لاہور: سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس کا انعقاد ہوا۔اجلاس میں وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کے ویژن کے مطابق تیار کئے گئے منصوبوں پر عملدرآمد بارے پلان کو حتمی شکل دی گئی۔اس موقع پر سیکرٹری زراعت پنجاب افتخار علی سہو نے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی ہدایات پر کپاس،گندم اور چاول کی فصل پر ریسرچ وڈویلپمنٹ کیلئے کل تین عدد سینٹر آف ایکسیلئنس قائم کئے جا رہے ہیں۔ 60فیصد سبسڈی پر56 اقسام کے زرعی آلات کاشتکاروں کوفراہمی شفاف قرعہ اندازی کے ذریعے کی جارہی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ صوبہ پنجاب میں نجی شعبہ کے اشتراک سے ماڈل ایگریکلچر سینٹرز کا قیام عمل میں لایا جارہا ہے۔اس کے علاوہ صوبہ پنجاب میں کل7300 کھالہ جات کو پختہ کیا جا رہا ہے۔کاشتکاروں کو معیاری زرعی ادویات و کھاد کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے فرٹیلائزر کنٹرول ایکٹ2024 کا ڈرافٹ منظوری کیلئے تیاری کے مراحل میں ہے اور پنجاب پیسٹی سائیڈز ایکٹ2012 میں ترمیم شدہ ڈرافٹ کو حتمی شکل دی جا رہی ہے۔انھوں نے بتایا کہ صوبہ میں میکانائزیشن کے فروغ کیلئے کسانوں کودو سال میں 7 ارب روپے کی خطیر رقم سے 24 ہزار800 جدید زرعی آلات فراہم کئے جائیں گے۔اس کے علاوہ معیاری بیج کی دستیابی کیلئے پنجاب سیڈ کارپوریشن کی تشکیلِ نو کی جا رہی ہے اور پنجاب ایگریکلچر کمیشن کو دوبارہ فعال کیا جا رہا ہے۔شعبہ زراعت توسیع کے روابط کاشتکاروں سے مزید مضبوط کرنے کیلئے زرعی گریجوایٹس کی کنٹریکٹ پر بھرتی کی جائے گی۔اجلاس میں منیجنگ ڈائریکٹر پنجاب سیڈ کارپوریشن شان الحق، اسپشل سیکرٹری زراعت(مارکیٹنگ) پنجاب ڈاکٹر محمد شہنشاہ فیصل عظیم،ایڈیشنل سیکرٹری زراعت(ایڈمن) پنجاب اعجاز منیر،ایڈیشنل سیکرٹری زراعت(پلاننگ) کیپٹن(ر) وقاص رشید، ایڈیشنل سیکرٹری (ٹاسک فورس) پنجاب میاں عبدالقادر شاہ،ڈائریکٹر جنرل پامرا طارق محمود، کنسلٹنٹ محکمہ زراعت ڈاکٹر انجم علی،ڈائریکٹر جنرل زراعت(توسیع) ڈاکٹر اشیاق حسن، ڈائریکٹر جنرل (اصلاح آبپاشی)  ملک محمد اکرم،ڈائریکٹر جنرل زراعت(فیلڈ) انجنئیر احمد سہیل،ڈائریکٹر جنرل (کراپ رپورٹنگ) ڈاکٹر عبدالقیوم،ڈائریکٹر جنرل زراعت(پیسٹ وارننگ) پنجاب ڈاکٹر غلام عباس اور ڈائریکٹر زرعی اطلاعات پنجاب نوید عصمت کاہلوں سمیت دیگر اعلیٰ افسران کی شرکت کی۔