ناروے: ایران سے تعلق رکھنے والی ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ قیدی نرگس محمدی امن کے نوبل انعام برائے سال 2023 کی حقدار ٹھہریں جنھوں نے خواتین کے حقوق کے لیے آواز اُٹھانے پر قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں اور اب بھی جیل میں سزا بھگت رہی ہیں۔رواں برس نوبل انعام برائے ایران کی نرگس محمدی کے نام رہا جنھیں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے کی پاداش میں 13 بار گرفتار کیا گیا اور 5 مقدمات میں مجموعی طور پر 31 سال قید اور 154 کوڑوں کی سزا سنائی گئی۔نرگس محمدی امن کا نوبل انعام جیتنے والی 19 ویں خاتون بن گئیں۔ خیال رہے کہ نوبل انعام برائے امن کی مالیت 1 ملین ڈالر کے برابر ہے جو 10 دسمبر کو دیاجائے گا۔نوبل کمیٹی نےاعلان کرتے ہوئے کہا کہ نرگس محمدی کو ایران میں خواتین کے ساتھ ہونے والے ظلم کے خلاف ان کی جدوجہد اور سب کے لیے انسانی حقوق اور آزادی کے فروغ کے لیے ان کی جدوجہد پر امن کے نوبل انعام 2023 دینے کا فیصلہ کیا ہے۔نرگس محمدی کا شمار سخت گیر اور بنیاد پرست ملک ایران میں انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے سرکردہ کارکنوں میں سے ایک ہیں علاوہ ازیں نرگس محمدی 2003 کے نوبل امن انعام یافتہ انسانی حقوق کی کارکن شیریں عبادی کی زیرقیادت ایک غیر سرکاری تنظیم ڈیفنڈرز آف ہیومن رائٹس سینٹر کی نائب سربراہ بھی ہیں۔