تو جی ایس ٹی سے مکمل طور پر مستثنیٰ ہیں یا ان پر5فیصد سے12فیصد ٹیکس عائد ہے۔ اب ان پر 17 فیصد سیلز ٹیکس عائد کیا جائے گا۔ان اشیا پر 17 فیصد سیلز ٹیکس لگانے سے ٹیکس وصولی 352ارب روپے سے کہیں زیادہ ہوگی کیونکہ بہت سی اشیا پر پہلی بار ٹیکس عائد کیا جائے گا اور ان سے حاصل ہونے والے ٹیکس تخمینے کا ایف بی آر کو اندازہ نہیں ہے۔موبائل فون کالز پر انکم ٹیکس ریٹ10 فیصد سے بڑھا کر 15 فیصد کرنے سے مزید 7ارب حاصل ہونگے، شیرخوار بچوں کیلیے دودھ کی تیاری کیلیے استعمال ہونے والے درآمدی خام مال پر زیرو ریٹنگ ٹیکس واپس لیکر اس پر بھی 17 فیصد سیلز ٹیکس لگایا جائے گا جس سے ریونیو میں نو ارب روپے اضافہ ہوگا۔ اس مد میں ٹیکس آمدن کا تخمینہ 15 ارب لگایا گیا ہے۔