اسلام آباد(عباس ملک )حکومت اور کالعدم تحریک لبیک کی مجلس شوریٰ کے درمیان مذاکرات کاایک اور دور ہونے کا امکان ہے۔ وفاقی حکومت اور کالعدم تحریک لبین کے مابین مذاکرات میں معاملات طے پاگئے ہیں،طے شدہ معاملات پر عملدرآمد کی ذمہ داری سیکرٹری داخلہ یوسف نسیم کھوکھر کو دی جائے گی، تاہم حکومت اور مذہبی تنظیم کی مجلس شوریٰ کے درمیان مذاکرات کاایک اور دور ہونے کا امکان ہے۔ذرائع کے مطابق حکومتی کمیٹی کے ارکان اسیپکر قومی اسمبلی اسد قیصر، وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی اورعلی محمد خان کچھ دیر بعد پریس کانفرنس کریں گے، اور سابق چیئرمین رویت ہلال کمیٹی مفتی منیب الرحمان بھی پریس کانفرنس میں شریک ہوں گے، حکومتی و مذہبی قیادت پریس کانفرنس میں مذاکرات میں پیش رفت سے آگاہ کریں گے، پریس کانفرنس مذاکرات کے فوری بعد ہونی تھی لیکن حکومتی اور مذہبی قیادت کی مشترکہ پریس کانفرنس تاخیر کا شکار ہوگئی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ پریس کانفرنس کالعدم جماعت کی مجلس شوریٰ کی  مظاہرین سے مشاورت کے باعث ملتوی کی گئی ہے۔ذرائع نے بتایا کہ معاملات معمول پر لانے سے پہلے کالعدم تنظیم کے لوگ جی ٹی روڈ پر دھرنا ختم کر کے واپس جائیں گے، گرفتار کارکنوں کی رہائی قانونی ضابطے پورے کر کے عمل میں لائی جائے گی، وفاقی حکومت بین الاقوامی ضابطوں کو مدنظر رکھتے ہوئے مرحلہ وار اقدامات کرے گی۔