ملتان (صفدربخاری سے) سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب ثاقب علی عطیل نے کہا ہے کہ زراعت واحد شعبہ ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثر ہوتا ہے ۔زراعت کو موسمیاتی تبدیلیوں کی تباہ کاریوں سے بچانے کے لیے ماحول دوست اقدامات ناگزیر ہیں.انہوں نے کہا کہ پاکستان کو معاشی بحران،اور قدرتی آفات کی وجہ سے غذائی عدم تحفظ کے بڑھتے ہوئے رجحان کا سامنا ہے۔متعدد اشارئیے جو معیشت کے مختلف شعبوں کو گھیرے ہوئے ہیں خوراک کی عدم تحفظ کا باعث بنتے ہیں.انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام ( ڈبلیو ایف پی) کے مطابق پاکستان کی 20 فیصد آبادی اور پانچ سال سے کم عمر کے تقریبا 45 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں ۔وہ فارمرز ڈویلپمنٹ آرگنائزیشن (FDO) اور دوآبہ فاؤنڈیشن کے زیر اہتمام مقامی ہوٹل میں منعقدہ صوبائی سیمینار بعنوان “جنوبی پنجاب میں غذ ائی قلت کی صورتحال” میں شرکاء سے خطاب کر رہے تھے ۔ سیکرٹری زراعت جنوبی ثاقب علی عطیل نے بطور مہمان خصوصی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ زراعت پنجاب اور کاشتکاروں کی محنت کے باعث گزشتہ برس کپاس کی پیداوار میں 30 لاکھ گانٹھوں کا اضافہ ہوا ہے جس سے ملک کو 1.5 ارب ڈالر کا فائدہ ہوا ہے۔انہوں نے ایف ڈی او اور دوآبہ کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ دونوں تنظیموں کی باہمی محنت کے باعث پاکستان میں پہلی بار LANN+ APPROCH کے کامیاب نفاذ کو ممکن بنایا گیا ۔ جس کے باعث دریائی اور صحرائی علاقوں میں غذائی قلت سے نمٹنے کے لیے اور چھوٹے کسانوں کو درپیش چیلنجز کو مد نظر رکھتے ہوئے بھرپور تعاون کیا گیا۔۔ سیکرٹری زراعت نے چھوٹے کسانوں کی خوراک کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے فوڈ ماڈل کی بھی تعریف کی۔چیف ایگزیکٹو آفیسر ایف ڈی او غلام مصطفے نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فوڈ سیکورٹی دنیا بھر میں ایک بہت بڑا چیلنج بن چکا ہے۔2022 کی گلوبل ہنگر انڈیکس کی رپورٹ کے مطابق دنیا میں 828 ملین افراد غذائی قلت کا شکار ہیں۔2022 میں جاری کی جانے والی اس عالمی رپورٹ کے مطابق بھوک کی درجہ بندی میں پاکستان 99ویں نمبر پر ہے۔انہوں نے کہا کہ بڑھتی ہوئی آبادی،موسمیاتی تبدیلیوں،قدرتی آفات اور جدید ٹیکنالوجی کے بارے میں لاعلمی کی وجہ سے پاکستان کی زیادہ آبادی غذائی کمی کا سامنا کر رہی ہے۔اس موقع پر تقریب سے خطاب کرتے ہوئے پروگرام منیجر ایف ڈی او پرویز اقبال انصاری کا کہنا تھا کہ ایف ڈی او ڈبلیو ایچ ایچ کے اشتراک سے مظفر گڑھ میں “غذا اور غذائیت کے تحفظ کے ذریعے استعداد کار میں بہتری کے منصوبہ ” پر کام کر رہا ہے جس کا مقصد صوبائی اور قومی سطح پر ثبوت پر مبنی پالیسی سفارشات کے ساتھ کاشت کاری، غذائیت اور قدرتی وسائل کی انتظام کاری کو منسلک کرنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ قدرتی وسائل کے بہتر استعمال اور پائیدار زراعت کے فروغ کے لیئے ایف ڈی او نے چھوٹے کسانوں کو گھریلو سطح پر ایک ایکڑ سے مکمل خوراک حاصل کرنے کا نظام متعارف کرایا پے۔ پروگرام منیجر دوآبہ فاونڈیشن جاوید اقبال نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملٹی اسٹیک ہولڈرز کا اس اہم ایشو پر اکھٹا ہونا قابل ستائش ہے ۔ پینل ڈسکشن فارمر کے دوران، ڈائریکٹر زراعت، سی ای او ہیلتھ اور چیئرپرسن SUN CSA نے چھوٹے کسانوں کے کردار کی وضاحت کی۔ چیئرپرسن SUN CSA نے کہا کہ جنوبی پنجاب میں غذائی قلت کے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے سول سوسائٹی کسانوں اور خدمات فراہم کرنے والوں کے درمیان پل کا کردار ادا کر سکتی ہے۔ سیمینار میں پروفیسر عمر اور پروفیسر رئیس نے جنوبی پنجاب میں غذائیت کی کمی اور ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے کردار پر روشنی ڈالی۔ آخر میں سیمینار کا اختتام اس عزم پر کیا گیا کہ جنوبی پنجاب میں غذائی قلت سے نمٹنے کے لیے ہر اسٹیک ہولڈر اپنا کردار ادا کرے گا جبکہ تعاون اس کے لیے کلیدی ہوگا
تقریب میں چیف ایگزیکٹو ہیلتھ، سیکشن آفس پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ، ڈائریکٹر زراعت، ڈویژنل ڈائریکٹر سوشل ویلفیئر، ڈائریکٹر زراعت ،ریجنل ڈائریکٹر جنوبی پنجاب بیت المال، ڈین چیئرمین فوڈ اینڈ نیوٹریشن، اور پنجاب بھر سے سول سوسائٹی کے نمائندگان و دیگر نے شرکت کی۔