اسلامیہ یونیورسٹی سیکس سکینڈل متبادل بیانیہ
نقطہ نظر: میر احمد کامران مگسی
آج کل اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور اپنے ہی چیف سیکورٹی آفیسر میجر ریٹائرڈ سیداعجاز شاہ کے سیکس سکینڈل کے حوالے سے زیر عتاب ہے اور سوشل میڈیا پر اس عظیم مادر علمی کے حوالے سے انتہائی منفی اورنا زیبا گفتگوزوروں پر ہے۔ اس حوالے سے گذشتہ کئی دنوں سے ایک طوفان بد تمیزی برپا ہے ۔ ہر انسان اپنے اپنے ویژن اور سوچ کے مطابق اپنے نقطہ نظر کا ظہار کر رہا ہے۔ اہل مدارس کو موقع مل گیا ہے کہ وہ مدارس کے حوالے سے وائرل ہونے والی سیکس سٹوریز کے بدلےکو بنیاد بنا کر جدید اور مخلوط نظام تعلیم کے لتے لینا شروع ہو گئے ہیں اور خوب بھڑاس نکال رہے ۔ کئی دنوں کے میڈیا ٹرائل کے بعد آج بالآخر وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب کو ان کے منصب سے فارغ کر دیا گیا ہے۔ اور بہت سے لوگ جو اس معاملہ میں وائس چانسلر کی برطرفی کے لئے آوازیں اٹھا رہے تھے یہ خبر سن کر فتح کے شادیانے بجا رہے ہیں۔ جب کہ کچھ لوگ اسے یونیورسٹی کے خلاف ایک کامیاب سازش قرار دے کر کف افسوس مل رہے ہیں۔ یہ ایک انتہائی حساس اور پریشان کن صورتحال ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ ستر سالوں میں سرائیکی خطے کو ہر لحاظ سے پس ماندہ رکھا گیا اوراس خطے کے دور دراز پسماندہ علاقوں میں رہنے والے بچےاعلی تعلیم کے حصول کا محض خواب ہی دیکھ سکتے ہیں۔ایسے میں اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور کا وجود ان کے لئے تپتے صحرا میں نخلستان سامنے آجانے کے مترادف ثابت ہو رہا تھا۔ اب موجودہ سیکس سکینڈل کے بعد ان گھرانوں کی بچے اور بلخصوص لڑکیوں کے لئے تعلیم جاری رکھنا اور اس ادارے میں داخلہ لینے کی خواہش کرنا ایک مشکل ترین امر بن جائے گا کیونکہ نہ تو والدین اس سماجی دباؤ کو برداشت کر سکیں گے جو اس بدنامی کے بعد بڑی شدت سے بڑھ رہا ہے اور نہ ہی تعلیم حاصل کرنے کی خواہشمند بچیاں اپنے والدین کو وہ اعتماد دے سکیں گی جس کے نتیجے میں والدین اپنی بچیوں کو دور دراز بھیجنے پر آمادہ ہوتے تھے۔
اگر ہم غیر جاندارانہ جائزہ لیں تو کہانی میں کہیں نہ کہیں جھول نظر آتا ہے۔ سب سے پہلے تو اس کی ٹائمنگ بڑی منصوبہ بندی سے فکس کی گئی ہے۔ جس وقت موجودہ وائس چانسلر کی مدت ملازمت ختم ہو رہی ہے اور وہ نگران سیٹ اپ کی پالیسی کے تحت توسیع ملازمت کیلئے لاہور میں موجود تھے اور ایسے میں 5500 فحش ویڈیو کلپس اور تصاویر کا سیکنڈل بمعہ منشیات بشمول شراب و آئس سامنے آنے سے گویا ایک بم پھوڑ دیا گیا ۔ جبکہ نہ تو ایف آئی آر میں 5500 ویڈیوز کا ذکر ہے اور نہ ہی پویس کی کوئی اور رپورٹ اس کی تصدیق کر سکتی ہے۔ کہانی کا جھول یہیں پر سامنے آتا ہے ۔ڈسٹرکٹ پولیس آفیس بہاولپور براہ راست اس کیس کو ڈیل کر رہے ہیں ان کے مطابق سید اعجاز شاہ سے برآمد ہونے والے دو فون سیٹوں میں 400 کے قریب ویڈیو کلپس موجود پائے گئے ہیں۔ جو کہ بذات خود ایک ناقابل برداشت فعل ہے ۔ ایسا شخص جس کی ڈیوٹی ہی یہ ہو کہ وہ اس ادارے میں پڑھنے والے ہر بچے اور بچی کو ایسا ماحول فراہم کرے جہاں وہ کسی قسم کے خوف اور ہراسمنٹ کے تصور کے بغیر اپنی تعلیم جاری رکھ سکیں ، وہی انسان بھیڑیا بن کر ان بچیوں کو نوچنے لگ جائے تو یہ بات نہ تو نظر انداز کی جا سکتی ہے اور نہ ہی اسے معاف کیا جا سکتا ہے بلکہ ایسے کرداروں کو نشان عبرت بنایا جانا ہی عین انصاف ہے۔نجانے ان ریٹائرڈ عسکریوں میں ایسے کیا لعل جڑے ہیں کہ پاکستان کا ہر اہم محکمہ ان کے سپرد کر دیا جاتا ہے اور پھر وہ محکمہ دیکھتے ہی دیکھتے بربادی کا سماں پیش کر رہا ہوتا ہے۔ یہ تو وہ بلے ہیں جنہیں ہم دودھ جیسی مقدس چیز کی رکھوالی پر مسلط کرتے ہیں۔ کورونا ریلف فنڈ ہو، نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ ہو، سی پیک ہو، واپڈا ہو، سپارکو ہو، پی آئی اے، ہو سٹیل ملز ہوں یا بیسیوں اور محکمے جہاں ان سپوتوں نے اپنی فتوحات کے ایسے جھنڈے گاڑے ہیں کہ پناہ بخدا۔ رہی سہی کسر اس ریٹائرڈ میجر نے آکر پوری کر دی ہے۔اس کے ذرخیز ذہن نے لڑکیوں کو گھیرنے اور اپنی جنسی درندگی نشانہ بنانے کیلئے یونیورسٹی میں ایسے گرے ایریا ز میں سی سی ٹی وی کیرمے فٹ کر رکھے تھے جہاں پر اگر کوئی لڑکا یا لڑکی ڈیٹ پر جاتے تو یہ ان کی ویڈیوز بنا کر ان کو بلیک میل کرتا اور پھر ان کے ذریعے منشیات فروشی کی جاتی اور افسران ِ بالا کو خوش کرنے کیلئے ان لڑکیوں کا استعمال کیا جاتا ۔ اس سیکورٹی انچارج نے والدین اور سماج کے اعتماد کو ایسا گھائل کیا ہے نجانے کتنا عرصہ لگے گا ان زخموں کے مندمل ہونے میں ۔اس کے علاوہ پانچ اساتذہ اور گیارہ سٹودنٹس کے نام سامنے آئے ہیں۔ جہاں تک وائس چانسلر کا تعلق ہے ابھی تک اس کا نام براہ راست کسی ایسے سیکینڈل میں ملوث ہونے کے ثبوت سامنے نہیں آئے ہیں۔ تاہم ایک سربراہ ادارہ ہونے کے ناطے اپنے زیر سایہ ہونے والی ایسی مذموم اور قبیح حرکات کو نظر انداز کرنے کا انہیں ہر حال میں جواب دینا ہو گا۔
اب ہم ان وجوہات کو دیکھتے ہیں جو اس خدشے کو تقویت دے رہے ہیں کہ یہ سکینڈل اور اس کے نتیجے میں وائس چانسلر کو ٹارگٹ کرکے گھیر گھار ملوث کرنے کے کیا مقاصد ہو سکتے ہیں۔کیا صرف یہ پوزیشن کے حصول کی جنگ ہے جس میں اندرونی و بیرونی عناصر ملوث ہیں یا اس جنگ کا مقصد ادارے کی بڑھتی ہوئی مقبولیت سے خوفزدہ ہو کر ادارے کو ہی فلاپ کرنا ہے۔ گذشتہ مہینے Academic Research and development activities کے زیر اہتمام سرائیکی وسیب سے تعلق رکھنے والے میڈیا پرسنز اور مختلف مکتبہ ہائے فکر کی نمائندہ شخصیات کو یونیورسٹی کے بارے میں تفصیلی بریفنگ کا اہتمام کیا گیا تھا ۔اس بریفنگ میں مجھے بھی اپنے دوستوں ملک ارشد اقبال بھٹہ اور ملک امجد سعید تھہیم کے ہمراہ جانے کا موقع میسر آیا۔ ہم نے سٹی کیمپس اور بغداد الجدید کا تفصیل دورہ کیا اور آخر میں وائس چانسلر کی بریفنگ میں شریک ہوئے ۔ جب ہم الصبح بغداد الجدید کیمپس میں پہنچے تو بچے اور بچیاں اپنی کلاسز میں شیرک ہونے کیلئے سڑکوں اور راستوں میں رواں دواں نظر آئے۔ پنجاب کی دوسری جامعات کی نسبت یہاں لڑکیوں کے ڈریس کوڈ میں واضح فرق دیکھا جا سکتا تھا۔ بیشتر لڑکیاں روایتی عبایا اور نقاب میں گھوم رہی تھیں۔ شاذ ہی کسی لڑکی کاچہرہ دیکھ پائے ہم ۔ میرے لئے یہ ایک غیر متوقع صورتحال تھی کہ آج بھی مشرقی روایات اور مسلم گھرانوں کی روایات کو لیکر یہاں کی بچیاں حصولِ تعلیم میں مصروف عمل ہیں۔آج جب میں یہ مضمون قلم بند کر رہا ہوں تو مجھے یہ سوچ کر ہی کپکپی سی طاری ہو رہی ہے کہ جن ظالموں نے اپنے مقاصد کی تکمیل کیلئے ان بچیوں کی عصمت کا سودا کیا اور 5500 وڈیوز کا شوشاچھوڑکرجوسنسنی پیدا کی گئی ہے اس کے نتیجے میں ان بچیوں سے وابستی فیملیوں میں کتنی بے چینی اور اضطراب ہو گا؟ اس سنسنی پھیلانے والوں کبھی سوچا ہو گا ان ہزاروں طالبات کے والدین اور لواحقین پر کیا گزر رہی ہو گی جن کی بہنوں،بیٹیوں کو ان سوشل میڈیائی دانشوروں نے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے مشکوک قرار دے دیا ۔دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیئے جس بچی کی چند دن بعد شادی ہو نے والی ہو اور صرف اس وجہ سے اس کی شادی سے انکار ہو جائے کہ وہ اسلامیہ یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم رہی ہے ۔ کسی بچی کا رشتہ دیکھنے کیلئے آنے والے محض اس لئے رشتہ ٹھکرا دیں کہ بچی تو ایک سیکندل زدہ ادارے سے فارغ التحصیل ہے۔ اس بھائی کے جذبات کا اندازہ لگائیں جو دوستوں کے طعنوں کے باعث نظریں نیچی جھکائے پھرے کہ کہیں دوست اسے طعنہ نہ دیں کہ تمہاری بہن تو جامعہ اسلامیہ کی سٹوڈنٹ ہے۔ 5500 والی سٹوری پر یقین کرنے کا مقصد ہے کہ ہم مان لیں یونیورسٹی سٹوڈنٹس کی اکثریت اسی دھندے کا حصہ ہے جب کہ ایسا عملی طور پر ممکن نہیں ہو سکتا ہے۔
جب ہم وائس چانسلر کی بریفنگ میں پہنچے تو برطرف وائس چانسلر ڈاکٹر اطہر محبوب اپنے چار سال دور کے اقدامات بتانے کیلئے بیقرار نظر آئے۔ ان نے جو اقدامات اٹھائے اور اپنے برین چائلڈ پروجیکٹس کی تفصیل جس فاتحانہ انداز میں بتائے وہ حیرت انگیز اور ناقابلِ یقین نظر آئے کہ اتنے مختصر وقت میں ایک ادارہ کیسے اتنی جناتی چھلانگیں لگا سکتا ہے۔ لیکن حقائق بتا رہے تھے کہ یہ سب کچھ عملی طور پر وقوع پذیر ہو چکا ہے۔ جس کے نتیجے میں جامعہ اسلامیہ سرائیکی وسیب میں ورلڈ کلاس یونیورسٹی کا درجہ لے چکی ہےاس دوران ہمیں محسوس ہوا کہ ڈاکٹر صاحب اپنی چار سالہ کارکردگی کو اوپن اور ٹرانسپیرنٹ رکھنے کیلئے پر عزم ہیں اور انہوں نے اسی مقصد کیلئے یہ سیشن رکھا ہے تاکہ ان کے منصوبوں اور کارکردگی پر کھل کر گفتگو کی جا سکے اور اس کے عیوب و محاسن کو زیرِ بحث لا کر اس میں مزید بہتری کی گنجائش پید کی جا سکے اور احتساب کے نظام کوبہتر بنانے کیلئے اپنے آپ کو پبلک کے سامنے پیش کر رہے ہیں۔ اس دوران مختلف موضوعات سمیت ہراسمنٹ اور یونیورسٹی میں آئس جیسے نشہ کے استعمال کے امکان پر بھی گفتگو ہوئی اور انہوں نے اس کی روک تھام کیلئے سیکسوئل ہراسمنٹ سنٹر کے قیام کا علان کیا۔
جامعہ کے بارے میں جو حقائق میرے علم میں ہیں میں چاہتا ہوں کہ اپنے قارئین کو بھی ان سے آگاہ کروں ۔ اس سلسلے میں مختصراً آپ کو جامعہ کی تاریخ اور انقلابی اقدامات پر روشنی ڈالتا ہوں۔ علامہ محمد اقبال اور سید سلیمان ندوی جیسے نابغہ عصرعمائدین امت کی تحریک پر نواب صادق خان پنجم نے 1925ء میں جامعہ عباسیہ کے نام سے اسکی داغ بیل ڈالی اور جامعہ الازہر مصر کے ماڈل پر اسے چلانے کا فیصلہ کیا۔ ابتداً اس میں کلیۃ طب والجراحت اور کلیۃ العلوم الاسلامیہ کے شعبہ جات قائم کئے گئے ۔ ویسٹ پاکستان گورنمنٹ ایکٹ کے تحت 1963 میں اسے جامعہ اسلامیہ کا نام دیا گیا۔ 1975ء میں شہید ذوالفقار علی بھٹو کی خصوصی دلچسپی کے باعث سرائیکی خطے کو دو یونیورسٹیاں (گومل یونیورسٹی اور ملتان یونیورسٹی ) کےتحفے دیئے گئے تو ساتھ ہی ایک خصوصی ایکٹ کے تحت جامعہ اسلامیہ کو پبلک یونیورسٹی کا درجہ دیا گیا۔ یوں سرائیکی خطے کو تین میجر یونیورسٹیاں ملنے سے وسیب میں سوشیو اکنامک اپ گریڈیشن کے ساتھ یہاں کی تتہذیب وتمدن اور کلچر میں بھی نکھار پیدا ہونا شروع ہو گیا۔ اور مختصر عرصے میں لوگوں کے رہن سہن ، طرز زندگی میں واضح تبدیلیاں دیکھنے میں آئیں۔ اب ہم اختصار اختیار کرتے ہوئے اپنا فوکس ایک مرتبہ پھر جامعہ اسلامیہ کی طرف کرتے ہیں۔ سٹی کیمپس یونیورسٹی کا ابتدائی کیمپس ہے جہاں ایڈمن آفسز اور لا کلاسز ہوتی ہیں جبکہ خواجہ فرید کیمپس میں طب اور فارمیسی کے شعبہ جات قائم کئے گئے ہیں۔ ساڑھے بارہ سو ایکڑ پر پہلے بغداد الجدید کیمپس میں 2019 تک 13000 سٹوڈنٹس انرول تھے پھر یقدم اس میں ہمیں ایک جمپ نظر آتا ہے جب برطرف وائس چانسلر اطہر محبوب 2019ء نامزد کئے جاتے ہیں اور وہ اس انرولمنٹ کو بڑھا کر 65000 تک لے آتے ہیں۔ موجودہ انفراسٹرکچر میں ان 65000 ستوڈنٹس کو تعلیم دینا ہرگز ممکن نہ ہوتا اگر BLT پالیسی کو بروئے کار لاکر نئی عمارات کی تعمیر اور کلاسز کو آفٹر نون شفٹوں تک توسیع دینے جیسے اقدامات نہ کئے جاتے۔ ان 65000طلباء و طالبات میں 71٪ کا تعلق بہاولپور ڈویژن سے ہے ، 22٪ ملتان ڈیجی خان ڈویژنوں سے، 3٪ سنٹرل پنجاب سے، بلوچستان سے تقریباً ایک ہزار سٹوڈنٹ، 500 فاٹا سے، 400 گلگت بلتستان سے، 300 سندھ سے اور 70 بچے بچیاں آزاد جموں و کشمیر سے زیر تعلیم ہیں جن کو پڑھانے کیلئے 800 پی ایچ ڈی اساتذہ کو تعینات کیا گیا ہے۔ دور دراز کے پس ماندہ علاقوں سے بچوں بچیوں کو پک اینڈ ڈراپ دینے کیلئے بسوں اور دیگر ٹرانسپورٹ کی شفٹوں اور روٹس میں حسب ضرورت اضافہ کیا گیا اور 50 کلو میٹر کے ریڈئیس کو بڑھا کر سو کلومیٹر کے دائرے میں رہنے والے تمام سٹودنٹس کو ٹرانسپورٹ کی سہولت مہیا کی گئی۔ اس کے علاوہ بہاولنگر، رحیم یار خان ، احمد پور شرقیہ (میں لینڈ اکوائر ہو چکی ہے اور بلڈنگ کی تعمیر پر کام جاری ہے)، لیاقت پور کے کیمپسز اور الائیڈ اداروں کی اپ گریڈیشن اور انرولمنٹ میں بڑھوتری کی تفصیلات بھی فراہم کی گئیں۔یونیورسٹی کا اپنا سولرپارک اور اپنے ہی درختوں کی لکڑی سے فرنیچر بنانے کا کارخانہ بھی اسے دوسری جامعات سے منفرد و ممتاز بناتا ہے۔
اس قت یونیورسٹی میں 140 کے قریب سبجیکٹس اور ڈسپلنز پڑھائے جا رہے ہیں۔ جن میں 125 تو ٹیکنکل اور سائنس سبجیکٹس ہیں جبکہ 15 سبجیکٹس کا تعلق انسانی رویوں، اخلاقیات سے ہے جن میں قابل ذکر Communication Skills, Critical Thinking & Reasoning, Basic Health awareness. وغیرہ شامل ہیں اس کے علاوہ تمام سٹوڈنٹس کیلئے ایک نیا سبجیکٹ لازمی کے طور پر متعارف کروایا گیا ہے جس کا نام Under Standing The Quran ہے۔ جس میں قرانک فہم کیلئے گرامر کی مبادیات، صرف اور نحو کے ساتھ اخلاقیات کی تعلیم کا خصوصی اہتمام کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ 60 سے زائد سبجیکٹس میں پی ایچ ڈی کروائی جا رہی ہے جو خود ایک ریکارڈ ہے۔
نئے قائم کئے جانے والے شعبہ جات میں نرسنگ پروفیشن کی تعلیم ڈاکٹر اطہر محبوب کا اپنا برین چائلڈ پروجیکٹ ہے جس میں بی ایس نرسنگ کے علاوہ ایم ایس اور پی ایچ ڈی لیول تک تعلیم دینے کا پروگرام شامل ہے۔ اس کے علاوہ زراعت میں جدید ترین ٹیکنالوجی کا استعمال اور ڈیزرٹ ایکو سسٹم سے مطابقت رکھنے والی فصلوں جیسا کے کپاس، کماد، گندم، چنا وغیرہ کی نئی ورائیٹیز لانے کیلئے جینٹکس کے شعبہ کی شاندار کارکردگی کا ذکر نہ کرنا بھی بخل ہو گا۔ جبکہ خطے کی کلچرل ہیریٹیج کو محفوظ کرنے کیلئے ہاکڑا ڈیپارٹمنٹ کا قیام خود داد کا طلب ہے ۔سنٹر فار پرفرامنگ آرٹ اینڈ ڈیجیٹل میڈیا ے تحت سرائیکی اور انگلش ڈیپارٹمنٹس میں خصوصی کورسز متعارف کروائے گئے ہیں جن کے تحت انٹر نیشل لیول پرسرائیکی اور انگلش فیچر فلمز اور ڈاکیومنٹریز بنانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ۔ فری لانسنگ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ کے تصورات دیکر بچوں کو خود انحصاری اور ملکی معیشت میں خاطر خواہ حصہ ڈالنے کے قابل بنانے کیلئے خصوصی تربیت کے کورسز کروائے جا رہے ہیں۔سب سے بڑھ کر سٹودنٹس میں قائدانہ کردار ابھارنے اور ان کی پرسنیلٹی گرومنگ کیلئے ینگ لیڈرز پروگرام متعارف کروائے گئے ہیں جن کے تحت Dressing Etiquettes کمیونیکشن سکلز کے ساتھ ساتھ ان طلباء و طالبات کے خصوصی سیشنز کروائے جاتے ہیں جن میں ان کو مواقع فراہم کئے جاتے ہیں کہ وہ ڈپٹی کمشنر لیول کے افسران ،میڈیا سے تعلق رکھنے والے لوگوں، جیوڈیشری، کور کمانڈرز، گورنرز وفاقی و صوبائی وزراء سے سیشن کرائے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں ان میں سیلف کانفیڈینس کا لیول بڑھتا ہے ۔ یہاں سے پاس ہونے والے بچوں کو سکالر شپ پر امریکہ اور ہاورڈ میں ایک سمسٹر پڑھایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ competitive exam کی تیاری کیلئے پہلے سٹودنٹس کو لاہور کی اکیڈمیوں میں جا کر کثیر رقم اور وقت صرف کرنا پڑتا تھا۔ سٹودنٹس کو وہی سہولت اب تین گنا کم خرچے میں جامعہ اسلامیہ میں دستیاب ہے۔ یہی وہ وجوہات ہیں جن کی بدولت جامعہ اسلامیہ کا شمار فورتھ جنریشن کی جامعات میں ہو رہا ہے۔
مندرجہ بالا سارے انقلابی اقدامات کو دیکھ کر مجھے خدشات ہو رہے تھے کہ وہ لوگ کیسے اس ترقی کو برداشت کر پائیں گے کہ کم قیمت میں بچوں کو جدید ترین تعلیمی سہولیات اور موقع فراہم کئے جائیں جو یہاں اپنی پرائیویٹ یونیورسٹیاں بنانے کے لئے سرگرمِ عمل ہیں اس کے علاوہ جتنی سپیڈ میں ڈاکٹر صاحب نے معاملات اور شعبہ جات کو اپ گریڈ کیا ہے بہت سے اندرونی وا بیرونی لوگوں کیلئے اس کا ہضم کیا جانا یقیناً بہت مشکل کام ہو گا اور وہی ہوا کچھ ہی عرصے میں سیکس سکینڈل کو بنیاد بنا کر ڈاکٹر صاحب کو بر طرف کر دیا گیا جبکہ ان بنیادی پالیسیوں کو نہ تو ہائی لائیٹ کیا گیا ہے جن کی بدولت لڑکوں کا استحصال کیا جاتا ہے اور لڑکیوں کو ہراسمنٹ کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جن میں سر فہرست اساتذہ کا سیشنل مارکس کا اختیار ہے، اس کے علاوہ جی پی گریڈ بڑھانے کی لالچ، غیر ملکی سکالر شپ کا حصول میں مشکلات کھڑی کرکے اپنے من پسند افراد کو باہر بھیجنے جیسے استحصالی ہتھکنڈے جب تک ختم نہیں کئے جاتے چہروں کے بدلنے سے کوئی تبدیلی آنے والی نہیں ہے۔ اب یہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی کا کام ہے کہ یونیورسٹی کے خلاف کی گئی اس سازش کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرے اور اس میں ملوش گھناؤنے کرداروں کو کسی قسم کی رعایت کئے بغیر عبرت ناک سزا دے۔