اسلام آباد: متحدہ اپوزیشن نے  حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ  کے مشترکہ اجلاس میں منظور کردہ قوانین کو چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پارلیمنٹ ہاؤس  کے باہر بلاول بھٹو زرداری اور مولانا اسعد محمود کے ہمراہ میڈیا سے بات کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ آج پارلیمنٹ کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ حکومت نے پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں تمام روایت کو پیروں تلے روند دیا۔ ہم نے کہا کہ قواعد پر عمل کیا جائے۔سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے ہماری ایک بات بھی نہیں مانی، میں ، بلاول بھٹو اور اسعد محمود نے اسپیکر کو بہت سمجھانے کی کوشش کی لیکن انہوں نے بات نہیں مانی۔ اجلاس میں ہماری تعداد 200 سے اوپر تھی، حکومتی لوگوں کے ووٹ زیادہ گنے گئے۔ سپیکر سے بار بار درست ووٹنگ کرانے کا کہا۔ ای وی ایم کو ایول ورچوئل مشین کہتا ہوں۔ ای وی ایم ہم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔، ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے، الیکشن ترمیمی بل سمیت دیگر بلوں کو عدالت میں چیلنج کریں گے۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے مشترکہ اجلاس کے اپنے قواعد ہوتے ہیں، مشترکہ اجلاس میں حکومت کی جیت نہیں ہوئی ، حکومت کو شکست ہوئی ہے، جوائنٹ سیشن میں قانون سازی کے لئے 222 حکومتی اراکین کا ہونا ضروری ہے، حکومت کے نمبرز پورے نہیں تھے۔