پاکستان بھر میں ضلعی سطح پر تمباکونوشی ترک کرنے کی خدمات و سہولیات فراہم کی جائیں: اے آر آئی
ملتان: آلٹرنیٹیو ریسرچ انیشیٹیو (اے آر آئی) اور اس کی ممبر تنظیموں نے وفاقی و صوبائی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ ملک بھر میں اضلاع کی سطح پر تمباکونوشی چھوڑنے کی خدمات و سہولیات کی فراہمی کو ترجیح بنائیں تاکہ تمباکو کی بڑھتی وباء کا مقابلہ کیا جا سکے۔اے آر آئی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ارشد علی سید نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ تمباکو کا استعمال صحت کا ایک بڑا مسئلہ ہے جو سماجی و اقتصادی بحران کی صورت اختیار کر چکا ہے۔انہوں نے تمباکونوشی ترک کرنے میں سگریٹ نوشوں کی مدد کرنے کے لیے جامع، قابل رسائی اور پائیدار حکمت عملی اپنانے پر زور دیتے ہوئے ضلعی سطح پر تمباکونوشی چھوڑنے کی خدمات و سہولیات کی فراہمی کو اس سمت میں ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔ارشد علی سید نے کہا کہ تمباکو نوشی کی روک تھام کی خدمات و سہولیات کو موجودہ بنیادی صحت کی دیکھ بھال کے نظام کا حصہ بنایا جا سکتا ہے تاکہ شہریوں کی ان تک رسائی کو یقینی بنایا جا سکے۔ مزید برآں، ضلعی سطح پر صحت کی دیکھ بھال کرنے والے کارکنوں کو تربیت دی جانی چاہیے تاکہ وہ تمباکونوشی چھوڑنے کی غرض سے سگریٹ نوشوں کو سائنسی شواہد کی بنیاد پر طرز عمل میں تبدیلی لانے کے لیے انہیں صلاح و مشورے اور ادویات کے استعمال میں رہنمائی فراہم کر سکیں۔ ان اقدامات کے علاوہ ملک بھر میں ایسی مہمات کا اہتمام کیا جانا چاہیے جن کے ذریعے ان خدمات و سہولیات کی دستیابی کے بارے میں آگہی پیدا کی جا سکے اور ان کی افادیت کی نگرانی کا ایک مضبوط نظام بنایا جاسکے۔انہوں نے تمباکو نوشی کے خاتمے کے لیے برطانیہ کی حکمت عملی کا جائزہ لینے اور اسے اپنانے پر بھی زور دیا جس کی مدد سے ملک میں گزشتہ دو دہائیوں میں سگریٹ نوشی کی شرح میں نمایاں کمی آئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں قومی ادارہ برائے صحت (نیشنل ہیلتھ سروسز) تمباکونوشی چھوڑنے کے لیے سائنسی شواہد کی روشنی میں لوگوں کو صلاح و مشورے اور نکوٹین ریپلسیمنٹ تھراپی (این آر ٹی) سمیت ویرینسلین اور بوپروپیون جیسی ادویات مفت فراہم کرتا ہے۔برطانیہ، سکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں تمباکو نوشی کی روک تھام کے مقامی مراکز میں سگریٹ نوشی ترک کرنے میں لوگوں کی مدد کرنے کے لیے صلاح کار ہوتے ہیں۔ ان مراکز میں تمباکونوشوں کی سگریٹ پینے کی عادت اور اسے چھوڑنے کی خواہش کا جائزہ لینے اور جسم میں کاربن مونو آکسائیڈ (سگریٹ کے دھوئیں میں ایک زہریلی گیس) کی مقدار جانچنے کے ٹیسٹ جیسی خدمات فراہم کی جاتی ہیں۔ارشد علی سید نے کہا برطانیہ کی حکمت عملی سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمباکو نوشی کی روک تھام کی خدمات و سہولیات میں سرمایہ کاری سے صحت عامہ میں بہتری آتی ہے اور معاشی فوائد بھی حاصل ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا پاکستان میں ضلعی سطح پر اسی طرح کی خدمات و سہولیات کی فراہمی سے ہم زندگیاں بچا سکتے ہیں، صحت کی دیکھ بھال کے اخراجات کم کر سکتے ہیں اور شہریوں کے لیے ایک صحت مند مستقبل بھی بنا سکتے ہیں۔







































Visit Today : 240
Visit Yesterday : 581
This Month : 12472
This Year : 60308
Total Visit : 165296
Hits Today : 1755
Total Hits : 830552
Who's Online : 7




















