سائفر کیس،،،عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت منظور
اسلام آباد: سپریم کورٹ نے سائفر کیس سابق چئیرمین پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی کی ضمانت کی درخواست منظور کرلی۔ عدالت نے دس، دس لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض پی ٹی آئی کے سابق چئیرمین عمران خان اور شاہ محمود قریشی کی درخواست ضمانت منظور کی۔ mسپریم کورٹ کے 3
سپریم کورٹ نے سائفرکیس میں ضمانت کا تحریری فیصلہ جاری کردیا جس میں کہا ہے کہ ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ عمران خان نے سائفر کو کسی ملک کو فائدہ پہنچانے کے لیے پبلک کیا، جسٹس اطہرمن اللہ نے لکھا ہے کہ ملزمان کی گرفتاری کا کوئی فائدہ نہیں ان کی رہائی کے ذریعے اصلی انتخابات کو یقینی بنائیں گے۔ سپریم کورٹ نے سائفر کیس میں بانی چیئرمین عمران خان اور رہنما شاہ محمود قریشی کی ضمانت کا تحریری فیصلہ جاری کردیا جسے جسٹس منصور علی شاہ نے تحریر کیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ خفیہ معلومات کو غلط انداز میں پھیلانے کی سزا دو سال ہے، آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی جن شقوں کا اطلاق سائفر کیس میں کیا گیا وہ قابل ضمانت ہیں۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ عمران خان نے دوسرے ملک کے فائدے کے لیے سائفر کو پبلک کیا ایسے کوئی شواہد نہیں ملے، فیصلے میں دی گئی آبزویشنز ٹرائل کو متاثر نہیں کریں گی، بانی پی ٹی آئی ضمانت کا غلط استعمال کریں تو ٹرائل کورٹ اسے منسوخ کر سکتی ہے۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی سیکشن 5(3) بی کے جرم کا ارتکاب ہونے کے شواہد نہیں، ملزمان کے آفیشل سیکرٹ ایکٹ کے جرم کے ارتکاب کے لیے مزید انکوائری کے حوالے سے مناسب شواہد موجود ہیں مزید تحقیقات کا فیصلہ ٹرائل کورٹ شواہد کا جائزہ لینے کے بعد ہی کرسکتی ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ آفیشل سیکرٹ ایکٹ کی شق (3) 5 بی کے تحت سزا 14 سال ہے جو کہ ناقابل ضمانت ہے، دستیاب مواد سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ بانی چیئرمین نے سائفر کسی غیر ملک طاقت کو فائدہ دینے کے لیے استعمال کیا، یقین کرنے کیلئے ایسی معقول وجہ نہیں ہے کہ بانی چیئرمین نے آفیشل سکریٹ ایکٹ کی شق پانچ کی ذیلی شق تین بی کے جرم کا ارتکاب کیا یا نہیں یہ بات حتمی طور پر ٹرائل کورٹ ہی طے کری گی۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ ہائیکورٹ کا عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو ضمانت نہ دینا دستیاب مواد کے خلاف ہے ہائی کورٹ نے ضمانت نہ دے کر حقائق کے برخلاف رائے دی۔ جسٹس اطہر من اللہ نے فیصلے میں اضافی نوٹ تحریر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ درخواست گزار معاشرے کے خلاف جرم میں ملوث نہیں، ملزمان کی گرفتاری کا کوئی فائدہ نہیں ہوسکتا پورا ٹرائل دستاویزات شواہد پر منحصر ہے ملزمان کی انتخابات کے دوران رہائی کے ذریعے اصلی انتخابات کو یقینی بنائیں گے، کیس میں ایسے حالات نہیں کہ ضمانت مسترد کی جائے۔



































Visit Today : 463
Visit Yesterday : 634
This Month : 15861
This Year : 63697
Total Visit : 168685
Hits Today : 6465
Total Hits : 871631
Who's Online : 4




















