!ہمارا نظام عدل

تحریر: مسیح اللہ جام پوری
عدل و انصاف اور آزادی اظہار کی بڑی تاریخی مثالیں اور واقعات سناتے علماء و اکابرین اور دانشور نہیں تھکتے ، جب یہ لوگ با اختیار ہوتے ہیں تو خلق خدا پر مزید پابندیوں کا باعث یہی بنتے ہیں ، کسی دوسرے ملک کی نہیں اپنے وطن کی بات کرتے ہیں ، عدلیہ اور طاقت ور لوگوں نے جس قدر ہمارے اداروں کی عزت وقار کو مٹی میں ملایا اس کی نظیر کہیں نہیں ملتی۔ نظام عدل میں کاغذی انصاف سے کام لیا جا رہا ہے، واقعات، مشاہداتی ، فکری ، نظریاتی اور عقلی جسٹس سے کبھی کام نہیں لیا گیا، مسند انصاف پر متمکن شخص ہی عقل کل ہے اس کے سامنے کسی کو بولنے کی اجازت ہی نہیں ، وکیل پیسے لے کر انصاف دلانے کی سعی کرتا ہے، جج صاحبان جھوٹے اور بد دیانت وکلاء کو بھی سزا نہیں دیتے ، اگر کوئی جج انہیں سرزنش کرتا ہے تو کالے کوٹ والے اکٹھے ہو جاتے ہیں ، کالے کوٹ کی عزت و وقار کاسوال بنا لیتے ہیں۔
ہم اٹھتے بیٹھے اسلام کا نام لیتے ہیں لیکن ہمارا کوئی ادارہ بھی اسلامی اصولوں پر استوار ہی نہیں۔ نام نہاد نظام عدل ہی بنیادی طور پر نا انصافی کی بنیاد ہے، انصاف کا کوئی ایک واقعہ مثال کے طور پر پیش نہیں کیا جا سکتا، برطانیہ میں دو ڈھائی سو سال پہلے ایک طاقت ور نے نظام عدل کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے حکومت برطرف کر دی ، عوام نے دو ڈھائی سو سال بعد جنرل الیور کرامویل کی لاش کو قبر سے نکال کر چوک پر لٹکا دیاتھا، اس کے بعد برطانیہ نظام عدل کا علمبردار بن گیا، چرچل کو کہنا پڑا عدالتیں کام کر رہی ہیں تو برطانیہ کو کچھ نہیں ہوگا لیکن ہمارے طاقت ور حکومت پر قابض ہو جاتے ہیں، منتخب وزیر اعظم کو تختہ دار پر چڑھا دیاجاتا ہے۔
چالیس پینتالیس سال پہلے منتخب وزیر اعظم کو عدلیہ نے حکمرانوں کے آلہ کار بن کر تختہ دار پر لٹکا دیابعد میں کسی نے آمر کو سزا نہیں سنائی نہ سزائے موت پر بات کی لیکن صدر آصف علی زرداری نے ریفرنس دائر کیا تو گیارہ برس ریفرنس عدالتی الماریوں کی زینت بنا رہا، بعد میں نظام عدل کے اکابرین کو ہوش آیا۔ اس کیس کی سماعت کی ، عدالت نے قرار دیاکہ ذوالفقار علی بھٹو کو انصاف نہیں ملا، بس جج صاحبان نے جلدی میں آکر سزا سنائی ، عدلیہ اپنی ناک پر مکھی نہیں بیٹھنے دیتی لیکن عرض یہ ہے کہ ایک آمر نے عدالت کی ناک پر مکھی چپکائی تھی ، عدلیہ کا فرض تھا اس کیس کو یہ کہہ کر فیصلہ دیتے کہ ذوالفقار علی بھٹو بے گناہ تھے ، انہیں قتل کیا گیا، عدالتی قتل ۔ لیکن کسی جج صاحب کی ہمت نہیں ہوئی اور نہ ہی کسی جج نے آمر کے بارے میں لب کشائی کی ، اگر عدالت عظمی ہمت سے کام لیتی اس ریفرنس میں شہید بھٹو کو بے گناہ قرار دے کر سزا کو کالعدم قرار دے ڈالتی اور جن کا جج صاحبان پر دبائو تھا اسے غاصب قرار دے ڈالتی تو انصاف کا بول بالا ہوتا اورمستقبل میں جمہوریت پر شب خون مارنے کے جاری سلسلے کو روکا جا سکتا تھا اور من پسند نالائق افراد کی سرپرستی کرنے والے طاقت ور لوگوں کی حوصلہ شکنی ہوتی۔
یہ امر تو اب بے نقاب ہو چکا ہے کہ عمران نیازی کو سالہا سال سے تربیت دی جا رہی تھی ، اسے آکسفورڈ کا وائس چانسلر تک بنوایا گیا جس نے سیاسیات میں تھر ڈڈویژن میں ڈگری لی تھی ، اسی طرح پہلے اسے کرکٹ میں میں لے جایا گیا کرکٹ کا ورلڈ کپ دیدیا گیا، حکیم سعید صاحب ، ڈاکٹر اسرار احمد صاحب تو کئی برس پہلے اس فتنہ کو بے نقاب کر چکے تھے ، اسرائیل اور برطانیہ نے اس کی سرپرستی کی جس نے اسرائیل قائم کیا دنیا کے لیے ناسور پیدا کیا، اسے وزیر اعظم بنوانے کے لیے اسٹیبلشمنٹ کا سہارا لیاگیا، اسٹیبلشمنٹ نے اس کی سرپرستی کی ، اسے مسند وزارت عظمیٰ پر متمکن کیا گیا، ڈھائی تین برسوں کے اندر اس نے جیتے جاگتے ترقی کرتے ملک کو کھنڈر بنا ڈالا، مملکت پاکستان کے ایٹمی اثاثے سمندر برد کرنے سے پہلے فوج کو عقل آ گئی اس نے اس کا پتہ صاف کیا، اسے کرسی سے اتارا لیکن عدلیہ اور طاقتور حلقوں میں اس کے سہولت کار باقی بچے رہے وہ گل کھلاتے رہے، اس سلسلے میں عدلیہ کو اللہ پاک نے موقع مہیا کیا لیکن عدلیہ نے اس سے فائدہ نہیں اٹھایا۔
ذوالفقار علی بھٹو ریفرنس میں سپریم کورٹ کے فاضل جج صاحبان دانش سے کام لیتے تو مستقبل کی راہیں صاف کر سکتے تھے ، عدلیہ کی حالت کیا ہے، ابتر ہے، ایک مقدمہ قتل کا احوال سن لیجئے، ماتحت عدالت نے ملزموں کو قاتل ثابت ہونے پر سزائے موت اور عمر قید کی سزا دی، ملزم پارٹی طاقتور تھی ، انہوں نے لاہور میں کیس اپنی پسند کے جج صاحبان کی عدالت میں لگوایا، وہاں ایک سیشن کورٹ سے ہائی کورٹ کا جج بنا تھا، اس نے فیصلہ لکھا اصل قاتل یہی ہیں ، جرمانہ محض پچاس ہزار برقرار رکھا ، پھر کیس سپریم کورٹ چلا گیا، سپریم کورٹ میں کیس آٹھ دس برس چلتا رہا ۔
کئی وکلا فیسیں لے کر پیش نہیں ہوتے ،مدعی پارٹی تباہ و برباد ہو جاتی ہے۔ ایک چیف جسٹس اسلام آباد میں کیس کی سماعت کے لیے آئے جب کیس لگا فائل کو ہاتھ لگایا اور بولے اتنی موٹی فائل ہے، اسے دیکھا پھر کیس اوور لفٹ ہو گیا، کئی بار وکلاء پیش نہ ہوئے ، کبھی جج صاحب چھٹی پر ، کبھی عدالت میں وکلا کی ہڑتال ، کسی کا کچھ نہیں جاتا تھا، انصاف کا متلاشی بے چارہ قرضوں کے بوجھ تلے دب جاتا ہے، ہر بار وکیل کی جیب گرم کرنا ہوتی ہے، اسلام آباد سے لاہور آنے جانے کا کرایہ اور رہائش کے خرچے سب کا بوجھ مدعی ہی کی گردن پر ہوتاہے ، کئی بنچ تبدیل ہوئے، وکلا تبدیل ہو گئے انصاف کے حصول کی یہ طویل داستان ہے، کہانی ہے، سوچتا تھا ، اچھا ہوتا معاملہ اللہ پاک پر چھوڑ دیتا ، گو کہ ہر بار رب کریم کے سپرد معاملہ کر کے سفر پر روانہ ہوتا۔ اسلام آباد پلاٹ فروخت کیا،جمع پونجی لٹ گئی ،اللہ پاک مہربانوں کی حیاتی دراز فرمائے ، ان کی مالی معاونت نہ ہوتی تو میں خودکشی کر کے اللہ کے حضور پیش ہو چکا ہوتا لیکن خودکشی بھی حرام ہے، زندگی اللہ پاک کا پاکیزہ تحفہ ہے، میں آخری دم تک قانون کا سہارا لیتا رہا، افسوس ہے کہ ہر کونے میں قاتلوں کے حامی نظر آئے، پیسے لے کر انصاف کا راستہ روکتے رہے۔
اس المناک داستان کا آخری حصہ یہ ہے کہ ایک پیشی پر سپریم کورٹ کے بنچ میں لاہور سے ایک جج شامل تھے پیشی کے پہلے روز کیس لفٹ اوور ہوا، اگلے روز بنچ تشریف فرما ہوا تو لاہور کے جج صاحب پہلے روز تو خاموش رہے، دوسرے روز بولے کیا یہ کیس وہی ہے جس کا والد میرے پاس لاہور میں آیا تھا، قاتل کے وارث نے کہا جی ، یہ کہنا تھا کیس لفٹ اوور ہو گیا، حالانکہ فائل مقدمہ بنچ کے سامنے تھی ، پہلے روز جج صاحب فائل پڑھتے ، اسلام آباد کا خرچہ ہم پر پڑ گیا، وکیل کا بھی ، بنچ نے کیس کی تاریخ نہ دی پھر کئی ہفتوں بعد کیس لگا۔ نیک نام جج بنچ کے سربراہ تھے ، سماعت ہوئی ، فائل مقدمہ ان کے سامنے تھی ، بنچ کے سربراہ جج کے سوالوں سے پتہ چلا کہ انہوںنے فائل مقدمہ کو ہاتھ بھی نہیں لگایا، انہوںنے میرے فاضل وکیل سے پوچھا اغوا ثابت کریں ، فائل مقدمہ میں لوئر کورٹ، ہائی کورٹ سے یہ سب ثابت ہو چکا تھا، فاضل معزز جج صاحب نے لوئر کورٹ کا سوال کیا، فائل پڑھتے تو انہیں معلوم ہوتا، سنتے تھے کہ سپریم کورٹ میں قانونی نکات پر بحث ہوتی ہے میرے سامنے تو کوئی قانونی نقطہ زیر بحث نہیں آیا۔ لوئر کورٹ کے سوالات میرے وکیل سے پوچھے گئے، میرے وکیل نے پولیس کارروائی بیان کی تو مخالف وکیل نے برجستہ کہا جناب والا ، پنجاب پولیس کا تو آپ کو علم ہے کس طرح کارروائی کرتی ہے، فاضل بنچ نے باقی کوئی بات نہیں کی نہ ہی پچاس ہزار جرمانے کو بڑھایا اور نہ ہی مجرموں کی سرزنش ہوئی البتہ سزائے موت ختم کر کے عمر قید کر دی ، اگر قاتل ہیں تو عمر قید کیوں ، سزائے موت کیوں نہیں، لیکن بعد میں علم ہوا حکومت کی پالیسی ہے ، یورپ کا دبائو ہے کسی کیس میں سزائے موت نہ دی جائے، اس لئے قاتلوں کو سہولت مل گئی ، پندرہ بیس برس انصاف کے متلاشی کو انصاف یہی ملا۔ نہ پیشیوں میں مقتول کے والد سے کچھ پوچھا گیا نہ ہی وکلاء سے بولنے کی اجازت دی ، نہ ہی عدالت نے استفسار کیا۔ کہاں ہے نظام انصاف، اسلامی نظام؟۔ (انا للہ و انا الیہ راجعون )
پیشہ ورانہ دیانت داری؟
ہم نیشنل پریس ٹرسٹ کے اخبارات میں سال ہا سال کام کرتے ہیں۔حکومت کی طرف سے مہنگائی میں اضافہ کے پیش نظر بجٹ میں وقتاً فوقتاً مہنگائی الائونس ملتا تھا ، تنخواہوں میں اضافہ ہوتا تھا ، ان قوانین کا اطلاق این پی ٹی کے تمام ملازمین پر ہوتا ۔ ہمارا کیس لیبر کورٹ سروسز ٹربیونل، ہائی کورٹ سے ہوتا ہوا سپریم کورٹ میں پہنچا ۔ تمام فاضل عدالتوں نے ہمیں پنشن کا حق دار قرار دیا ، لیکن این پی ٹی کی انتظامیہ پنشن میں مسلسل ہیرا پھیری کرتی رہی ۔ عدالتوں سے رجوع کیا ، سپریم کورٹ کے کئی فیصلے پنشن کے بارے میں موجود ہیں جس میں کہا گیا کہ اتنی پنشن ادا کی جائے جس سے گھر کا خرچہ چل سکے ، لیکن این پی ٹی انتظامیہ پانچ سو سے دو ہزار روپے ماہوار پنشن دینے پر بضد رہی ۔ پنشنرز کو قوائد اور قوانین کے مطابق پنشن دینے سے منحرف رہی ،بالآخر این پی ٹی کے پنشنرز نے چندہ جمع کرکے سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا ۔ پچاس ہزار روپے ایک نیک نام وکیل کی خدمت میں پیش کئے گئے۔ وہ ہمارے علاقے کے رہنے والے ہیں ،لیکن حالات ہی بدل گئے وہ ایک سیاسی پارٹی میں شامل ہو گئے ، اس پارٹی کے وکیل بھی بن گئے ۔ اخبارات اور ٹی وی نیوز چینلز میں انہوں نے کافی شہرت حاصل کر لی ، ہمارا کیس سپریم کورٹ میں فائل تو کر دیا گیا لیکن جب پیشی پڑی تو موصوف خود پیش نہیں ہوئے ، مظاہر نقوی صاحب جج تھے ۔ انہوں نے کیس خارج کر دیا ۔ انہوں نے ہماری طرف سے اپنا جونیئر وکیل پیش کر دیا خود پیش نہیں ہوئے اور فیس خود وصول کی ، انہوں نے عدالتِ عظمیٰ کو توجہ نہیں دلایا ، ہم نے تمام متعلقہ دستاویزات اپنے وکیل کوجن کو پچاس ہزار روپے ادا کر چکے تھے۔ فائل مقدمہ میں وہی تھیں وہ یقین دلاتے رہے لیکن جب عدالت میں پیش ہونے کا وقت آیا تو خود غائب ہو گئے پھر وکیل صاحب سے پوچھا گیا وہ ہنستے رہے ، دوسرے طریقے سے آپ کو پنشن دلا دیتے ہیں ۔ اضافہ بھی ہوگا لیکن پرنالہ وہیں کا وہیں رہا ۔ انہیں سیاسی جماعت کی سرگرمیوں سے فرصت ملتی ، ٹی وی ٹاک شوز کا ایسا چسکا پڑا نہ ہماراحق دلایا نہ کال کی گئی ۔ نہ ہمیں فیس واپس کی ۔اب کس سے بات کی جائے ،پاکستان بار کونسل توجہ دے سکتی ہے تو ہم اس نامی گرامی وکیل صاحب کے نام ، فون نمبر دینے کو تیار ہیں ،جن بوڑھے پنشنرز سے پیسے جمع کرکے ادا کئے وہ اب ہمارا سر کھاتے ہیں ۔انصاف کی دعویدار جماعت سے وابستہ اس ایڈووکیٹ صاحب کو کون کیا سمجھائے ، کوئی صاحب ہمیں راہ دکھا سکتے ہیں تو تحریک انصاف کا نہیںانصاف کا بول بالا ہوگا ۔پاکستان بار کونسل سے بھی رہنمائی کے منتظر ہیں۔