ملتان (صفدربخاری سے)10‘15سال سے ملک میں کوئی اچھی صنعتی پالیسی نہیں آئی جس کی وجہ سے یہاں سرمایہ کاری نہیں ہورہی ۔ حکومت ملک میں سرمایہ کاری کیلئے اچھی صنعتی پالیسی جاری کرے تاکہ مقامی اور غیر ملکی صنعت کار یہاں سرمایہ کاری کرے۔یہ باتیں ممتاز صنعت کار اور شمع بناسپتی ‘ ویز واش بنانے والے ادارے کے چیف ایگزیکٹو آفیسر شیخ احسن رشید نے گفتگوکرتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں سرمایہ کاری نہ ہونے کی بڑی وجہ انفراسٹرکچر اور توانائی نہ ہونا تھا 2011میں سی پیک اسی بنا پر شروع ہوا تھا کہ پہلے یہاں انفراسٹرکچر بنے گا‘روڈز نیٹ ورک بنے گا‘ بجلی کے منصوبے لگیں گے ۔ اب ملک میں بجلی بھی وافر ہے‘ انفراسٹرکچر بھی تیار ہے مگر سرمایہ کاری نہیں ہورہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ صنعتی پالیسی نہ ہونا ہے۔ 27سے زائدمحکموں سے این اوسی لینا پڑتا ہے۔ دو تین سال تک محکموں کے چکر لگانا پڑتے ہیں۔ اب بزنس سہولت کاری کونسل کے قیام اور اس کام سے امید ہوئی ہے کہ کارخانے ‘فیکٹریاں لگانے کیلئے این او سی ایک ہی جگہ سے ملیں گے۔ شیخ احسن رشید نے مزید کہا کہ حکومت کو آگے بڑ ھ کر ملکوں کے پاس خود جانا ہوگا اور ان کو آگاہ کرنا ہوگا کہ ہم سرمایہ کاروں کیلئے بہترین اقدامات کررہے ہیں ان کو اعتماد میں لینا ہوگا اور یہی کام سابق وزیر تجارت ڈاکٹر گوہر اعجاز نے کیا تھا وہ چین‘ سعودی عرب‘ متحدہ عرب امارات گئے وہاں کی حکومتوں اورسرمایہ کاروں کوپاکستان کے اقدامات سے آگاہ کیا جس سے اب ان ممالک کو کچھ احساس ہوا ہے کہ حکومت پاکستان مخلصانہ اقدامات کررہی ہے۔