سچی سیاسی پیش گوئیاں اور ایرانی گیس کا تحفہ

تحریر: طارق محمود قریشی

پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے وزیر اعلی سندھ کے عہدے کیلئے ایکبار پھر مراد علی شاہ کی نامزدگی کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ مراد علی شاہ منگل کو تیسری بار وزیر اعلیٰ سندھ کے منصب کاحلف اٹھائیں گے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی خادم کے 22 فروری 2024 کو شائع ہونے والے کالم کا ایک بڑا حصہ درست ثابت ہوا ہے۔ چاروں صوبوں میں متوقع وزرائے اعلی مریم نواز، مراد علی شاہ، علی امین گنڈا پور اور سرفراز بگٹی کے نام ہی فائنل قرار پائے ہیں۔ جبکہ باقی ماندہ حکومتی سیٹ اپ بارے سیاسی تجزیہ بھی وقت آنے پر انشاءاللہ اگلے چند ہفتوں میں درست ہوگا۔ اکیس فروری کو “کون بنے گا کروڑ پتی” کے عنوان سے تحریر کئے گئے متذکرہ کالم میں آئندہ حکومتی سیٹ اپ کے حوالے سے لکھا تھا کہ اب تک کی صورتحال سے واضح ہو رہا ہے کہ نئے حکومتی سیٹ اپ میں ممکنہ طور پر پیپلز پارٹی کے آصف علی زرداری صدر مملکت، نواز لیگ کے میاں شہباز شریف وزیراعظم، پیپلز پارٹی کے سید یوسف رضا گیلانی چیئرمین سینیٹ، نواز لیگ کے اسحاق ڈار سپیکر قومی اسمبلی ہوں گے۔ ڈپٹی چیئرمینسینیٹ اور ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کیلئے ابھی صورتحال غیر واضح ہے۔ تاہم غالب امکان ہے کہ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کے عہدے پر پیپلز پارٹی کسی خاتون رہنما کو نامزد کرے گی۔ اسی طرح پیپلز پارٹی پر چیک رکھنے کیلے نواز لیگ ممکنہ طور ایم کیو ایم کے نمائندے کو ڈپٹی چیئرمین سینیٹ نامزد کر سکتی ہے۔ تاہم اس عہدے پر فرشتوں کا کوئی چہیتا بھی سامنے آ سکتا ہے۔ گورنر پنجاب کیلئے پیپلز پارٹی مخدوم احمد محمود، ندیم افضل چن اور قمر الزمان کائرہ میں سے کسی ایک کو نامزد کرے گی۔ پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی تازہ سیاسی سرشت کو دیکھتے ہوئے، سیاسی تقاضوں اور سیاسی خاندانوں سے قریبی روابط کی بنا پر عوامی سیاست کرنے والے ندیم افضل چن کے گورنر پنجاب بننےل کا زیادہ امکان ہے۔ تاکہ وہ گورنر ہاؤس میں بیٹھ کے پیپلز پارٹی کو پنجاب میں زندہ کرنے کا فریضہ سر انجام دے سکیں۔ایسی صورت میں قمر الزمان کائرہ کو کھپانا پیپلز پارٹی کیلئے ایک مسئلہ ہوگا۔ شاید انہیں پارٹی کا صوبائی صدر بنا دیا جائے۔ سندھ کا گورنر بدستور ایم کیو ایم سے لیا جائے گا۔ مسلم لیگ یہ قربانی بھی دے گی۔ خیبر پختونخوا کی گورنری پی ٹی آئی کے کسی منحرف رہنما یا اے این پی کو دی جا سکتی ہے جبکہ بلوچستان کا گورنر مولانا فضل الرحمن کو منائے جانے کی صورت میں جمعیت علماء اسلام سے لیا جا سکتا ہے۔ جس کیلئے پس پردہ مذاکرات چل رہے ہیں۔ صوبائی سطح پر پنجاب کی وزیر اعلی مسلم لیگ (ن) کی محترمہ مریم نواز، سندھ کے وزیر اعلی پیپلز پارٹی کے مراد علی شاہ، بلوچستان کے وزیر اعلی پیپلز پارٹی کے سرفراز بگٹی اور خیبر پختونخوا کے وزیر اعلی تحریک انصاف کے علی امین گنڈا پور ہوں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ گورنر سندھ ایم کیو ایم سے لئے جانے، ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی کیلئے پیپلز پارٹی کی جانب سے کسی خاتون ایم این اے کی نامزدگی اور سپیکر پنجاب اسمبلی کیلئے مجتبی شجاع الرحمن کی نامزدگی کی خبر بھی درست ثابت ہوئی ہے۔ مزید براں یہ کہ نئی حکومتیں عوامی توقعات پر کتنا پورا اترتی ہیں اس کا فیصلہ تو آنے والا وقت کرے گا تاہم نگران وفاقی حکومت جاتے جاتے میاں شہباز شریف کی آنے والی حکومت کیلئے پندرہ سال بعد ایران گیس پائپ لائن منصوبے کی تکمیل کا اہم اور تاریخی فیصلہ کرکے ایک مثبت بنیاد رکھ گئی ہے۔ جس کا خواب ماضی میں اس وقت کے صدر آصف علی زرداری کی قیادت میں پیپلز پارٹی نے دیکھا تھا۔ اطلاعات ہیں کہ کابینہ توانائی کمیٹی نے ایرانی بارڈر سے گوادر تک اکیاسی کلومیٹر طویل پائپ لائن بچھانے کی منظوری دے دی ہے۔ جس کی تعمیر پر پینتالیس (45) ارب روپے لاگت آئے گی۔ پائپ لائن بچھانے سے پاکستان ایران کو اٹھارہ ارب ڈالر جرمانے کی ادائیگی سے بھی بچ جائے گا اور ایل این جی کے مقابلے میں ایران سے ساڑھے سات سو ملین کیوبک فٹ گیس انتہائی سستی مل جائے گی۔ ایران سے گیس خریدنے کے نتیجے میں پاکستان کو سالانہ پانچ ارب ڈالر سے زائد کی بچت ہوگی۔